Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 170 · Chapter 2083

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب

وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا

16 hadiths in this chapter

10488

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10488

Sahih

۔ (۱۰۴۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِخَدِیْجَۃَ: إِنِّیْ أَرٰی ضَوْئً ا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَإِنِّیْ أَخْشٰی أَنْ یَّکُوْنَ بِیْ جُتُنٌ، قَالَتْ: لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَفْعَلَ ذٰلِکَ بِکَ یَاابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ! ثُمَّّ أَتَتْ وَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: إِنْ یَکُ صَادِقًا فَإِنَّ ھٰذَا نَامُوْسٌ مِثْلُ نَامُوْسِ مُوْسٰی، فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَیٌّ فَسَأُعَزِّزُہُ وَأَنْصُرُہُ وَأُومِنُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۲۸۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: بیشک میں روشنی دیکھتا ہوں، آواز سنتا ہوں اور میں ڈرتا ہوں کہ مجھے کوئی جنون لاحق ہو گیا ہے۔ آگے سے سیدہ نے کہا: اے عبد اللہ کے بیٹے! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ اس طرح نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور اس کو ساری بات بتلائی، اس نے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو یہ موسی علیہ السلام کے ناموس کی طرح کا ناموس ہے، اگر آپ کو میری زندگی میں مبعوث کیا گیا تو میں آپ کو تقویت پہنچاؤں گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تائید کروں گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لاؤں گا۔

