Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2084

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر

7 hadiths in this chapter

10504

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10504

Zaeef

۔ (۱۰۵۰۴)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھٰرُوْنَ، أَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَۃَیُحَدِّثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّی (وَفِیْ لَفْظٍ) أَوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیٌ، قَالَ عَمْرٌو: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِإِبْرَاھِیْمَ فَأَنْکَرَ ذٰلِکَ وَقَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (زَادَ فِیْ رِاوَیَۃٍ) وَقَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنایزید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،انھوں نے کہا: سب سے پہلے جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی یا اسلام قبول کیا، وہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، عمرو راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات ابراہیم راوی کو بتلائی تو انھوں نے اس بات کا انکار کیا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سب سے پہلے مسلمان ہونے والے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔

10505

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10505

Zaeef

۔ (۱۰۵۰۵)۔ عَنْ إِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَیَاسِ بْنِ عَفِیْفِ الْکِنْدِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: کُنْتُ اِمْرَئً ا تَاجِرًا فَقَدِمْتُ الْحَجَّ فَأَتَیْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ لِأَبْتَاعَ مِنْہُ بَعْضَ التِّجَارَۃِ، وَکَانَ اِمْرَئً ا تَاجِرًا، فَوَاللّٰہِ! اِنِّیْ لَعِنْدَہُ بِمِنًی اِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خِبَائٍ قَرِیْبٍ مِنْہُ فَنَظَرَ اِلَی الشَّمْسِ فَلَمَّا رَآھَا مَالَتْ یَعْنِیْ قَامَ یُصَلِّیْ۔ قَالَ: ثُمَّّ خَرَجَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ ذٰلِکَ الْخَبَائِ الَّذِیْ خَرَجَ مِنْہُ ذٰلِکَ الرَّجُلُ فَقَامَتْ خَلْفَہُ تُصَلِّیْ، ثُمَّّ خَرَجَ غُلَامٌ حِیْنَ رَاھَقَ الْحُلُمَ مِنْ ذٰلِکَ الْخِبَائِ فَقَامَ مَعَہُ یُصَلِّیْ، قَالَ:فَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ: مَنْ ھٰذَا یَا عَبَّاسُ؟ قَالَ: ھٰذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنِ أَخِیْ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَنْ ھٰذِہِ الْمَرْأَۃُ؟ قَالَ: ھٰذَا إِمْرَأَتُہُ خَدِیْجَۃُ ابْنَۃُ خُوَیْلِدٍ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الْفَتٰی؟ قَالَ: ھٰذَا عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبِ بْنِ عَمِّہِ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَمَا ھٰذَا الَّذِیْیَصْنَعُ؟ قَالَ: یُصَلِّیْ وَھُوَ یَزْعَمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ وَلَمْ یَتْبَعْہُ عَلَی اَمْرِہِ اِلَّا امْرَأَتُہُ وَابْنُ عَمِّہِ ھٰذَا الْفَتٰی، وَھُوَ یَزْعُمُ أَنَّہُ یُفْتَحُ عَلَیْہِ کُنُوْزُ کِسْرٰی وَقَیْصَرَ، قَالَ: فَکَانَ عَفِیْفٌ (وَھُوْ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ) یَقُوْلُ: (وَأَسْلَمَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَحَسُنَ اِسْلَامُہُ) لَوْ کَانْ اللّٰہُ رَزَقَنِیَ الْاِسْلَامَ یَوْمَئِذٍ فَاَکُوْنُ ثَالِثًا مَعَ ابْنِ أَبِیْ طَالِبٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عفیف کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں تاجر تھا، میں حج کے موقع پر آیا اور کچھ سامانِ تجارت خریدنے کے لیے سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا، وہ بھی تاجر تھے، اللہ کی قسم ہے، میں اس کے پاس مِنٰی میں تھا کہ ایک آدمی قریبی خیمہ سے نکلا اور اس نے سورج کودیکھا، جب اس نے خیال کیا کہ سورج ڈھل چکا ہے تو وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، پھر اسی خیمے سے ایک خاتون نکلی اور وہ اس مرد کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگی، پھر اسی خیمہ سے قریب البلوغت ایک لڑکا نکلا اور نماز ادا کرنے کے لیے اس مرد کے ساتھ کھڑا ہو گیا،میں نے عباس سے کہا: اے عباس! یہ کون آدمی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ محمد بن عبد اللہ ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہے، میں نے کہا: یہ خاتون کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اس کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہے، میں نے کہا: یہ لڑکا کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا زاد علی بن ابی طالب ہے۔ میں نے کہا: یہ کر کیا رہا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ نماز پڑھ رہا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ یہ نبی ہے، لیکن ابھی تک اس معاملے میں اس کی پیروی کرنے والے اس کی بیوی اور اس کا یہ چچا زاد لڑکا ہے، اس کا خیال ہے کہ وہ کسری اور قیصر کے خزانوں کو فتح کرے گا۔ یہ عفیف، اشعث بن قیس کا چچا زاد تھا، بعد ازاں یہ مسلمان ہو گئے تھے اور ان کے اسلام میں حسن پیدا ہو گیا تھا، بعد میں وہ کہا کرتے تھے: کاش اللہ تعالیٰ نے اس وقت مجھے اسلام عنایت کیا ہوتا اور میں ابن ابی طالب کے ساتھ تیسرا بندہ مسلمان ہوتا۔

