Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2107

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟

7 hadiths in this chapter

10586

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10586

Zaeef

۔ (۱۰۵۸۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَأَیْتُ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی)) (قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ) وَقَدْ سَمِعْتُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ مِنْ أبِیْ، اَمْلٰیْ عَلَیَّ فِیْ مَوْضِعٍ آخَرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے یہ حدیث سنی تھی، انھوں نے کسی اور مقام پر یہ حدیث مجھے لکھوائی تھی۔

10587

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10587

Sahih

۔ (۱۰۵۸۷)۔ حَدَّثَنَا ھَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ ذَرٍّ: لَوْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلْتُہُ، قَالَ: وَمَا کُنْتَ تَسْأَلُہُ؟ قَالَ: کُنْتُ اَسْأَلُہُ ھَلْ رَأٰی رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: فَاِنَّیْ قَدْ سَأَلْتُہُ، فَقَالَ: ((قَدْ رَأَیْتُہُ نَوْرًا، أَنَّیْ أَرَاہٗ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۶۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک سوال کرتا، انھوں نے کہا: تو کون سا سوال کرتا؟ میں نے کہا: میں نے یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا تھا ، جس کے جواب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو نور پایا ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔

10588

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10588

Sahih

۔ (۱۰۵۸۸)۔ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ وَبَھْزٌ قَالَا: ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ قَتَادَۃَ، قَالَ بَھْزٌ: ثَنَا قَتَادَۃُ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ) قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ ذَرٍّ: لَوْ اَدْرَکْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَسَأَلْتُہُ، قَالَ: عَنْ أَیِّ شَیْئٍ؟ قُلْتُ: ھَلْ رَأَیْتَ رَبَّکَ؟ قَالَ: قَدْ سَأَلْتُہُ فَقَالَ: ((نُوْرٌ، أَنّٰی اَرَاہٗ۔))یَعْنِیْ: عَلٰی طَرِیْقِ الْأِیْجَابِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایا ہوتا تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک سوال کرنا تھا، انھوں نے کہا: کس چیز کے بارے میں؟ میں نے کہا: یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: وہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔یعنی مثبت جواب دیا۔

10589

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10589

Sahih

۔ (۱۰۵۸۹)۔ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ اِسْمَاعِیْلَ ثَنَّا عَامِرٌ قَالَ: اَتٰی مَسْرُوْقٌ عَائِشَۃَ فَقَالَ: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! ھَلْ رَأٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہُ؟ قَالَتْ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! لَقَدْ قَفَّ شَعْرِیْ لِمَا قُلْتَ، أَیْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَکَھُنَّ فَقَدْ کَذَبَ، مَنْ حَدَّثَکَ أَنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَبَّہُ فَقَدْ کَذَبَ، ثُمَّّ قَرَأَتْ {لَاتُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ} {وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ} وَمَنْ أَخْبَرَکَ بِمَا فِیْ غَدٍ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّّ قَرَأَتْ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِیْ الْأَرْحَامِ} وَمَنْ اَخْبَرَکَ أَنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَمَ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّّ قَرَأَتْ {یَا اَیُّھَا الرُّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ} وَلٰکِنَّہُ رَأٰی جِبْرِیْلُ فِیْ صُوْرَتِہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عامر بیان کرتے ہیں کہ مسروق، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آیا اور کہا: اے ام المؤمنین! کیا محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، تیری بات سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، تجھے کوئی پتہ نہیں ان تین چیزوں کا کہ جو آدمی ان کو بیانکرے گا، وہ جھوٹا ہو گا، (۱)جو آدمی تجھے یہ بیان کرے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا، پس اس نے جھوٹ بولا، پھر سیدہ نے یہ آیات پڑھیں: اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی، اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے۔ (سورہ انعام: ۱۰۳) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ناممکن ہے کہ کسی بندہ سے اللہ تعالیٰ کلام کرے، مگر وحی کے ذریعہیا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے، بیشک وہ برتر ہے، حکمت والا ہے۔ (سورۂ زخرف: ۵۱) (۲) جو آدمی تجھے کل کی بات بتلائے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر سیدہ نے یہ آیت پڑھی: بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہ بارش نازل کرتا ہے اور اس چیز کو جانتا ہے، جو رحموں کے اندر ہوتی ہے۔ اور (۳) جو آدمی تجھے یہ بات بتلائے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شریعت کا کوئی حصہ چھپا لیا ہے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: اے رسول! جو کچھ تیرے ربّ کی طرف سے تجھ پر نازل کیا گیا ہے، اس کو آگے پہنچا دے۔ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل کو اس کی اصل صورت میں دوبار دیکھا تھا۔