10489

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10489

Sahih

۔ (۱۰۴۸۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِیئَ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّادِقَۃُ فِی النَوْمِ، وَکَانَ لَا َیرٰی رُؤْیًا إِلَّا جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّّ حُبِّبَ اِلَیْہِ الْخَلَائُ فَکَانَ یَأْتِیْ غَارَ حِرَائَ فَیَتَحَنَّثُ فِیْہِ وَھُوَ التَّعَبُّدُ اللَّیَالِیَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَیَتَزَوَّدُ لِذٰلِکَ ثُمَّّ یَرْجِعُ لِخَدِیْجَۃَ فَتُزَوِّدُہُ لِمِثْلِھَا حَتّٰی فَجِأَہُ الْحَقُّ وَھُوَ فِیْ غَارِ حِرَائَ فَجَائَہُ الْمَلَکُ فِیْہِ فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدُ ثُمَّّ أَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اقْرَأْ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدُ، ثُمَّّ أَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّالِثَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْد، ثُمَّّ أَرْسَلَنِی فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ} حَتّٰی بَلَغَ {مَا لَمْ یَعْلَمْ} قَالَ: فَرَجَعَ بِھَا تَرْجُفُ بَوَادِرُہُ، حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ: زَمِّلُوْنِیْ، فَزَمَّلُوْہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ ، فَقَالَ: یَا خَدِیْجَۃُ! مَا لِیْ؟ فَأَخْبَرَھَا الْخَبْرَ، قَالَ: وَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ، فَقَالَتْ لَہُ: کَلَّا اَبْشِرْ، فَوَاللّٰہِ! لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ أَبْدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ، ثُمَّّ انْطَلَقَتْ بِہٖخَدِیْجَۃُ حَتّٰی أَتَتْ بِہٖوَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِالْعُزَّی بْنِ قُصَیٍّ، وَھُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِیْجَۃَ أَخِیْ أَبِیْھَا وَکَانَ اِمْرَئً تَنَصَّرَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیِّ، فَکَتَبَ بِالْعَرَبِیَّۃِ مِنَ الْإِنْجِیْلِ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَکْتُبَ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ عَمِیَ، فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ: أَیِ ابْنَ عَمِّ! اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِیْکَ، فَقَالَ وَرَقَۃُ: ابْنَ أَخِیْ مَا تَرٰی؟ فَأَخْبَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا رَأٰی، فَقَالَ رَوَقَۃُ: ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ أُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ، یَالَیْتَنِیْ فِیْھَا جَذَعًا أَکُوْنَ حَیًّا حِیْنَیُخْرِجُکَ قَوْمُکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوَ مُخْرِجِیَّ ھُمْ؟ )) فَقَالَ وَرَقَۃُ: نَعَمْ، لَمْ یَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِہٖإِلاَّعُوْدِیَ، وَإِنْ یُدْرِکْنِییَوْمُکَ اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا، ثُمَّّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ أَنْ تُوُفِّیَ، وَفَتَرَ الْوَحْیُ فَتْرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْہُ مِرَارًا کَیْیَتَرَدّٰی مِنْ رُؤُوْسِ شَوَاھِقِ الْجِبَالِ، فَکُلَّمَا اَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ لِکَیْیُلْقِیَ نَفْسَہُ مِنْہُ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا فَیُسْکِنُ ذٰلِکَ جَأْشَہُ وَتَقَرُّ نَفْسُہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَیَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَیِْہِ وَفَتَرَ الْوَحْیُ غَدَا لِمِثْلِ ذٰلِکَ، فَإِذَا أَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف وحی کی ابتداء نیند میں سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو خواب بھی دیکھتے، وہ صبح کے پھٹنے کی طرح پورا ہو جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خلوت کو پسند کرنے لگے اور غارِ حرا میں جا کر چند راتیں عبادت کرتے اور ان دنوں کا توشہ لے جاتے، پھر سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف لوٹتے اور اتنے دنوں کے لیے پھر زاد لے جاتے، یہاں تک کہ ایک دن اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حق آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غارِ حرا میں ہی تھے، فرشتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، چنانچہ اس نے مجھے پکڑ کر اس قدر دبایا کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور کہا: پڑھو، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہے، اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دبایا، حتی کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور پھر کہا: پڑھیں، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑ کر تیسری دفعہ دبایا اور مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ … …مَا لَمْ یَعْلَمْ} پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر کو لوٹے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔ پس انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا،یہاں تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گھبراہٹ ختم ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ کو سارا واقعہ سنا دیا اور فرمایا: میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ لیکن سیدہ نے کہا: ہر گز نہیں، آپ خوش رہیں، پس اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور امورِ حق میں مدد کرتے ہیں، پھر سیدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی، وہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچے کا بیٹا تھا، جاہلیت میں عیسائیت کو اختیار کر چکا تھا، چونکہ یہ عربی زبان لکھ سکتا تھا، اس لیے انجیل کو عربی زبان میں لکھتا تھا، یہ بزرگ آدمی تھا اور اب نابینا ہو چکا تھا، سیدہ نے اس سے کہا: اے میرے چچے کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو، ورقہ نے کہا: بھتیجے! تو کیا دیکھ رہا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساری تفصیل بیان کی، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے، جو موسی علیہ السلام پر نازل کیا گیا، کاش میں اس وقت مضبوط ہوتا، جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: جی ہاں، جو چیز آپ لائے ہیں، جو آدمی بھی ایسی لے کر آیا ہے، اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر آپ کے اُس وقت نے مجھے پا لیا تو میں آپ کی خوب مدد کروں گا، لیکن جلد ہی ورقہ وفات پاگیا اور وحی رک گئی، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمگین تھے، بلکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غم اس قدر بڑھ گیا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی بار چاہا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے گر پڑیں، جب کبھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہاڑ کی چوٹی پر چڑتے تاکہ اپنے آپ کو وہاں سے گرا دیں تو جبریل علیہ السلام سامنے آتے اور کہتے: اے محمد! بیشک آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل کا اضطراب کم ہو جاتا اور نفس مطمئن ہو جاتا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوٹ آتے، جب پھر مدت طول پکڑتی اور وحی رکی رہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر اسی طرح کرتے اور جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ظاہر ہوتا اور پہلے والی بات دوہراتا۔

10490

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10490

Sahih

۔ (۱۰۴۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُنْزِلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ ابْنُ أَرْبَعِیْنَ، وَکَانَ بِمَکَّۃَ ثَلَاثَ عَشَرَۃَ سَنَۃً، وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرًا، فَمَاتَ وَھُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر چالیس برس تھی، پھر مکہ مکرمہ میں تیرہ برس اور مدینہ منورہ میں دس برس ٹھہرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔

