Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 165 · Chapter 1976

تعریف اور مذمت کی کتاب

اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی

10 hadiths in this chapter

10111

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10111

Sahih

۔ (۱۰۱۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَتَّخِذُ عِنْدَکَ عَھْدًا لَنْ تُخْلِفَنِیْہِ، اِنّمَااَنَا بَشَرٌ فاَیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ آذَیْتُہُ اَوْ شَتَمْتُہُ اَوْ جَلَدْتُہُ اَوْ لَعَنْتُہُ، فَاجْعَلْھَا لَہُ صَلَاۃً وَزَکَاۃً وَقُرْبَۃً تُقَرِّبُہُ بِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۱۱۳۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھ سے ایک معاہدہ لیتا ہوں، تو نے ہر گز اس کی مخالفت نہیں کرنی، میں صرف اور صرف ایک بشر ہوں، پس جس مؤمن کو میں تکلیف دوں، یا اس کو گالی دوں، یا اس کو کوڑے لگاؤں، یا اس پر لعنت کروں، پس تو اس چیز کو اس کے لیے رحمت، پاکیزگی اور تقرب کا ایسا سبب بنا کہ جس کے ذریعے تو اس کو قیامت کے دن اپنے قریب کر لے ۔

10112

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10112

Sahih

۔ (۱۰۱۱۲)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ اَبِیْ قُرَّۃَ، قَالَ: کَانَ حُذَیْفَۃُ (یَعْنِیْ ابْنَ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) بِالْمَدَائِنِ فَکَانَ یَذْکُرُ اَشْیَائً قَالَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَجَائَ حُذَیْفَۃُ اِلَی سَلْمَانَ فَیَقُوْلُ سَلْمَانُ: یَا حُذَیْفَۃُ! اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَغْضَبُ فَیَقُوْلُ وَیَرْضٰی وَیَقُوْلُ، لَقَدْ عَلِمْتُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ فَقَالَ: ((اُیَّمَا رَجُلٍ مِنْ اُمَّتِیْ سَبَبْتُہُ سَبَّۃً فِیْ غَضَبِیْ، اَوْ لَعَنْتُہُ لَعْنَۃً فَاِنّمَا اَنَا مِنْ وُلْدِ آدَمَ اَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُوْنَ، وَاِنّمَا بَعَثَنِیْ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِیْنَ، فَاجْعَلْھَا صَلَاۃً عَلَیْہِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۲۴۱۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عمرو بن ابو فرہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدائن میں تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ذکر کردہ احادیث بیان کیا کرتے تھے، جب سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عمرو بن ابو فرہ سے مروی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مدائن میں تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ذکر کردہ احادیث بیان کیا کرتے تھے، جب سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے

10113

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10113

Sahih

۔ (۱۰۱۱۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَفَعَ اِلٰی حَفْصَۃَ اِبْنَۃِ عُمَرَ رَجُلًا، فَقَالَ: احْتَفِظِیْ بِہٖ،قَالَ: فَغَفَلَتْحَفْصَۃُ وَمَضَی الرَّجُلُ، فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((یَاحَفْصَۃُ! مَا فَعَلَ الرَّجُلُ؟)) قَالَتْ: غَفَلْتُ عَنْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَخَرَجَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَطَعَ اللّٰہُ یَدَکِ۔)) فَرَفَعَتْ یَدَیْھَا ھٰکَذَا، فَدَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَاشَاْنُکِ یَا حَفْصَۃُ؟)) فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْتَ قَبْلُ لِیْ کَذَا وَکَذَا، فَقَالَ لَھَا: ((صُفِّیْیَدَیْکِ، فَاِنِّیْ سَاَلْتُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَیُّ اِنْسَانٍ مِنْ اُمَّتِیْ دَعَوْتُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ عَلَیْہِ اَنْ یَجْعَلَھَا لَہُ مَغْفِرَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے سپرد کیا اور فرمایا: اس کی حفاظت کر کے رکھنا۔ لیکن انھوں نے غفلت برتی اور وہ بندہ نکل گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور فرمایا: حفصہ! اس آدمی کا کیا بنا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے غفلت ہو گئی اور وہ نکل گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں کو کاٹ دے۔ یہ سن کر سیدہ نے اپنے ہاتھ اس طرح بلند کر لیے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہوئی اور پوچھا: حفصہ! تجھے کیا ہو گیا ہے ؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے کچھ دیر پہلے مجھے یہ بد دعا دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے ہاتھوں کو سیدھا کر لے، پس بیشک میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا ہے کہ میں اپنی امت کے جس فرد کو بد دعا دوں، وہ اس کو اس کے لیے بخشش کا ذریعہ بنا دے۔

