Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2106

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان

5 hadiths in this chapter

10581

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10581

Sahih

۔ (۱۰۵۸۱)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ بِالْبُرَاقِ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِہٖمُسَرَّجًامُلَجَّمًالِیَرْکَبَہُ فَاسْتَصْعَبَ عَلَیْہ،ِ وَقَالَ لَہُ جِبْرِیْلُ: مَا یَحْمِلُکَ عَلٰی ھٰذَا؟ فَوَاللّٰہِ! مَا رَکِبَکَ أَحَدٌ قَطُّ أَکْرَمُ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْہُ قَالَ: فَارْفَضَّ عَرَقًا۔ (مسند احمد: ۱۲۷۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ اسراء والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ایسا براق لایا گیا، جس پر زین کسی ہوئی تھی اور اس کو لگام ڈالی ہوئی تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر سوار ہونے لگے تو وہ براق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مشکل ہو گیا، جبریل علیہ السلام نے اس سے کہا: کون سی چیز تجھے ایسا بننے پر آمادہ کر رہی ہے؟ اللہ کی قسم ہے، تجھ پر کبھی بھی ایسی ہستی سوار نہیں ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سے زیادہ عزت والی ہو، پھر شرمندگی کی وجہ سے اس کا پسینہ بہہ پڑا۔

10582

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10582

Sahih

۔ (۱۰۵۸۲)۔ عَنْ أبِیْ ھُرَیرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ أُتِیْتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَقَدَحِ خَمْرٍ فَنَظَرْتُ اِلَیْھِمَا فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِیْلُ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدَاکَ لِلْفِطْرَۃِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُکَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات میرے پاس دودھ کا پیالہ اور شراب کا پیالہ لایا گیا، میں نے ان دونوںکو دیکھا اور پھر دودھ کو پکڑ لیا، جبریل علیہ السلام نے کہا: ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے آپ کی فطرت کی طرف رہنمائی کی، اگر آپ شراب پکڑ لیتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت گمراہ ہو جاتی۔

10583

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10583

Sahih

۔ (۱۰۵۸۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: لَمَّا أُسْرِیَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انْتُھِیَ بِہٖاِلٰی سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی وَھِیَ فِی السَّمَائِ السَّادِسَۃِ، اِلَیْھَایَنْتَھِی مَا یُعْرَجُ بِہٖمِنَ الْأَرْضِ فَیُقْبَضُ مِنْھَا، وَاِلَیْھَایَنْتَھِیْ مَا یُھْبَطُ بِہٖ مِنْ فَوْقِھَا فَیُقْبَضُ مِنْھَا، قَالَ: {اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی} قَالَ: فَرَاشٌ مِنْ ذَھَبٍ، قَالَ: فَاُعْطِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثًا، أُعْطِیَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَأُعْطِیَ خَوَاتِیْمَ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ مِنْ أُمَّتِہِ شَیْئًا الْمُقْحِمَاتُ۔ (مسند احمد: ۴۰۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء پر لے جایا گیا تو سدرۃ المنتہی پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سفر کی انتہا ہو گئی،یہ سدرۃ چھٹے آسمان میں ہے، جو کچھ زمین کی طرف سے چڑھتا ہے، اسی بیری پر اس کی انتہاء ہوتی ہے اور جو کچھ اوپر سے اترتا ہے، اس کی انتہاء بھی اسی درخت پر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی۔(سورۂ نجم: ۱۶) اس سے مراد سونے کے پتنگے ہیں، وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں، پانچ نمازیں،سورۂ بقرہ کا آخری حصہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت میں سے اس شخص کے کبیرہ گناہ بخش دیئے گئے، جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔

10584

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10584

Sahih

۔ (۱۰۵۸۴)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رُفِعَتْ لِیْ سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی فِیْ السَّمَائِ السَّابِعَۃِ، نَبْقُھَا مِثْلُ قِلَالِ ھَجَرَ وَوَرَقُھَا مِثْلُ آذَانِ الْفِیَلَۃِ،یَخْرُجُ مِنْ سَاقِھَا نَھْرَانِ ظَاھِرَانِ وَلَھْرَانِ بَاطِنَانِ، فَقُلْتُ: یَاجِبْرِیْلُ! مَا ھٰذَانِ؟ قَالَ: اَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِی الْجَنَّۃِ وَاَمَّا الظَّاھِرَانِ فَالنِّیْلُ وَالْفُرَاتُ))۔ (مسند احمد: ۱۲۷۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے ساتویں آسمان میں سدرۃ المنتہی کو بلند کیا گیا، اس کا پھل ہجر کے مٹکوںکی طرح اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے، اس کے تنے سے دو نہریں ظاہری اور دو نہریں مخفی نکل رہی تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ دو چیزیں کیا ہیں؟ اس نے کہا: دو باطنی نہریں جنت میں جا رہی ہیں اور یہ دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔

10585

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10585

Sahih

۔ (۱۰۵۸۵)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْتَھَیْتُ اِلَی السِّدْرَۃِ فَاِذَا نَبْقُھَا مِثْلُ الْجِرَارِ، وَاِذَا وَرَقُھَا مِثْلُ آذَانِ الْفِیَلَۃِ، فَلَمَّا غَشِیَھَا مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ مَا غَشِیَھَا تَحَوَّلَتْ یَا قُوْتًا أَوَ زُمُرُّدًا اَوْ نَحْوَ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میں سدرہ تک پہنچا تو دیکھا کہ اس کا پھل مٹکوں کی طرح کا تھا اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح کے تھے، جب اللہ تعالیٰ کے حکم نے اس کو ڈھانپا تو وہ یاقوتیا زمرد یا اس قسم کے موتیوں میں تبدیل ہو گئی۔