Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2085

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا

3 hadiths in this chapter

10511

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10511

Sahih

۔ (۱۰۵۱۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ} دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُرَیْشًا فَعَمَّ وَخَصَّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: جَعَلَ یَدْعُوْ بُطُوْنَ قُرَیْشٍ بَطْنًا بَطْنًا) فَقَالَ: ((یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! أَنْقِذُوْ أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا مَعْشَرَ بَنِی کَعْبِ بْنِ لُؤَیٍّ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا مَعْشَرَ بَنِیْ عَبْدِ مَنَافٍ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا مَعْشَرَ بَنِیْ ھَاشِمٍ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! أَنْقِذُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ! أَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ، فَاِنِّیْ وَاللّٰہِ! مَا أَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، اِلَّا اَنَّ لَکُمْ رَحِمًا سَاَبُلُّھَا بِبِلَالِھَا۔)) (مسند احمد: ۸۷۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش کو بلایا، عام آواز بھی دی اور خاص ندا بھی، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قریش کے ایک ایک خاندان کو خاص کر کے پکارا اور فرمایا: اے قریش کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو کعب بن لؤی کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد مناف کی جماعت! اپنے نفسوں کو آگ سے بچا لو، اے بنو ہاشم کی جماعت! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد المطلب! اپنے نفسوں کو آگ سے بچا لو، اے فاطمہ بنت ِ محمد! اپنے نفس کو آگ سے بچا لے، پس اللہ کی قسم! بیشک میں اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ما سوائے اس کے کہ تمہاری قرابتداری ہے، اس کو میں تر رکھوں گا۔

10512

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10512

Sahih

۔ (۱۰۵۱۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزّ َوَجَلَّ {وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَقْرَبِیْنَ} قَالَ: أَتَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّفَا، فَصَعِدَ عَلَیْہِ ثُمَّّ نَادٰییَا صَبَاحَاہْ! فَاجْتَمَعَ النَّاسُ اِلَیْہِ بَیْنَ رَجُلٍ یَجِیْئُوَبَیْنَ رَجُلٍ یَبْعَثُ رَسُوْلَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَابَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! یَابِنِیْ فِھْرٍ!، یَابَنِیْ لُؤَیٍّ! أَرَأَیْتُمْ لَوْ اَخْبَرْتُکُمْ اَنَّ خَیْلًا بِسَفْحِ ھٰذَا الْجَبَلِ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ صَدَّقْتُمُوْنِیْ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَاِنِّی نَذِیْرٌ لَکُمْ بَیْنَیَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ، فَقَالَ اَبُوْ لَھَبٍ: تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْیَوْم!ِ اَمَا دَعَوْتَنَا اِلَّا لِھٰذَا؟ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَتَبَّ}۔ (مسند احمد: ۲۸۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا پہاڑی پر تشریف لائے اور اس پر چڑھ کر یہ آواز دی: یَا صَبَاحَاہْ! پس لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہو گئے، کوئی خود آ گیا اور کسی نے اپنا قاصد بھیج دیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اے بنو فہر! اے بنو لؤی! اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تم کو یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں ایک لشکر ہے، وہ تم پر شبخون مارنا چاہتا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میں تم کو سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔ یہ سن کر ابو لہب نے کہا: بقیہ دن تجھ پر ہلاکت پڑتی رہے، کیا تو نے ہمیں اس مقصد کے لیے بلایا تھا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔

10513

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10513

Sahih

۔ (۱۰۵۱۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! اشْتَرُوْا أَنْفُسَکُمْ مِنَ اللّٰہِ، یَاصَفِیَّۃُ عَمَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ! وَ یَافَاطِمَۃُ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہ! اشْتَرِیَا أَنْفُسَکُمَا مِنَ اللّٰہِ، لَااُغْنِیْ عَنْکُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، سَلَانِیْ مِنْ مَالِیْ مَاشِئْتُمَا۔)) (مسند احمد: ۹۷۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو عبد المطلب! اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، اے صفیہ! اللہ کے رسول کی پھوپھی! اے فاطمہ بنت ِ محمد! اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ سے آزاد کروا لو، میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تم سے کچھ بھی کفایتنہیں کر سکوں گا، البتہ میرے مال سے جو چاہو سوال کر سکتی ہو۔