10114

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10114

Sahih

۔ (۱۰۱۱۴)۔ عَنْ ذَکْوَانَ مَوْلیٰ عَائِشَۃَ،عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاَسِیْرٍ فَلَھَوْتُ عَنْہُ فَذَھَبَ فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَافَعَلَ الْاَسِیْرُ؟)) قَالَتْ: لَھَوْتُ عَنْہُ مَعَ النِّسْوَۃِ فَخَرَجَ، فَقَالَ: ((مَالَکِ قَطَعَ اللّٰہُ یَدَکِ اَوْ یَدَیْکِ۔)) فَخَرَجَ فَآذَنَ بِہٖالنَّاسَفَطَلَبُوْہُفَجَائُوْابِہٖفَدَخَلَعَلَیَّ وَاَنَا اُقَلِّبُ یَدَیَّ، فَقَالَ: ((مَالَکِ اَجُنِـنْتِ؟)) قُلْتُ: دَعَوْتَ عَلَیَّ فَاَنَا اُقَلِّبُ یَدَیَّ اَنْظُرُ اَیُّھُمَایُقْطَعَانِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِرَفَعَیَدَیْہِ مَدًّا وقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ بَشَرٌ اَغْضَبُ کَمَا یَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَاَیُّمَا مُؤْمِنٍ اَوْ مُؤْمِنَۃٍ دَعَوْتُ عَلَیْہِ فَاجْعَلْہُ لَہُ زَکَاۃً وَطُھْرًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں؛ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک قیدی میرے پاس لائے، لیکن میں اس سے غافل ہو گئی اور وہ بھاگ گیا، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو پوچھا: قیدی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جی میں دوسری خواتین کے ساتھ غافل ہو گئی تھی، پس وہ نکل گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں یا پاؤں کو کاٹ دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے گئے اور لوگوں میں اس قیدی کا اعلان کیا، پس انھوں نے اس کو تلاش کیا اور پکڑ کر لے آئے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر رہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے، پاگل ہو گئی ہے تو؟ میں نے کہا: جی آپ نے مجھ پر بد دعا کی ہے، اب میں اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ رہی ہوں کہ کون سا ہاتھ پہلے کٹتا ہے، ہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حمد و ثنا بیان کی اور اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اے اللہ! بیشک میں ایک بشر ہوں اور بشر کی طرح ہی غصے ہو جاتا ہوں، پس میں جس مؤمن مردیا عورت پر بد دعا کروں تو اس کو اس کے لیے پاکیزگی اور طہارت کا سبب بنا دے۔

10115

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10115

Sahih

۔ (۱۰۱۱۵)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ اِزَارٍ وَرِدَائٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَبَسَطَ یَدَیْہِ فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ، فَاَیُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِکَ ضَرَبْتُ، اَوْ آذَیْتُ فَـلَا تُعَاقِبْنِیْ بِہٖ۔)) قَالَ: بھزفیہ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چادر اور ازار پہنا ہوا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبلہ رخ ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور یہ دعا کی: اے اللہ! میں ایک بشر ہوں، پس میں تیرے جس بندے کو ماروں یا تکلیف دوں تو تو نے اس کی وجہ سے مجھے سزا نہیں دینی۔

10116

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10116

Sahih

۔ (۱۰۱۱۶)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِنَّ اَمْدَادَ الْعَرَبِ کَثَرُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی غَمُّوْہُ وَقَامَ الْمُھَاجِرُوْنَ یُفَرِّجُوْنَ عَنْہُ حَتَّی قَامَ عَلٰی عَتَبَۃِ عَائِشَۃَ، فَرَھِقُوْہُ فَاَسْلَمَ رِدَائَہُ فِیْ اَیْدِیْھِمْ، وَوَثَبَ عَلَیالْعَتَبَۃِ فَدَخَلَ وَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلَکَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((کَلَّا وَاللّٰہِ! یَا بِنْتَ اَبِیْ بَکْرٍ! لَقَدِ اشْتَرَطْتُ عَلٰی رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ شَرْطًا لَا خُلْفَ لَہُ۔)) فَقُلْتُ: ((اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ اَضِیْقُ کَمَا یَضِیْقُ بِہٖالْبَشَرُ،فَاَیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ بَدَرَتْ اِلَیْہِ مِنِّیْ بَادِرَۃٌ فَاجْعَلْھَا لَہُ کَـفَّارَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۵۲۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ عرب اعوان وانصاری اس کثرت سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور اتنا ہجوم ہوا کہ مہاجرین کھڑے ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کشادگی پیدا کرنے لگے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی دہلیز کے پاس کھڑے ہو گئے، پھر وہ اس قدر قریب ہو گئے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی چادر پکڑا دی اور خود جلدی سے دہلیز پر چڑھ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر داخل ہو گئے اور فرمایا: اے اللہ! ان پر لعنت کر۔ سیدہ نے کہا: لوگ تو ہلاک ہو گئے ہیں، (کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعنت کر دی ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اے ابو بکر کی بیٹی! میں نے اپنے ربّ سے ایک شرط لگائی ہے، وہ اس کی مخالفت نہیں کرے گا، میں نے اپنے ربّ سے کہا: میں تو ایک بشر ہی ہوں اور بشر کی طرح ہی تنگ ہو جاتا ہوں، پس جس مؤمن کے حق میں میری طرف سے غصہ کی حالت میں کوئی بات نکل جائے تو اس کو اس کے حق میں کفارہ بنا دے۔