10491

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10491

Sahih

۔ (۱۰۴۹۱)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: أَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ خَمْسَ عَشَرَۃَ سَنَۃً، سَبْعَ سِنِیْنَیَرَی الضَّوْئَ وَیَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِیَ سِنِیْنَیُوْحٰی اِلِیْہِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرَ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں پندرہ برس ٹھہرے، ان میں سات سال تک تو روشنی دیکھتے اور آواز سنتے تھے اور آٹھ سالوں میں وحی نازل ہوتی رہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں دس سال تک مقیم رہے۔

10492

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10492

Sahih

۔ (۱۰۴۹۲)۔ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلٰی بَنِیْ ھَاشِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَمْ اَتٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ مَاتَ؟ قَالَ: مَا کُنْتُ أُرٰی مِثْلَکَ فِیْ قَوْمِہِ یَخْفٰی عَلَیْکَ ذٰلِکَ، قَالَ: قُلْتُ: اِنِّی سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَیَّ، فَاَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَکَ فِیْہِ، قَالَ: اَ تَحْسِبُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمْسِکْ أَرْبَعِیْنَ بُعِثَ لَھَا، وَخَمْسَ عَشْرَۃَ، أَقَامَ بِمَکَّۃَیَأْمَنُ وَیَخَافُ، وَعَشْرًا مُھَاجِرًا بِالْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مولائے بنی ہاشم عمار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے وقت کتنی عمر تھی؟ انھوں نے کہا: میرا خیال نہیں تھا کہ تیرے جیسا آدمی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قوم میں رہا اور تجھ پر یہ چیز مخفی ہے، میں نے کہا: میں نے پوچھا تو ہے، لیکن مجھ پر اختلاف کیا گیا ہے، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بارے میں تیرے قول کا علم ہو جائے، انھوں نے کہا: کیا تو شمار کر سکتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جمع کر، چالیس برس کی عمر میںآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا، پھر آپ مکہ مکرمہ میں پندرہ سال رہے، اس دور میں امن بھی تھا اور خوف بھی، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گئے تو وہاں دس سال قیام کیا۔

10493

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10493

Sahih

۔ (۱۰۴۹۳)۔ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ زِیَادٍ الْعَدَوِیِّ أَنَّہُ قَالَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ سِنَّ أَیِّ الرِّجَالِ کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ بُعِثَ؟ قَالَ: ابْنُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، قَالَ: ثُمَّّ کَانَ مَاذَا؟ قَالَ: کَانَ بِمَکَّۃَعَشْرَ سِنِیْنَ، وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ، فَتَمَّتْ لَہُ سِتُّوْنَ سَنَۃً ثُمَّّ قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ اِلَیْہِ، قَالَ: سِنُّ أَیِّ الرِّجَالِ ھُوَ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: کَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَحْسَنِہِ وَأَجْمَلِہِ وَأَلْحَمِہِ، قَالَ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! ھَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْتُ مَعَہُ یَوْمَ حُنَیْنٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ علاء بن زیاد عدوی سے مروی ہے کہ اس نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر کتنی تھی؟ انھوں نے کہا: چالیس برس، اس نے کہا: پھر کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں بھی دس برس ٹھہرے اور مدینہ میں بھی دس سال، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ساٹھ برس عمر پوری ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات دے دی، اس نے کہا: ان دنوںمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیسی عمر کے آدمی لگتے تھے؟ انھوں نے کہا: جیسے سب سے بھرپور نوجوان ہوں، سب سے زیادہ حسین و جمیل اور پرگوشت۔ اس نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں غزوۂ حنین کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا۔

