Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2274

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ

16 hadiths in this chapter

11246

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11246

Sahih

۔ (۱۱۲۴۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُعْطِیْتُ مَالَمْ یُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِیَائِ۔)) فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاہُوَ؟ قَالَ: ((نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ الْاََرْضِ وَسُمِّیْتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِیْ طَہُوْرًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِیْ خَیْرَ الْأُمَمِ۔)) (مسند أحمد: ۷۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے وہ چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، مجھے زمین کی چابیاںعطا کی گئی ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لیے پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے اور میری امت کو سب سے بہترین امت بنایا گیا ہے۔

11247

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11247

Sahih

۔ (۱۱۲۴۷)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أُوتِیتُ خَمْسًا لَمْ یُؤْتَہُنَّ نَبِیٌّ کَانَ قَبْلِی، نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ فَیُرْعَبُ مِنِّی الْعَدُوُّ عَنْ مَسِیرَۃِ شَہْرٍ، وَجُعِلَتْ لِی الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُورًا، وَأُحِلَّتْ لِیَالْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی، وَبُعِثْتُ إِلَی الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَقِیلَ لِی سَلْ تُعْطَہْ، فَاخْتَبَأْتُہَا شَفَاعَۃً لِأُمَّتِی وَہِیَ نَائِلَۃٌ مِنْکُمْ إِنْ شَائَ اللّٰہُ مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا۔)) قَالَ الْاَعْمَشُ: فَکَانَ مُجَاہِدٌ یَرٰی أَنَّ الْاَحْمَرَ الْإِنْسُ وَالْأَسْوَدَ الْجِنُّ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی خصوصیات سے نوازا گیا ہے کہ وہ مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو نہیںدی گئیں، دشمن پر میری ہیبت اور رعب کے ذریعے مدد کی گئی ہے، اس لیے دشمن مجھ سے ایک ماہ کی مسافت پر ہی مرعوب ہو جاتا ہے۔میرے لیےساری زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ بنایا گیا ہے، میرے لیے اموال غنیمت کو حلال کر دیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں، مجھے سرخ و سیاہیعنی تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا، مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو ئی دعا کریں جو مانگیں گے ملے گا، لیکن میں نے اس دعا کو آخرت میں اپنی امت کے حق میں سفارش کے طور پر محفوظ کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم میں سے جس آدمی نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا، اسے اس دعا (شفاعت) کا فائدہ ہوگا۔ اعمش راوی کہتے ہیں کہ مجاہد کہا کرتے تھے: سرخ و سیاہ میں سرخ سے انسان اور سیاہ سے مراد جن ہیں۔

11248

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11248

Sahih

۔ (۱۱۲۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أُعْطِیتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ نَبِیٌّ قَبْلِی وَلَا أَقُولُہُنَّ فَخْرًا، بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیرَۃَ شَہْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِی، وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُورًا، وَأُعْطِیتُ الشَّفَاعَۃَ فَأَخَّرْتُہَا لِأُمَّتِی، فَہِیَ لِمَنْ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو عطا نہیں کی گئیں تھیں، میں اس کا اظہار فخر کے طور پر نہیں، بلکہ اللہ کی نعمت اور احسان کے طور پر کر رہا ہوں۔ مجھے سرخ و سیاہیعنی تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے،ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب و ہیبت دشمن پر طاری کرکے میری مدد کی گئی ہے،اموال غنیمت کو میرے لیے حلال کر دیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے غنیمت کے اموال کسی کے لیے بھی حلال نہیں کیے گئے تھے، میرے لیے ساری زمین کو نماز کیجگہ اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے اور مجھے شفاعت کا اختیار دیا گیا ہے اور میں نے اس دعا کو اپنی امت کے ایسے لوگوں کے لیے مؤخر کر دیا ہے، جو اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب نہیں کریں گے۔

