Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 168 · Chapter 2045

انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان

اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام اور ان کی بادشاہت کے عظیم ہونے کا بیان

2 hadiths in this chapter

10402

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10402

Sahih

۔ (۱۰۴۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، سَاَلَ اللّٰہَ ثَلَاثًا فَاَعْطَاہُ ثِنْتَیْنِ، وَ نَحْنُ نَرْجُوْ اَنْ تَکُوْنَ لَہُ الثَّالِثَۃُ فَسَاَلَہُ حُکْمًایُصَادِفُ حُکْمَہُ فَاَعْطَاہُ اِیَّاہُ، وَ سَاَلَہُ مُلْکًا لَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِہِ فَاَعْطَاہُ ِایَّاہُ، وَ سَاَلَہُ اَیُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ لَا یُرِیْدُ اِلَّا الصَّلَاۃَ فِیْ ھٰذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِیْئَتِہِ مِثْلَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ فَنَحْنُ نَرْجُوْ اَنْ یَکُوْنَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۶۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں عطا کر دیں اور ہم تیسری کے بارے میں بھی امید رکھتے ہیں، انھوں نے یہ سوال کیا کہ ان کا حکم اور فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کے موافق ہو، پس اس نے ان کو یہ چیز عطا کر دی، انھوں نے ایسی بادشاہت کا سوال کیا، جو ان کے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو، پس اس نے ان کو یہ چیز بھی دے دی اور انھوں نے تیسرا سوال یہ کیا کہ جو آدمی اپنے گھر سے صرف نماز ادا کرنے کے لیے نکلے اور اس مسجد میں آئے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح صاف ہو جائے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، پس ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ چیز بھی عطا کر دی ہو گی۔

10403

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10403

Sahih

۔ (۱۰۴۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ عِفْرِیْتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَیَّ الْبَارِحَۃَ لِیَقْطَعَ عَلَیَّ الصَّلَاۃَ، فَاَمْکَنَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ فَدَعَتُّہُ وَاَرَدْتُ اَنْ اَرِبِطَہُ اِلٰی جَنْبِ سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ حَتّٰی تُصْبِحُوْا فَتَنْظُرُوْا اِلَیْہِ کُلُّکُمْ اَجْمَعُوْنَ۔)) قَالَ: ((فَذَکَرْتُ دَعْوَۃَ اَخِیْ سُلَیْمَانَ رَبِّ ھَبْ لِیْ مُلْکًا لَا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِیْ، قَالَ: فَرَدَّہُ خَاسِئًا۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک شیطان نے گزشتہ رات میری نماز کو کاٹنے کے لیے مجھ پر حملہ کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت دی اور میں نے اس کو دھکا دیا، پھر میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ تم سارے صبح کے وقت اس کو دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنی بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی: اے میرے ربّ! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما کہ جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو، پس اس کو ناکام و نامراد لوٹا دیا۔