Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2263

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسکراہٹ اور خوشبو کا بیان

6 hadiths in this chapter

11162

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11162

Sahih

۔ (۱۱۱۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا قَالَتْ: مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِکًا، قَالَ مُعَاوِیَۃُ: ضَحِکًا حَتّٰی أَرٰی مِنْہُ لَہَوَاتِہِ إِنَّمَا کَانَ یَتَبَسَّمُ، وَقَالَتْ: کَانَ إِذَا رَأٰی غَیْمًا أَوْ رِیحًا عُرِفَ ذٰلِکَ فِی وَجْہِہِ، قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْغَیْمَ فَرِحُوْا رَجَائَ أَنْ یَکُونَ فِیہِ الْمَطَرُ، وَأَرَاکَ إِذَا رَأَیْتَہُ عَرَفْتُ فِی وَجْہِکَ الْکَرَاہِیَۃَ، قَالَتْ: فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَا یُؤْمِنِّی أَنْ یَکُونَ فِیہِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّیحِ، وَقَدْ رَأٰی قَوْمٌ الْعَذَابَ، فَقَالُوْا: ہٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گلے کا کوا دیکھ سکوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف زیر لب مسکراتے تھے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بادلوں یا ہوا کو دیکھتے تو اس کے اثرات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرہ پر نمایاں ہو جاتے (یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پریشان ہو جاتے)، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ تو بادل یا ہوا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، کیونکہ انہیں بارش کے آنے کی امید ہوتی ہے،لیکن اس کے برعکس میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ کے چہرے پر تشویس کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے اس سے کیا امن ہے کہ اس میں عذاب ہو، جبکہ ایک قوم (یعنی قوم ِ عاد) کو ہوا ہی کے ذریعہ ہلاک کیا گیا اوراس قوم کی نظر تو عذاب پر پڑ رہی تھی، لیکن وہ(ظاہری بادل کو دیکھ کر) کہہ رہے تھے: یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے۔

11163

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11163

Zaeef

۔ (۱۱۱۶۳)۔ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ تَقُولُ: کَانَ أَبُو الدَّرْدَائِ إِذَا حَدَّثَ حَدِیثًا تَبَسَّمَ فَقُلْتُ: لَا یَقُولُ النَّاسُ إِنَّکَ أَیْ أَحْمَقُ، فَقَالَ: مَا رَأَیْتُ أَوْ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحَدِّثُ حَدِیثًا إِلَّا تَبَسَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب کوئی بات کرتے تو مسکرا دیتے، میں نے ان سے عرض کیا: آپ اس قدر تبسم نہ کیا کریں، کہیں لوگ آپ کو احمق نہ کہنے لگیں۔ وہ بولے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جب بھی بات کرتے دیکھایاسنا تو آپ مسکرا کر بات کرتے تھے۔

11164

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11164

Sahih

۔ (۱۱۱۶۴)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ یَقُولُ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا کَانَ أَکْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ تبسم کرتے کسی کو نہیں دیکھا۔

11165

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11165

Sahih

۔ (۱۱۱۶۵)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا شَمَمْتُ رِیْحًا قَطُّ مِسْکًا وَلَا عَنْبَرًا أَطْیَبَ مِنْ رِیْحِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَلَا مَسِسْتُ قَطُّ خَزًّا وَلَا حَرِیْرًا أَلْیَنَ مِنْ کَفِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: میں نے خوشبو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جسم سے بڑھ کر کوئی کستورییا عنبر نہیں دیکھا اور نہ میں نے کوئی ایسا موٹا یا نفیس ریشم دیکھا ہے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو۔

11166

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11166

Sahih

۔ (۱۱۱۶۶)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) مِثْلُہُ وَزَادَ: قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! أَلَسْتَ کَأَنَّکَ تَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَأَنَّکَ تَسْمَعُ إِلٰی نَغَمَتِہِ؟ فَقَالَ: بَلٰی، وَاللّٰہِ! إِنِّی لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَاہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَقُولَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ خُوَیْدِمُکَ، قَالَ: خَدَمْتُہُ عَشْرَ سِنِینَ بِالْمَدِینَۃِ وَأَنَا غُلَامٌ، لَیْسَ کُلُّ أَمْرِی کَمَا یَشْتَہِی صَاحِبِی أَنْ یَکُونَ، مَا قَالَ لِی فِیہَا أُفٍّ، وَلَا قَالَ لِی لِمَ فَعَلْتَ ہٰذَا وَأَلَّا فَعَلْتَ ہٰذَا۔ (مسند احمد: ۱۳۳۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) یہ حدیث گزشتہ حدیث ہی کی مانند ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: ثابت کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے ابو حمزہ! کیا آپ کو اب بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ گویا آپ اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ اور سن رہے ہوں؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، مجھے یہ بھی امید ہے کہ میری قیامت کے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ملاقات ہوگی تو میں عرض کروں گا: اللہ کے رسول ! میں آپ کا چھوٹا سا خادم۔ میں نے مدینہ منورہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دس برس خدمت کی ہے، جبکہ میں بچہ تھا اور میرا ہر کام اس طرح نہیں ہوتا تھا، جیسے میرے صاحب ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاہتے تھے، لیکن (اس طویل دورانیے میں) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کبھی بھی مجھے اف تک نہ کہا اور کبھی میرے کام پر اعتراض کرتے ہوئے نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا ہے؟ تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔

11167

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11167

Sahih

۔ (۱۱۱۶۷)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْمَرَ وَلَمْ أَشُمَّ مِسْکَۃً وَلَا عَنْبَرَۃً أَطْیَبَ رِیحًا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۳۸۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ گندمی تھا اور میں نے کبھی کوئی ایسی کستورییا عنبر نہیں سونگھا جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جسم سے زیادہ عمدہ خوشبودار ہو۔