Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2044

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

داود علیہ السلام کی وفات، وفات کی کیفیت اور ان کی عمر کا بیان

1 hadith in this chapter

10401

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10401

Zaeef

۔ (۱۰۴۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَانَ دَاوٗدُالنَّبِیُّ فِیْہِ غَیْرَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، وَ کَانَ اِذَا خَرَجَ اُغْلِقَتِ الْاَبْوَابُ فَلَمْ یَدْخُلْ عَلٰی اَھْلِہِ اَحَدٌ حَتّٰییَرْجِعَ، قَالَ: فَخَرَجَ ذَاتَ یَوْمٍ وَ غُلِّقَتِ الدَّارُ فَاَقْبَلَتْ اِمَرَاَتُہُ تَطَّلِعُ اِلَی الدَّارِ فَاِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسْطَ الدَّارِ، فَقَالَت لِمَنْ فِیْ الْبَیْتِ: مِنْ اَیْنَ دَخَلَ ھٰذَا الرَّجُلُ الدَّارَ وَالدَّارُ مُغْلَقَۃٌ؟ وَاللّٰہِ لَتُفْتَضَحَنَّ بِدَاوُدَ فَجَائَ دَاوُدُ، فَاِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسْطَ الدَّارِ، فَقَالَ لَہُ دَاوُدُ: مَنْ اَنْتَ؟ قَالَ: اَنَا الَّذِیْ لَا اَھَابُ الْمُلُوْکَ وَ لَا یَمْتَنِعُ مِنِّی شَیْئٌ، فَقَالَ دَاوُدُ: اَنْتَ وَاللّٰہِ! مَلَکُ الْمَوْتِ، فَمَرْحَبًا بِاَمْرِ اللّٰہِ، فَرُمِلَ دَاوُدُ مَکَانَہُ حَیْثُ قُبِضَتْ رُوْحُہُ حَتّٰی فَرَغَ مِنْ شَاْنِہِ وَطَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ، فَقَالَ سُلَیْمَانُ لِلطَّیْرِ: اَظِلِّیْ عَلٰی دَاوُدَ، فَاَظَلَّتْ عَلَیْہِ الطَّیْرُ حَتَّی اَظْلَمَتْ عَلَیْھِمَا الْاَرْضُ، فَقَالَ لَھَا سُلَیْمَانُ: اقْبِضِیْ جَنَاحًا جَنَاحًا۔)) قَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃ: یُرِیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ فَعَلَتِ الطَّیْرُ، وَقَبَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ، وَ غَلَبَتْ عَلَیْہِ ِیَوْمَئِذٍ الْمَصْرَجیَّۃُ۔ (مسند احمد: ۹۴۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی داود علیہ السلام شدید غیرت سے متصف تھے، جب وہ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر دیئے جاتے اور ان کے گھر والوں کے پاس کوئی نہ آ سکتا، یہاں تک کہ وہ واپس تشریف لے آتے، ایک دن روٹین کے مطابق وہ باہر چلے گئے اور گھر کو بند کر دیا گیا، لیکن جب ان کی بیوی گھر کی طرف متوجہ ہوئی تو انھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی گھر کے درمیان میں کھڑا ہے، انھوں نے اس شخص کے بارے میں کہا: یہ آدمی گھر میں کیسے داخل ہوا، جبکہ گھر بند تھا؟ اللہ کی قسم! ہمیں داود کے ساتھ رسوا ہونا پڑے گا، اتنے میں داود علیہ السلام آگئے، جب انھوں نے گھر کے بیچ میں ایک آدمی کو دیکھا تو انھوں نے کہا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں وہ ہوں، جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا، بلکہ کوئی چیز مجھ سے بچ نہیں سکتی، داود علیہ السلام نے کہا: اللہ کی قسم! تو تو ملک الموت ہے، اللہ کے حکم کو مرحبا، داود علیہ السلام نے اس جگہ پر دفن ہونا تھا، جہاں ان کی روح قبض ہوئی، اُدھر جب فرشتہ اپنے کام سے فارغ ہوا تو سورج طلوع ہو گیا، سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے کہا: داود پر سایہ کرو، پس پرندوں نے ان پر سایہ کیا،یہاں تک کہ زمین نے ان دونوں پر اندھیرا کر دیا، سلیمان علیہ السلام نے کہا: ایک ایک پر بند کرو۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دکھایا کہ پرندوں نے کیسے کیا، ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک بند کیا، اس دن لمبے پروں والے شکرے ان پر غالب آ گئے۔