11249

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11249

Sahih

۔ (۱۱۲۴۹)۔ وَعَنْ أَبِیْ مُوْسٰی بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: ((وَأُعْطِیتُ الشَّفَاعَۃَ وَلَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَۃً، وَإِنِّی أَخْبَأْتُ شَفَاعَتِی، ثُمَّ جَعَلْتُہَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِیْ لَمْ یُشْرِکْ بِاللّٰہِ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۹۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، (یہ حدیث گزشتہ حدیث کی مانندہے) البتہ اس میں ہے: مجھے شفاعت کا اختیار دیا گیا ہے اور ہر نبی نے اپنی زندگی میں ہی شفاعت کر لی، لیکن میں نے اپنی شفاعت کو چھپا لیا، (یعنی محفوظ اور مؤخر کر لیا)، اب یہ شفاعت میں اپنی امت کے ایسے لوگوں کے حق میں کروں گا، جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کیا۔

11250

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11250

Sahih

۔ (۱۱۲۵۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ۔ (مسند احمد: ۷۰۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی طرح کی حدیث نبوی بیان کی ہے۔

11251

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11251

Sahih

۔ (۱۱۲۵۱)۔ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَلَمَۃَیَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ: أُوتِیَ نَبِیُّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَفَاتِیحَ کُلِّ شَیْئٍ غَیْرَ الْخَمْسِ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ} قَالَ: قُلْتُ لَہُ: أَنْتَ سَمِعْتَہُ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ؟ قَالَ: نَعَمْ أَکْثَرَ مِنْ خَمْسِینَ مَرَّۃً۔ (مسند احمد: ۴۱۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کو پانچ چیزوں کے علاوہ ہر چیز کی چابیاں عطا کی گئی ہیں۔ وہ پانچ چیزیںیہ ہیں: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللّٰہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ}… قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ (سورۂ لقمان: ۲۴) عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ عبداللہ بن سلمہ سے دریافت کیا کہ آیا آپ نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے خودسنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پچاس سے بھی زائد مرتبہ سنی ہے۔

11252

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11252

Zaeef

۔ (۱۱۲۵۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثْتُ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ بِالسَّیْفِ حَتّٰییُعْبَدَ اللّٰہُ وَحْدَہٗلاشَرِیْکَ لَہٗ،وَجُعِلَرِزْقِیْ تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِیْ، وَجُعِلَ الذُّلَّ وَالصِّغَارَ عَلٰی مَنْ خَالَفَ أَمْرِیْ، وَمَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوْ مِنْھُمْ۔)) (مسند احمد: ۵۶۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تلوار دے کر قیامت سے قبل مبعوث کیا گیا ہے، تاکہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، جس کا کوئی شریک نہیں اور میرا رزق میرے نیزے کی انی کے نیچے رکھا گیا ہے اور جس نے میرے دین کی مخالفت کی، ذلت و رسوائی اس کا مقدر ٹھہری اور جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے شمار ہو گا۔

11253

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11253

Sahih

۔ (۱۱۲۵۳)۔ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلَامِ، وَبَیْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ جِیْئَ بِمَفَاتِیْحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِیْیَدِیْ۔)) فَقَال أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: لَقَدْ ذَھَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْتُمْ تَنْتَشِلُوْنَہَا۔ (مسند احمد: ۷۶۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دشمن پر میری ہیبت کے ذریعے میری مدد کی گئی، مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں، میں سویا ہوا تھا کہ روئے زمین کے خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھ میں تھما دی گئیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو تشریف لے گئے ہیں اور تم ان خزانوں کو سمیٹ رہے ہو۔

11254

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11254

Sahih

۔ (۱۱۲۵۴)۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ أَنَّہٗقَالَ: قَامَفِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَقَامًا، فَاَخْبَرَنَا بِمَا یَکُوْنُ فِیْ أُمَّتِہِ إِلٰی الْیَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَعَاہٗمَنْوَعَاہٗوَنَسِیَہٗ مَنْ نَسِیَہٗ۔ (مسند احمد: ۱۸۴۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مغیرہ میں شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امت میں قیامت تک بپا ہونے والے تمام واقعات بیان فرما دیئے،یاد رکھنے والوں نے یاد رکھا اور بھلا دینے والوں نے بھلا دیا۔

