Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2262

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت کا بیان

11 hadiths in this chapter

11151

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11151

Sahih

۔ (۱۱۱۵۱)۔ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرَبٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ خَاتَمًا فِیْ ظَہْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَأَنَّہٗبَیْضَۃُ حَمَامٍ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَوْنُہَا لَوْنُ جَسَدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی، وہ کبوتری کے انڈے جیسی تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کا رنگ جسم کے رنگ کی مانند تھا۔

11152

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11152

Sahih

۔ (۱۱۱۵۲)۔ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَرْجِسَ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَکَلْتُ مَعَہُ مِنْ طَعَامِہِ، فَقُلْتُ: غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقُلْتُ: أَسْتَغْفَرَ لَکَ؟ قَالَ شُعْبَۃُ: أَوْ قَالَ لَہُ رَجُلٌ، قَالَ: ((نَعَمْ وَلَکُمْ وَقَرَأَ {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} ثُمَّ نَظَرْتُ إِلٰی نُغْضِ کَتِفِہِ الْأَیْمَنِ أَوْ کَتِفِہِ الْأَیْسَرِ، (شُعْبَۃُ الَّذِییَشُکُّ) فَإِذَا ہُوَ کَہَیْئَۃِ الْجُمْعِ عَلَیْہِ الثَّآلِیلُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَرَأَیْتُ خَاتَمَ النُّبُوَّۃِ فِی نُغْضِ کَتِفِہِ الْیُسْرٰی کَأَنَّہُ جُمْعٌ، فِیہَا خِیلَانٌ سُودٌ کَأَنَّہَا الثَّآلِیلُ)۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن سر جس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا اور پانی پیا، پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ سے دریافت کیا کہ کیااللہ کے رسول نے بھی تمہارے لیے مغفرت کی دعا کی تھی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے میرےلیے اور تم سب اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا کی تھی،پھر اس آیت کی تلاوت کی: {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ}… اور آپ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور جملہ اہل ایمان خواتین و حضرات کے لیے بھی مغفرت کی دعا کریں۔ (سورۂ محمد : ۱۹) پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دائیںیا بائیں کندھے (یہ شک شعبہ کو ہے) کی نرم ہڈی کو دیکھا، ایسے لگ رہا تھا کہ بند مٹھی کی طرح وہاں گوشت جمع ہو اور اس پر مسّے ہوں۔ایک روایت میں ہے: میں نے آپ کے بائیں کندھے کی نرم ہڈی کے قریب بند مٹھی کی مانند گوشت دیکھا، وہ مہر نبوت تھی اس پرکالے تل تھے، جیسے وہ مسّے ہوتے ہیں۔

11153

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11153

Sahih

۔ (۱۱۱۵۳)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: تَرَوْنَ ہٰذَا الشَّیْخَیَعْنِی نَفْسَہُ، کَلَّمْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَکَلْتُ مَعَہُ، وَرَأَیْتُ الْعَلَامَۃَ الَّتِی بَیْنَ کَتِفَیْہِ، وَہِیَ فِی طَرَفِ نُغْضِ کَتِفِہِ الْیُسْرٰی، کَأَنَّہُ جُمْعٌ یَعْنِی الْکَفَّ الْمُجْتَمِعَ، وَقَالَ بِیَدِہِ فَقَبَضَہَا: عَلَیْہِ خِیلَانٌ کَہَیْئَۃِ الثَّآلِیلِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن سر جس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنی ذات کو پیش کرتے ہوئے لوگوں سے کہا: آیا تم اس بزرگ کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کلام کیا اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ کھانا کھانے کا شرف حاصل کیا اور میں نے وہ علامت دیکھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کے درمیان تھی، وہ آپ کی بائیں کندھے کی نرم ہڈی کے قریب بند مٹھی کی طرح تھی، ساتھ ہی انہوں نے مٹھی بند کرکے دکھلائی، اس پر تل تھے، جیسے چھوٹے چھوٹے سے ہوتے ہیں۔

11154

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11154

Sahih

۔ (۱۱۱۵۴)۔ عَنْ عَتَّابٍ1 الْبِکْرِیِّ قَالَ: کُنَّا نُجَالِسُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ بِالْمَدِینَۃِ، فَسَأَلْتُہُ عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّذِی کَانَ بَیْنَ کَتِفَیْہِ، فَقَالَ بِأُصْبُعِہِ السَّبَّابَۃِ: ہٰکَذَا لَحْمٌ نَاشِزٌ بَیْنَ کَتِفَیْہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

عتاب بِکری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مدینہ منورہ میں سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے، میں نے ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کاندھوں کے درمیان والی مہر نبوت کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کرکے بتلایا کہ وہ آپ کے کندھوں کے درمیان اس طرح ابھرے ہوئے گوشت کی مانند تھی۔ ! بعض کتب احادیث میں اس مقام پر عتاب کی جگہ غیاث راوی ہے تفصیل مسند محقق میں دیکھیں ص: ۱۹۸، جلد: ۱۸۔ (عبداللہ رفیق)