10494

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10494

Sahih

۔ (۱۰۴۹۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَاوَرْتُ بِحِرَائَ شَھْرَا فَلَمَّا قَضَیْتُ جِوَارِیْ نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِیْ فَنُوْدِیْتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِیْ وَخَلْفِیْ وَعَنْ یَمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّّ نُوْدِیْتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، ثُمَّّ نُوْدِیْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَاِذَا ھُوَ عَلَی الْعَرْشِ فِی الْھَوَائِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِذَا ھُوَ قَاعِدٌ عَلَی عَرْشٍ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ) فَأَخَذَتْنِیْ وَجْفَۃٌ شَدِیْدَۃٌ فَأَتَیْتُ خَدِیْجَۃَ فَقُلْتُ: دَثِّرُوْنِیْ، فَدَثَّرُوْنِیْ وَصَبُّوْا عَلَیَّ مَائً ا فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ} (مسند احمد: ۱۴۳۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے غارِ حراء میں ایک ماہ تک مجاورت اختیار کی، جب میں نے یہ مدت پوری کی اوروہاں سے اتر کر وادی کی ہموار جگہ پر آیا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، اتنے میں پھر مجھے آواز دی گئی، میں نے پھر اسی طرح دیکھا، لیکن کسی کو نہ دیکھ سکا، پھر مجھے آواز دی گئی، پس اب کی بار جب میں نے سر اٹھایا تو وہ فرشتہ فضا میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا، ایک روایت میں ہے: وہ آسمان اور زمین کے مابین تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اس سے مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، پس انھوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔

10495

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10495

Zaeef

۔ (۱۰۴۹۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بِرْذُوْنٍ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ طَرَفُھَا بَیْنَ کَتِفَیْہِ، فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((رَأَیْتِہِ؟ ذٰلِکَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر نبی کریم کے پاس آئے، انھوں نے پگڑی باندھی ہوئی تھی اور اس کا کنارہ ان کے کندھوں کے درمیان تھا، جب میں نے ان کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے دیکھ لیا ہے اس کو؟ یہ جبریل علیہ السلام تھے۔

10496

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10496

Sahih

۔ (۱۰۴۹۶)۔ عَنْ مُوْسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبُوْ سَلَمَۃَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِیْ مَرَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُنَاجِیْ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَزَعَمَ اَبُوْسَلَمَۃَ أَنَّہُ تَجَنَّبَ أَنْ یَدْنُوَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَخَوُّفًا أَنْ یَسْمَعَ حَدِیْثَہُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تُسَلِّمَ اِذْ مَرَرَتَ بِی الْبَارِحَۃَ؟)) قَالَ: رَأَیْتُکَ تُنَاجِیْ رَجُلًا فَخَشِیْتُ أَنْ تَکْرَہَ اَنْ أَدْنُوَ مِنْکُمَا، قَالَ: ((وَھَلْ تَدْرِیْ مَنِ الرَّجُلُ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَذٰلِکَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَلَوْ سَلَّمْتَ لَرَدَّ السَّلَامَ)) وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ غَیْرِ أَبِیْ سَلَمَۃَ أَنَّہُ حَارِثَۃُ بْنُ النُّعْمَانِ۔ (مسند احمد: ۱۶۳۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سلمہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام سے سرگوشی کر رہے تھے، اس آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہونے سے اجتناب کیا ، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن لے، جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی سے فرمایا: جب تو گزشتہ رات ہمارے پاس سے گزرا تھا تو تجھے کس چیز نے سلام کرنے سے روک دیا تھا؟ اس نے کہا: جی میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ایک آدمی سے سرگوشی کر رہے تھے، اس لیے میں اس چیز سے ڈر گیا کہ ممکن ہے کہ آپ میرے قریب آنے کو ناپسند کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ آدمی کون تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے، اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔ راوی کہتا ہے: میں نے غیر ابو سلمہ سے سنا کہ وہ سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھا۔

10497

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10497

Zaeef

۔ (۱۰۴۹۷)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ تُحِسُّ بِالْوَحْیِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ، أَسْمَعُ صَلَاصِلَ، ثُمَّّ اَسْکُتُ عِنْدَ ذٰلِکَ، فَمَا مِنْ مَرَّۃٍیُوْحٰی اِلَیَّ اِلَّا ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِیْ تَفِیْضُ۔)) (مسند احمد: ۷۰۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وحی کو محسوس کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، جب میں گونج دار آوازیں سنتا ہوں، تو اسی وقت خاموش ہو جاتا ہوں، جب بھی میری طرف وحی کی جاتی ہے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ میرا نفس نکلنے والا ہے۔

