Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2273

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ جاہلیت کے عیوب اور بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھا

2 hadiths in this chapter

11244

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11244

Sahih

۔ (۱۱۲۴۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ: أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُولُ: لَمَّا بُنِیَتِ الْکَعْبَۃُ کَانَ الْعَبَّاسُ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْقُلَانِ حِجَارَۃً، فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اجْعَلْ إِزَارَکَ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: عَلٰی رَقَبَتِکَ، مِنَ الْحِجَارَۃِ فَخَرَّ إِلَی الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَیْنَاہُ إِلَی السَّمَائِ فَقَامَ، فَقَالَ: ((إِزَارِی إِزَارِی)) فَقَامَ فَشَدَّہُ عَلَیْہِ۔ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَسَقَطَ مَغْشِیًّا عَلَیْہِ فَمَا رُؤِیَ بَعْدَ ذٰلِکَ الْیَوْمِ عُرْیَانًا)۔ (مسند احمد: ۱۴۱۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب (قبل از نبوت) کعبہ کی تعمیر کی گئی تو عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی پتھر لانے لگے۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ پتھروں کی تکلیف سے بچنے کے لیے تہبند اتار کر گردن پر رکھ لیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی بات مان لی، لیکن ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھے اورفرمایا: میری چادر، میری چادر مجھے دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور چادر باندھ لی۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس کے بعد کبھی بھی آپ کوبرہنہ حالت میںنہیں دیکھا گیا۔

11245

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11245

Sahih

۔ (۱۱۲۴۵)۔ عَنْ ہِشَامِ یَعْنِی ابْنَ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: حَدَّثَنِی جَارٌ لِخَدِیجَۃَ بِنْتِ خُوَیْلِدٍ، أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُولُ لِخَدِیجَۃَ: ((أَیْ خَدِیجَۃُ وَاللّٰہِ! لَا أَعْبُدُ اللَّاتَ وَالْعُزّٰی، وَاللّٰہِ! لَا أَعْبُدُ أَبَدًا۔)) قَالَ: فَتَقُولُ خَدِیجَۃُ: خَلِّ الْعُزّٰی، قَالَ: کَانَتْ صَنَمَہُمُ الَّتِی کَانُوا یَعْبُدُونَ ثُمَّ یَضْطَجِعُونَ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ام المؤمنین سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ایک ہمسائے نے ہمیں بیان کیا کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: خدیجہ! اللہ کی قسم! میں لات اور عزی کی عبادت نہیں کرتا، اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ان کی عبادت نہیں کروں گا۔ سیدہ نے جواباً کہا: آپ چھوڑیں اس عزی کی عبادت کو (اور پریشان نہ ہوں)۔ راوی کہتے ہیں: عزی ان کا ایک بت تھا، عرب لوگ اس کی عبادت کرکے سویا کرتے تھے۔