Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2105

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا

9 hadiths in this chapter

10572

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10572

Sahih

۔ (۱۰۵۷۲)۔ عَنْ أبِیْ الْعَالِیَۃِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ حَدَّثَنِیْ حَجَّاجٌ حَدَّثَنِیْ شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أبِیْ الْعَالِیَۃِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِبْنُ عَمِّ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (یَعْنِیْ ابْنَ عَبَّاسٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا یَنْبَغِیْ لِعَبْدٍ أَنْ یَقُوْلَ: أَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی۔)) وَنَسَبَہُ اِلٰی أَبِیْہِ قَالَ: وَذَکَرَ أَنَّہُ أُسْرِیَ بِہٖوَأَنَّہُرَأٰی مُوسٰی عَلَیْہِ السِّلَامُ آدَمَ طُوْالًا کَأَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَۃَ، وَذَکَرَ أَنَّہُ رَأٰی عِیْسٰی مَرْبُوْعًا اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ جَعْدًا وَذَکَرَ أَنَّہُ رَأَی الدَّجَّالَ وَمَالِکًا خَازِنَ النَّارِ۔ (مسند احمد: ۳۱۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عالیہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کے چچا زاد (سیدنا عبد اللہ بن عباس) نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ یہ کہے کہ وہ یونس بن متی سے بہتر ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ان کے باپ کی طرف منسوب کیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا ذکر کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے موسی علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، پھر عیسی علیہ السلام کا ذکر کیا کہ وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کا جسم بھرا ہوا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بتلایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دجال اور جہنم کے داروغے مالک کو دیکھا۔

10573

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10573

Sahih

۔ (۱۰۵۷۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ رَأَیْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ مُوسَی بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا، کَأَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، وَرَأَیْتُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَلَیْھِمَا السَّلَامُ مَرْبُوْعَ الْخَلْقِ اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ، سَبْطَ الرَّأْسِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے موسی بن عمران علیہ السلام کو دیکھا، وہ گندمی رنگ کے دراز قد آدمی تھے، ان کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، ایسے لگ رہا تھے، جیسے وہ شنوء ہ قبیلے کے فرد تھے، اورمیں نے عیسی بن مریم علیہ السلام کو دیکھا، وہ معتدل قد کے تھے، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل تھا، ان کے بال سیدھے تھے۔

10574

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10574

Sahih

۔ (۱۰۵۷۴)۔ عَنْہ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَأَیْتُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ وَمُوسٰی وَاِبْرَاھِیْمَ، فَاَمَّا عِیْسٰی فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِیْضُ الصَّدْرِ، وَأَمَّا مُوسٰی فَاِنَّہُ جَسِیْمٌ)) قَالُوْا لَہُ: فِاِبْرَاھِیْمُ؟ قَالَ: ((اُنْظُرُوْا اِلٰی صَاحِبِکُمْ)) یَعْنِیْ نَفْسَہُ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں عیسی علیہ السلام ، موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، عیسی علیہ السلام کا رنگ سرخ اور بال گھنگریالے تھے اور وہ چوڑے سینے والے تھے، موسی علیہ السلام دراز قد تھے۔ لوگوں نے کہا: اور ابراہیم علیہ السلام ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ساتھی کو دیکھ لو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد آپ کا اپنا نفس تھا۔

10575

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10575

Sahih

۔ (۱۰۵۷۵)۔ عَنْ أبِیْ ھُرَیرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ وَصَعَدْتُ قَدَمِیْ (وَفِیْ نُسْخَۃٍ: وَضَعْتُ قَدَمِیْ) حَیْثُ تُوْضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِیَائِ مِنْ بَیْتِ الْمَقْدَسِ فَعُرِضَ عَلَیَّ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ، قَالَ: فَاِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِہٖشَبَھًاعُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَعُرِضَ عَلَیَّ مُوسٰی، فَاِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ کَأَنَّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، وَعُرِضَ عَلَیَّ اِبْرَاھِیْمُ، قَالَ: فَاِذَا ھُوَ أَقْرَبُ النَّاسِ شَبَھًا بِصَاحِبِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرایا گیا، میں نے بیت المقدس میں اپنا قدم وہاں رکھا، جہاں انبیاء کے قدم رکھے جاتے تھے، پس مجھ پر عیسی علیہ السلام کو پیش کیا گیا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، پھر مجھ پر موسی علیہ السلام کو پیش کیا گیا، وہ معتدل وجود کے آدمی تھے اور وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، بعد ازاں ابراہیم علیہ السلام کو مجھ پر پیش کیا گیا، وہ لوگوں میں تمہارے اپنے ساتھی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔

10576

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10576

Sahih

۔ (۱۰۵۷۶)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا أُسْرِیَ بِیْ مَرَرْتُ عَلٰی مُوسٰی وَھُوَ قَائِمٌ یُصَلِّیْ فِیْ قَبْرِہِ عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْأَحْمَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کرائی گئی، اس رات کو میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے، یہ قبر سرخ ٹیلے کے پاس تھی۔