10590

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10590

Sahih

۔ (۱۰۵۹۰)۔ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ مَسْرُوْقٍ اَیْضًا قَالَ: کُنْتُ مُتَّکِئًا عِنْدَ عَائِشَۃَ، فَقَالَتْ: یَا أَبَا عَائِشَۃَ! أَنَا اَوَّلُ مَنْ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ھٰذِہِ، قَالَ: ((ذٰلِکَ جِبْرِیْلُ لَمْ اَرَہُ فِیْ صُوْرَتِہِ الَّتِیْ خُلِقَ فِیْھَا اِلَّا مَرَّتَیْنِ، رَأَیْتُہُ مُنْھَبِطًا مِنَ السَّمَائِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِہِ مَابَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۲۶۵۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، سیدہ نے کہا: اے ابو عائشہ! میں وہ پہلا فرد ہوں، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جبریل تھے، میں نے صرف دو بار اس کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، جب میں نے اس کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو اس کے بڑے وجود نے آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔

10591

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10591

Zaeef

۔ (۱۰۵۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَأَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیْلَ أَنْ یَرَاہُ فِیْ صُوْرَتِہِ، فقَالَ: أُدْعُ رَبَّکَ، قَالَ: فَدَعَا رَبَّہُ فَطَلَعَ عَلَیْہِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، قَالَ: فَجَعَلَ یَرْتَفِعُ وَیَنْتَشِرُ، قَالَ: فَلَمَّا رَآہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَعِقَ، فَأَتَاہُ فَنَعَشَہُ وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۹۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ ان کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، انھوں نے کہا: اپنے ربّ سے دعا کرو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے دعا کی، پس مشرق کی طرف سے سیاہ رنگ کا ایک وجود اٹھا، پھر وہ بلند ہونے اور پھیلنے لگا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیہوش ہو گئے، جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھڑا کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گوشۂ دہن سے لعاب کو صاف کیا۔

10592

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10592

Sahih

۔ (۱۰۵۹۲)۔ عَنْ أبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی (یَعْنِیْ الْأَشْعَرِیَّ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِیْ لَہُ أَنْ یَنَامَ،یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَیَرْفَعُہُ، حِجَابُہُ النَّارُ لَوْ کَشَفَھَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ کُلَّ شَیْئٍ أَدْرَکَہُ بَصَرُہُ، ثُمَّّ قَرَأَ أَبُوْ عُبَیْدَۃَ {نُوْدِیَ أَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِیْ النَّارِ وَمَنْ حَوْلَھَا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} (مسند احمد: ۱۹۸۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک نہ اللہ تعالیٰ سوتا ہے اور نہ سونا اس کے شایانِ شان ہے، وہ کسی کے حق میں ترازو کو جھکاتا ہے اور کسی کے حق میں اٹھا دیتا ہے، اس کا پردہ آگ کا ہے، اگر وہ اس پردے کو چاک کر دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ہر اس چیز کو جلا دیں گے، جہاں تک اس کی نگاہ کا ادراک ہے۔ پھر ابو عبیدہ راوی نے اس آیت کی تلاوت کی: جب موسی وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے، وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (سورۂ نمل: ۸)