Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2281

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اونٹ والا بھی ہے، جو دوران سفر چلنے سے عاجز آکر راستے میں بیٹھ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنا قدم مبارک مارا تو وہ انتہائی پھرتیلا ہو گیا

1 hadith in this chapter

11292

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11292

Sahih

۔ (۱۱۲۹۲)۔ عَنْ أَبِی عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیِّ،یَقُوْلُ: إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ بَرَکَ بِہِ بَعِیْرٌ قَدْْ أَزْحَفَ بِہِ، فَمَرَّ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَہٗ: ((مَالَکَیَا جَابِرُ؟)) فَأَخْبَرَہُ، فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْبَعِیْرِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِرْکَبْ یَا جَابِرُ۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہُ لَا یَقُوْمُ، فَقَالَ لَہٗ: ((إِرْکَبْ۔)) فَرَکِبَجَابِرٌالْبَعِیْرَ، ثُمَّ ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَعِیْرَ بِرِجْلِہِ، فَوَثَبَ الْبَعِیْرُ وَثْبَۃً لَوْ لَا أَنَّ جَابِراً تَعَلَّقَ بِالْبَعِیْرِ لَسَقَطَ مِنْ فَوْقِہِ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِجَابِرٍ: ((تَقَدَّمْ یَا جَابِرُ الْآنَ عَلٰی أَھْلِکَ، إِنْ شَائَ اللّٰہُ تَجِدْھُمْ قَدْیَسَّرُوْا لَکَ کَذَا وَکَذَا)) حَتّٰی ذَکَرَ الْفُرُشَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لأمْرَأَتِہِ وَالثَّالِثُ لِلضَّیْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کا اونٹ تھک ہار کر اور چلنے سے عاجز ہو کر بیٹھ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: جابر! کیا بات ہے؟ انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتائی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری سے اتر کر سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اونٹ کی طرف گئے اور فرمایا: جابر! سوار ہو جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو کھڑا ہی نہیں ہوتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سوار تو ہو جاؤ۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اونٹ پر سوار ہوگئے اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پاؤں اونٹ کو مارا اوروہ اچھل کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اگر سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اونٹ کو قابو کرکے پکڑ نہ لیتے تو اوپر سے نیچے جا گرتے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اب تم چلو اور اپنے اہل خانہ میں پہنچو۔ تم گھر جا کر دیکھو گے کہ وہ تمہارے لیے فلاں فلاں چیز تیار کر چکے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بستروں تک کا بھی ذکر کیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (گھر میں) ایک بستر مرد کے لیے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