10577

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10577

Sahih

۔ (۱۰۵۷۷)۔ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنّہُ قَالَ: عُرِضَ عَلَیَّ الْأَنْبِیَائُ، فَاِذَا مُوسٰی رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ کَأَنّہُ مِنْ رِجَالِ شَنُوْئَ ۃَ، فَرَأَیْتُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَلَیْھِمَا السَّلَامُ، فَاِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَیْتُ بِہٖشَبَھًاعُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَرَأَیْتُ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَاِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَیْتُ بِہٖشَبَھًاصَاحِبُکُمْ (یَعْنِیْ نَفْسَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) وَرَأَیْتُ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، فَاِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَیْتُ بِہٖشَبَھًادِحْیَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر انبیاء پیش کیے گئے، موسی علیہ السلام معتدل وجود کے آدمی تھے، وہ شنوء ۃ قبیلے کے لوگوں کی طرح لگتے تھے، میں نے عیسی ‌علیہ السلام کو دیکھا، وہ عروہ بن مسعود کے زیادہ مشابہ لگتے تھے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، وہ تمہارے اپنے ساتھی سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ذات مراد لے رہے تھے، اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، وہ دحیہ کے مشابہ لگتے تھے۔

10578

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10578

Zaeef

۔ (۱۰۵۷۸)۔ عَنْ أبِیْ ھُرَیرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ لَمَّا انْتَھَیْنَا اِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ، (قَالَ عُثْمَانُ: فَوْقِیْ) فَاِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ، قَالَ: فَأَتَیْتُ عَلٰی قَوْمٍ، بُطُوْنُھُمْ کَالْبُیُوْتِ فِیْھَا الْحَیَّاتُ تُرَی مِنْ خَارِجِ بُطُوْنِھِمْ، قُلْتُ: مَنْ ھٰؤُلَائِ؟ یَاجِبْرِیْلُ! قَالَ: ھٰؤُلَائِ اَکَلَۃُ الرِّبَا، فَلَمَّا نَزَلْتُ اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا نَظَرْتُ أَسْفَلَ فَاِذَا أَنَا بِرَھْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ، فَقُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ یَاجِبْرِیْلُ! قَالَ: ھٰذِہِ الشَّیَاطِیْنُیَحُوْمُوْنَ عَلٰی أَعْیُنِ بَنِیْ آدَمَ أَنْ لَّا یَتَفَکَّرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوَاتِ وْالْأَرْضِ، وَلَوْ لَا ذٰلِکَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کو جب ہم ساتویں آسمان تک پہنچے تو میں نے اپنے اوپر والی سمت میں دیکھا، وہاں مجھے گرج، کڑک، چمک، کڑک دار بجلی نظر آئی، پھر میں کچھ لوگوں کے پاس آیا، ان کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے بڑے تھے، ان میں ایسے سانپ تھے، جو پیٹوں کے باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ سود خور ہیں، پھر جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو دیکھا کہ میری نچلی طرف غبار، دھواں اور آوازیں تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ شیطان ہیں، جو بنو آدم کی آنکھوں کے سامنے منڈلا رہے ہیں، تاکہ وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہیوں میں غور و فکر نہ کر سکیں، اگر یہ نہ ہوتے تو وہ عجیب عجیب چیزیں دیکھتے۔

10579

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10579

Sahih

۔ (۱۰۵۷۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَرَرْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ عَلٰی قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاھُھُمْ بِمَقَارِیْضَ مِنْ نَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ھٰؤُلَائِ؟ قَالُوْا: خُطَبَائُ مِنْ أھْلِ الدُّنْیَا، کَانُوْا یَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَیَنْسَوْنَ أَنْفُسَھُمْ وَھُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتَابَ أَفَـلَا یَعْقِلُوْنَ؟)) (مسند احمد: ۱۲۲۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرو ی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات کو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ جن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا، میں نے کہا: یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ دنیا والوں کے خطیب ہیں، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہیں، جبکہ وہ اللہ کی کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہیں، کیا پس یہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔

10580

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10580

Sahih

۔ (۱۰۵۸۰)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا عَرَجَ بِیْ ربِیْ عَزَّوَجَلَّ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَھُمْ اَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ یَخْمُشُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَصُدُوْرَھُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ ہٰؤُلَائِ؟ یَاجِبْرِیْلُ! قَالَ: ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَیَأْکُلُوْنَ لُحُوْمَ النَّاسِ وَیَقَعُوْنَ فِیْ أَعْرَاضِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۳۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب میرے ربّ نے مجھے معراج کرائی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا کہ ان کے تانبے کے ناخن تھے اور وہ ان کے ذریعے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کاگوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں کو متأثر کرتے تھے (یعنی چغلی اور غیبت کرتے ہیں)۔