11155

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11155

Sahih

۔ (۱۱۱۵۵)۔ حَدَّثَنَا عِلْبَائُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَیْدٍ، قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اقْتَرِبْ مِنِّی۔)) فَاقْتَرَبْتُ مِنْہُ، فَقَالَ: ((أَدْخِلْ یَدَکَ فَامْسَحْ ظَہْرِی۔)) قَالَ: فَأَدْخَلْتُ یَدِی فِی قَمِیصِہِ فَمَسَحْتُ ظَہْرَہُ، فَوَقَعَ خَاتَمُ النُّبُوَّۃِ بَیْنَ إِصْبَعَیَّ، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ خَاتَمِ النُّبُوَّۃِ، فَقَالَ: شَعَرَاتٌ بَیْنَ کَتِفَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے قریب آجاؤ۔ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہو گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنا ہاتھ قمیص کے نیچے داخل کرکے میری کمر پر پھیرو۔ پس جب میں نے اپنا ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قمیص میں داخل کرکے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت پر پھیرا تو مہر نبوت میری دو انگلیوں کے درمیان آگئی۔ پھر جب ان سے مہر نبوت کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ آپ کے کندھوں کے درمیان کچھ بال تھے۔

11156

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11156

Sahih

۔ (۱۱۱۵۶)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃُ بْنُ قُرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَہْطٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ فَبَایَعْنَاہُ، وَإِنَّ قَمِیصَہُ لَمُطْلَقٌ، قَالَ: فَبَایَعْنَاہُ ثُمَّ أَدْخَلْتُ یَدِی فِی جَیْبِ قَمِیصِہِ فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ، ثُمَّ قَالَ عُرْوَۃُ: فَمَا رَأَیْتُ مُعَاوِیَۃَ وَلَا ابْنَہُ، (قَالَ حَسَنٌ: یَعْنِی إِیَاسًا) فِی شِتَائٍ قَطُّ وَلَا حَرٍّ إِلَّا مُطْلِقَیْ اَزْرَارِہِمَا لَا یَزُرَّانِہِ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۱۵۶۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بنو مزینہ کے ایک وفد کے ہمراہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے، جب ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کر چکے تو میں نے اپنا ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیقمیص کے اندر داخل کرکے مہر نبوت کو چھوا۔ عروہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ اور اس کے بیٹے ایاس کو سردی اور گرمی میں دیکھا کہ وہ اپنی قمیصوں کے بٹن ہمیشہ کھلے رکھتے اورکبھی بند نہ کیا کرتے تھے۔

11157

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11157

Sahih

۔ (۱۱۱۵۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَأْذَنْتُہُ أَنْ أُدْخِلَ یَدِی فِی جُرُبَّانِہِ، وَإِنَّہُ لَیَدْعُو لِی فَمَا مَنَعَہُ أَنْ أَلْمِسَہُ أَنْ دَعَا لِی، قَالَ: فَوَجَدْتُ عَلَی نُغْضِ کَتِفِہِ مِثْلَ السِّلْعَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) سیدنا قرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اپنا ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قمیص کے اندر داخل کرنے کی اجازت چاہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے لیے دعا فرما رہے تھے، جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جسد اطہر کو چھو رہا تھا تو میرے اس عمل نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو میرے حق میں دعا کرنے سے نہ روکا، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے حق میں مسلسل دعا فرماتے رہے، میں نے آپ کے کندھوں کی نرم ہڈی کے قریب ابھرے ہوئے پٹھے کی مانند ابھری ہوئی جگہ محسوس کی۔

11158

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11158

Sahih

۔ (۱۱۱۵۸)۔ عَنْ أَبِی رِمْثَۃَ التَّیْمِیِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِی حَتّٰی أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَأَیْتُ بِرَأْسِہِ رَدْعَ حِنَّائٍ، وَرَأَیْتُ عَلٰی کَتِفِہِ مِثْلَ التُّفَّاحَۃِ، قَالَ أَبِی: إِنِّی طَبِیبٌ أَلَا أَبُطُّہَا لَکَ؟ قَالَ: ((طَبِیْبُھَا الَّذِی خَلَقَہَا۔)) قَالَ: وَقَالَ لِأَبِی: ((ہٰذَا ابْنُکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَمَا إِنَّہُ لَا یَجْنِیْ عَلَیْک وَلَا تَجْنِی عَلَیْہِ))۔ (مسند احمد: ۱۷۶۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو رمثہ تیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ روانہ ہو کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچا، میں نے آپ کے سر پر مہندی کے رنگ کا اثر محسوس کیا، میں نے آپ کے کندھے کے قریب سیب کی مانند ابھری ہوئی جگہ دیکھی، میرے والد نے عرض کیا: میں ایک طبیب ہوں، کیا میں جراحی کرکے اسے الگ نہ کردوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا طبیب وہ اللہ ہے، جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے والد سے فرمایا: کیایہ تمہارا فرزند ہے؟ میرے والد نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! وہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا، (یعنی دونوں اپنے اپنے جرائم کے خود ذمہ دار ہوں گے)۔