10506

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10506

Sahih

۔

اردو ترجمہ · Urdu

۔

10507

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10507

Zaeef

۔ (۱۰۵۰۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ خَدِیْجَۃَ عَلِیٌّ، وَقَالَ مَرَّۃً: أَسْلَمَ۔ (مسند احمد: ۳۵۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بعد سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سب سے پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھییا اسلام قبول کیا۔

10508

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10508

Sahih

۔ (۱۰۵۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَظْھَرَ اِسْلَامَہُ سَبْعَۃٌ، رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ وَصُھَیْبٌ وَبِلَالٌ وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِعَمِّہِ أَبِیْ طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُوْبَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِقَوْمِہِ، وَأَمَّا سَائِرُھُمْ فَأَخَذَھُمُ الْمُشْرِکُوْنَ فَأَلْبَسُوْھُمْ اَدْرَاعَ الْحَدِیْدِ وَصَھَرُوْ ھُمْ فِی الشَّمْسِ فَمَا مِنْھُمْ اِنْسَانٌ اِلَّا وَقَدْ وَاتَاھُمْ عَلٰی مَا اَرَادُوْا اِلَّا بِلَالٌ فِاِنَّہُ ھَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِی اللّٰہِ، وَھَانَ عَلٰی قَوْمِہِ فَأَعْطَوْہُ الْوِلْدَانَ، وَأَخَذُوْا یَطُوْفُوْنَ بِہٖشِعَابَمَکَّۃَ وَھُوَ یَقُوْلُ: أَحَدٌ أَحَدٌ۔ (مسند احمد: ۳۸۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سب سے پہلے سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمار بن یاسر، ان کی ماں سیدہ سمیہ، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا مقدادf، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعے اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی قوم کے ذریعے تحفظ دیا، باقی سارے افراد کو مشرکوں نے پکڑ لیا اور ان کو آہنی لباس پہنا دیئے اور دھوپ میں کھڑا کر کے ان کو عذاب دیا، ہر آدمی ان کے ارادے کے مطابق ان کی موافقت کر جاتا، ما سوائے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کو حقیر سمجھ لیا تھا، اُدھر ان کی قوم نے بھی ان کو کم اہمیت سمجھ کر بچوں کو پکڑا یا وہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں چکر لگاتے، لیکن سیدنا بلال یہ کہہ رہے ہوتے: اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔

10509

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10509

Sahih

۔ (۱۰۵۰۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ السُّلَمِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ مَعَکَ عَلٰی ھٰذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: ((حُرٌّ وَعَبْدٌ)) وَمَعَہُ اَبُوْبَکْرٍ وَبِلَالٌ، ثُمَّّ قَالَ لَہُ: ((اِرْجِعْ اِلٰی قَوْمِکَ حَتّٰییُمَکِّنَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِرَسُوْلِہِ۔)) قَالَ: وَکاَنَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَیَقُوْلُ: لَقَدْ رَأَیْتُنِیْ وَاِنِّیْ لَرُبُعُ الْاِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس دین پر آپ کے ساتھ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام۔ اس وقت سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرو بن عبسہ سے فرمایا: تم اپنیقوم کی طرف لوٹ جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو قوی کر دے۔ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے: میں نے اپنے آپ کو اسلام کا چوتھائی حصہ دیکھا تھا۔

10510

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10510

Zaeef

۔ (۱۰۵۱۰)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقْرَأُ وَھُوَ یُصَلِّیْ نَحْوَ الرُّکْنِ قَبْلَ أَنْ یَصْدَعَ بِمَا یُؤْمَرُ وَالْمُشْرِکُوْنَ یَسْتَمِعُوْنَ: {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ} (مسند احمد: ۲۷۴۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلاوت کر رہے ہوتے اور حجراسود کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، ابھی تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کا اعلان نہیں کیا تھا، جس کا آپ کو حکم دیا جاتا تھا، اور مشرک یہ آیت سنتے تھے: {فَبِاَیِّ آلائِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ}۔