11255

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11255

Sahih

۔ (۱۱۲۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((اِنِّیْ نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَاِنَّ عَادًا اُھْلِکَتْ بِالدَّبُوْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باد صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔ اور قوم عاد کو مغرب کی طرف سے آنے والی تیز ہوا یعنی شدید آندھی کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا۔

11256

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11256

Zaeef

۔ (۱۱۲۵۶)۔ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((ثَلَاثٌ ھُنَّ عَلَیَّ فَرْضٌ وَلَکُمْ تَطَوُّعٌ، اَلْوِتْرُ وَالنَّحْرُ وَصَلَاۃُ الضُّحٰی۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین کام مجھ پر فرض اور تمہارے لیے نفل ہیں، وتر، قربانی اور چاشت کی نماز۔

11257

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11257

Sahih

۔ (۱۱۲۵۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ، وَفِی مُؤَخَّرِ الصُّفُوفِ رَجُلٌ فَأَسَائَ الصَّلَاۃَ، فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاہُ رَسُولُ اِلّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا فُلَانُ أَلَا تَتَّقِی اللّٰہَ أَلَا تَرٰی کَیْفَ تُصَلِّی، إِنَّکُمْ تَرَوْنَ أَنَّہُ یَخْفٰی عَلَیَّ شَیْئٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ، وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَرٰی مِنْ خَلْفِی کَمَا أَرٰی مِنْ بَیْنِیَدَیَّ۔)) (مسند احمد: ۹۷۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، صفوں کے آخر میں ایک آدمی نے نماز اچھی طرح ادا نہیں کی تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلام پھیراتو اس سے فرمایا: ارے فلاں! کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے، تم نماز کس طرح ادا کرتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جو کچھ کرتے ہو وہ مجھ سے پوشیدہ ہے، اللہ کی قسم! میں جس طرح آگے دیکھتا ہوں، اسی طرح پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔

11258

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11258

Sahih

۔ (۱۱۲۵۸)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أُعْطِیتُ مَکَانَ التَّوْرَاۃِ السَّبْعَ، وَأُعْطِیتُ مَکَانَ الزَّبُورِ الْمِئِینَ، وَأُعْطِیتُ مَکَانَ الْإِنْجِیلِ الْمَثَانِیَ، وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تورات کے عوض سبع طوال (سات مفصل سورتیں)،زبور کے عوض مئیں،انجیل کے عوض مثانی دی گئی ہیں اور مفصل سورتوں کے ذریعے باقی انبیاء پر مجھے فضیلت دی گئی ہے۔

11259

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11259

Sahih

۔ (۱۱۲۵۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: مَا مَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی اُحِلَّ لَہُ النِّسَائُ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات سے پہلے آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال کردیا گیا تھا۔

11260

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11260

Sahih

۔ (۱۱۲۶۰)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائَشَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مَا مَاتَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَحَلَّ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہٗأَنْیَنْکِحَ مَا شَائَ، قُلْتُ: عَمَّنْ تُؤْثِرُ ھٰذَا؟ قَالَ: لا أَدْرِیْ حَسِبْتُ أَنِّیْ سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍیَقُوْلُ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انتقال سے قبل اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ آپ جس قدر چاہیں، مزید عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں۔ میں نے اپنے شیخ سے دریافت کیایہ آپ کس سے روایت کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا مجھے یاد نہیں۔ میرا خیال ہے کہ میں نے عبید بن عمیر کو یہ بیان کرتے سنا تھا۔

11261

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11261

Sahih

۔ (۱۱۲۶۱)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدُرْوُ عَلٰی نِسَائِہِ فِی السَّاعَۃِ الْوَاحِدَۃِ مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَھُنَّ إِحْدٰی عَشَرَۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: وَھَلْ کَانَ یُطِیْقُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّہ أُعْطِیَ قُوَّۃَ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