11159

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11159

Sahih

۔ (۱۱۱۵۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اِنْطَلَقْتُ مَعَ اَبِیْ نَحْوَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا رَأَیْتُہُ قَالَ اَبِیْ: ھَلْ تَدْرِیْ مَنْ ھٰذَا؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: ھٰذَا مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَاقْشَعْرَرْتُ حِیْنَ قَالَ ذٰلِکَ، وَکُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا لَا یُشْبِہُ النَّاسَ فَاِذَا بَشَرٌ ذُوْ وَفْرَۃٍ وَبِہَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّائٍ وَعَلَیْہِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ اَبِیْ، ثُمَّ جَلَسْنَا فَتَحَدَّثَنَا سَاعَۃً، ثُمَّ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِأَبِیْ: ((اِبْنُکَ ھٰذَا؟))قَالَ: اِیْ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ! قَالَ: ((حَقًّا۔)) قَالَ: لَأَشْھَدُ بِہِ، فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ضَاحِکًا فِیْ تَثْبِیْتِ شَبَہِیْ بِأَبِیْ وَمِنْ حَلْفِ اَبِیْ عَلَیَّ، ثُمَّ قَالَ: ((اَمَا إِنَّہُ لَا یَجْنِیْ عَلَیْکَ وَلَا تَجْنِیْ عَلَیْہِ۔)) وَقَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی} [الاسرائ: ۱۵] الحدیث۔ (مسند احمد: ۷۱۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ابو جان کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوا، جب میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو میرے ابا جان نے کہا: ابو رمثہ ! تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جانتا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: یہ محمد رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں، پس میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میرا خیال تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ذات گرامی کی عام انسانوں سے الگ تھلگ حیثیت ہوگی، مگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک انسان تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بال کانوں تک آ رہے تھے، بالوں پر مہندی کے نشان تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سبز رنگ کی دو چادریں پہن رکھی تھیں، میرے ابونے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہا اور ہم بیٹھ گئے، آپ نے کچھ دیر تک ہم سے باتیںکیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میرے ابا جان نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واقعی؟ انھوں نے کہا: کعبہ کے رب کی قسم! یہی بات درست ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، میں اس پر گواہی دیتا ہوں۔ یہ ساری باتیں سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھل کر مسکرا پڑے، کیونکہ میری اپنے باپ کے ساتھ مشابہت بالکل واضح تھی، لیکن اس کے باوجود وہ قسم اٹھا رہے تھے، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی} … کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔

11160

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11160

Sahih

۔ (۱۱۱۶۰)۔ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ أَبِیْ فَرَأَی الَّتِیْ بِظَہْرِہِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلَا أُعَالِجُہَا لَکَ فَاِنِّیْ طَبِیْبٌ؟ قَالَ: ((أَنْتَ رَفِیْقٌ وَاللّٰہُ الطَّبِیْبُ۔)) قَالَ: ((مَنْ ھٰذَا مَعَکَ؟)) قَالَ: اِبْنِیْ، قَالَ: اَشْہَدُ بِہِ،قَالَ: ((أَمَا اِنَّہٗلَاتَجْنِیْ عَلَیْہِ وَلَا یَجْنِیْ عَلَیْکَ)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ أَبِیْ: اِسْمُ أَبِیْ رِمْثَۃَ رِفَاعَۃُ بْنُ یَثْرَبِیٍّ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو رمثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ہمراہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے والد نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت پر ابھری ہوئی جگہ دیکھی تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں طبیب ہوں، کیا میں اس کا علاج کردوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم تو ایک ساتھی ہو، حقیقی طبیب اللہ ہی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ میرے والد نے بتایا کہ یہ میرا بیٹا ہے اور کہا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ واقعی یہ میرا بیٹا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے کسی بھی جرم کا اس پر یا اس کے کسی جرم کا وبال تم پر نہیں۔

11161

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11161

Zaeef

۔ (۱۱۱۶۱)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ رَاشِدٍ عَنِ التَّنُوْخِیِّ رَسُوْلِ ہِرَقْلَ اَنَّہٗقَالَ: فَجُلْتُفِیْ ظَہْرِہِ یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَاِذَا أَنَا بِخَاتَمٍ فِیْ مَوْضِعِ غُضُونِ الْکَتِفِ مِثْلِ الْحَجْمَۃِ الضَّخْمَۃِ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَرَأَیْتُ غُضْرُوفَ کَتِفِہِ مِثْلَ الْمِحْجَمِ الضَّخْمِ) (مسند احمد: ۱۵۷۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن ابی راشد ہرقل کے قاصد تنوخی سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا:میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پشت پر اپنا ہاتھ پھیرا تو کندھے کی نرم ہڈی کے قریب مجھے بڑی سینگی جیسی ابھری ہوئی جگہ یعنی مہر نبوت محسوس ہوئی۔