10498

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10498

Sahih

۔ (۱۰۴۹۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ أَوْ عَنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُنَا فَیُذَکِّرُنَا بِأَیَّامِ اللّٰہِ حَتّٰی نَعْرِفَ ذٰلِکَ فِیْ وَجْھِہِ وَکَأَنَّہُ نَذِیْرُ قَوْمٍ یُصَبِّحُھُمُ الْأَمْرُ غُدْوَۃً، وَکَانَ اِذَا کَانَ حَدِیْثَ عَھْدٍ بِجِبْرِیْلَ لَمْ یَتَبَسَّمْ ضَاحِکًا حَتّٰییَرْتَفِعَ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علییا سیدنازبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم سے مخاطب ہوتے اور (سابقہ امتوں پر) اللہ تعالیٰ کے انعامات اور واقعات کے ساتھ نصیحت کرتے، تو ہم اس چیز کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے (خوف سے بدلے ہوئے) چہرے سے پہنچان لیتے تھے، ایسے لگتا تھا کہ آپ اپنی قوم کو ڈرا رہے ہیں اور بس اگلے روز کی صبح کو عذاب آ جائے گا، اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات کرتے تھے تو اس وقت تک نہیں مسکراتے تھے، جب تک وہ چلے نہیں جاتے تھے۔

10499

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10499

Zaeef

۔ (۱۰۴۹۹)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: کَانَ اِذَا نَزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ الْوَحْیُیُسْمَعُ عِنْدَ وَجْھِہِ دَوِیٌّ کَدَوِیِّ النَّحْلِ۔ (مسند احمد: ۲۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کے قریب شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی سی آواز سنائی دیتی تھی۔

10500

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10500

Sahih

۔ (۱۰۵۰۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِنْ کَانَ لَیَنْزِلُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْغَدَاۃِ الْبَارِدَۃِ ثُمَّّ تَفِیْضُ جَبْھَتُہُ عَرَقًا۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سردی والی صبح کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، لیکن پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا۔

10501

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10501

Sahih

۔ (۱۰۵۰۱)۔ عَنْھَا اَیْضًا أَنَّھَا قَالَتْ: اِنْ کَانْ لَیُوْحٰی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ فَتَضْرِبُ بِجِرَانِھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۳۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ اپنی سواری پر ہوتے تو وہ اپنی گردن کوزمین پر پھیلا دیتی تھی۔

10502

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10502

Zaeef

۔ (۱۰۵۰۲)۔ عَنْھا اَیْضًا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِذَا کَانَ حَدِیْثَ عَھْدٍ بِجِبْرِیْلَیُدَارِسُہُ کَانَ أَجْوَدَ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جبریل علیہ السلام سے نئی نئی ملاقات ہوتی اور وہ آپ سے قرآن مجید کا دور کرتے تو آپ چھوڑی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ مال کی سخاوت کرنے والے ہوتے تھے۔

10503

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10503

Sahih

۔ (۱۰۵۰۳)۔ عَنْھَا اَیْضًا اِنَّ الْحٰرِثَ بْنَ ھِشَامٍ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَیَأْتِیْکَ الْوَحْیُ؟ قَالَ: ((أَحْیَانًایَأْتِیْنِیْ مَلَکٌ مِثْلَ صَلْصَلَۃِ الْجَرْسِ وَھُوَ أَشَدُّ عَلَیَّ، ثُمَّّ یُفْصَمُ عَنِّیْ وَقَدْ وَعَیْتُ، وَأَحْیَانًایَأْتِیْنِیْ مَلَکٌ فِیْ مِثْلِ صُوْرَۃِ الرَّجُلِ فَأَعِیْ مَا یَقُوْلُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حارث بن ہشام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کبھی کھبی تو فرشتہ اس طرح آتا ہے کہ گھنٹی کی گونج کی سی آواز آتی ہے، یہ کیفیت مجھ پر بڑی گراں گزرتی ہے، لیکن جب وہ مجھ سے جدا ہوتا ہے تو میں اس وحی کو یاد کر چکا ہوتا ہوں اور بسا اوقات فرشتہ مرد کی صورت میں آتا ہے، پھر جو کچھ وہ کہتا ہے، میں اس کو یاد کر لیتا ہوں۔