Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2272

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاموشی، گفتگو اور مزاح کا بیان

6 hadiths in this chapter

11238

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11238

Sahih

۔ (۱۱۲۳۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ کَلَامُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصْلًا یَفْقَہُہٗ کُلُّ أَحَدٍِ، لَمْ یَکُنْیَسْرُدُہُ سَرْدًا۔ (مسند احمد: ۲۵۵۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گفتگو اس قدر واضح ہوتی تھی کہ اسے ہر کوئی بخوبی سمجھ سکتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز تیز نہ بولتے تھے۔

11239

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11239

Sahih

۔ (۱۱۲۳۹)۔ عَنْ سِمَاکٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ: أَکُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ، فَکَانَ طَوِیلَ الصَّمْتِ قَلِیلَ الضَّحِکِ، وَکَانَ أَصْحَابُہُ یَذْکُرُونَ عِنْدَہُ الشِّعْرَ وَأَشْیَائَ مِنْ أُمُورِہِمْ، فَیَضْحَکُونَ وَرُبَّمَا یَتَبَسَّمُ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سماک کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے، صحابۂ کرام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں اشعار اور اپنے امور سے متعلقہ باتوں کا ذکر کر کے ہنستے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بسااوقات تبسم فرماتے۔

11240

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11240

Sahih

۔ (۱۱۲۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اِنِّیْ لَا اَقُوْلُ اِلَّا حَقًّا۔)) قَالَ بَعْضُ اَصْحَابِہِ: فَاِنَّکَ تُدَاعِبُنَا یارَسُوْلُ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: ((اِنِّیْ لَا اَقُوْلُ اِلَّا حَقًّا۔)) (مسند احمد: ۸۴۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔ بعض صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ بھی ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں صرف حق ہی کہتا ہوں۔

11241

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11241

Sahih

۔ (۱۱۲۴۱)۔ عَنْ اَنَسٍ ابْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَحْمَلَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّا حَامِلُوْکَ عَلٰی وَلَدِ نَاقَۃٍ۔)) قَالَ: یارَسُوْل اللّٰہِ! مَا اَصْنَعُ بِوَلَدِ نَاقَۃٍ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَھَلْ تَلِدُ الْاِبِلَ اِلَّا النُّوْقُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سواری طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم تجھے اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوہو، اونٹوں کو اونٹنیاں ہی جنم دیتی ہیں۔

11242

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11242

Sahih

۔ (۱۱۲۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ الْحُمَیْدِ بْنِ صَیْفِیٍّ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: اِنَّ صُھَیْبًا قَدِمَ عَلَیَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَیْنَیَدَیْہِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ، فَقَالَ: ((ادْنُ فَکُلْ)) فَاَخَذَ یَاْکُلُ مِنَ التَّمْرِ۔ فقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ بِعَیْنِکَ رَمَدًا۔)) فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنّمَا آکُلُ مِنَ النَّاحِیَۃِ الْاُخْرٰی، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد الحمید بن صیفی اپنے باپ وہ اپنے دادے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے خشک کھجوراور روٹی پڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا اور کھا۔ پس اس نے کھانا شروع کر دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: بیشک تیری آنکھ بیمار ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دوسرے کنارے سے کھا لیتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ بات سن کر مسکرا پڑے۔

11243

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11243

Sahih

۔ (۱۱۲۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ الْحُمَیْدِ بْنِ صَیْفِیٍّ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: اِنَّ صُھَیْبًا قَدِمَ عَلَیَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَیْنَیَدَیْہِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ، فَقَالَ: ((ادْنُ فَکُلْ)) فَاَخَذَ یَاْکُلُ مِنَ التَّمْرِ۔ فقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ بِعَیْنِکَ رَمَدًا۔)) فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنّمَا آکُلُ مِنَ النَّاحِیَۃِ الْاُخْرٰی، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک بکری کا گوشت پکایا گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ذراع (اگلی ٹانگ )کا گوشت لا دو۔ انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لادی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی دوسری اگلی ٹانگ کا گوشت لا دو۔ انہوں نے وہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لا کر دے دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: مجھے اس کی اگلی ٹانگ کا گوشت لا دو۔ اب کی بار سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بکری کی اگلی تو دوہی ٹانگیں ہوتی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! اگر تم تلاش کرتے تو تمہیں اور بھی مل جاتی۔