10117

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10117

Sahih

۔ (۱۰۱۱۷)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلَانِ فَاَغْلَظَ لَھُمَا وَسَبَّھُمَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَمَنْ اَصَابَ مِنْکَ خَیْرًا مَا اَصَابَ ھٰذَانِ مِنْکَ خَیْرًا قَالَتْ: فَقَالَ: ((اَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَھِدْتُ عَلَیْہِ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰھُمَّ اَیُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُہُ اَوْ جَلَدْتُہُ اَوْ لَعَنْتُہُ فَاجْعَلْھَا لَہُ مَغْفِرَۃً وَعَافِیَۃً وَکَذَا وَکَذَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: دو آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر خوب سختی کی اور برا بھلا کہا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے آپ کی طرف سے خیر پائی (یہ تو ٹھیک ہے) لیکن ان بیچاروں کو آپ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ملی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ سے جو معاہدہ کیا ہے، کیا تو اس کو نہیں جانتی، میں نے اپنے ربّ سے کہا: اے اللہ! میں نے جس مؤمن کو برا بھلا کہا، یا کوڑے لگائے، یا لعنت کی تو تو اس کو اس کے حق میں بخشش اور عافیت کا سبب قرار دے۔

10118

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10118

Sahih

۔ (۱۰۱۱۸)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ غَزْوَۃِ تَبُوکَ قَالَ: فَبَلَغَہُ اَنَّ فِیْ الْمَائِ قِلَّۃً الَّذِیْیَرِدُہُ فَاَمَرَ مُنَادِیًا فَنَادٰی فِیْ النَّاسِ اَنْ لَا یَسْبِقْنِیْ اِلَی الْمَائِ اَحَدٌ، فَاَتَی الْمَائَ وَقَدْ سَبَقَہُ قَوْمٌ فَلَعَنَھُمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر نکلے، جب راستے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا علم ہوا کہ اس پانی میں قلت ہے، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وارد ہونے والے ہیں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ کوئی آدمی پانی کی طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سبقت نہ لے جائے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ کچھ افراد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سبقت لے جا چکے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر لعنت کی۔

10119

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10119

Sahih

۔ (۱۰۱۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ السَّوَّارِ، عَنْ خَالِہِ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاُنَاسٌ یَتْبَعُوْنَہُ، فَاَتَّبَعْتُہُ مَعَھُمْ، قَالَ: فَفَجِئَنِی الْقَوْمُ یَسْعَوْنَ، قَالَ: وَاَبْقَی الْقَوْمُ، قَالَ: فَاَتَی عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَرَبَنِیْضَرْبَۃً،اِمَّا بِعَسِیْبٍ، اَوْ قَضِیْبٍ، اَوْ سِوَاکٍ، اَوْ شَیْئٍ کَانَ مَعَہُ، قَالَ: فَوَاللّٰہِ! مَا اَوْجَعَنِیْ، قَالَ: فَبِتُّ بِلَیْلَۃٍ، قَالَ: وَقُلْتُ: مَاضَرَبَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا لِشَیْئٍ عَلَّمَہُ اللّٰہُ فِیَّ، قَالَ: وَحَدَّثَنِیْ نَفْسِیْ اَنْ آتِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اَصْبَحْتُ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّکَ رَاعٍ لَا تَکْسِرَنَّ قُرُوْنَ رَعِیَّتِکَ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَیَّنَا الْغَدَاۃَ، اَوْ قَالَ: صَبَّحْنَا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اِنَّ اُنَاسًا یَتْبَعُوْنِیْ، وَاِنِّیْ لَا یُعْجِبُنِیْ اَنْ یَتَّبِعُوْنِیْ، اَللّٰھُمَّ فَمَنْ ضَرَبْتُ، اَوْ سَبَبْتُ، فَاجْعَلْھَا لَہُ کَفَّارَۃً وَاَجْرًا، اَوْ قَالَ: مَغْفِرَۃً وَرَحْمَۃً۔)) اَوْ کَمَا قَالَ۔(مسند احمد: ۲۲۸۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو سوار اپنے ماموں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک طرف گئے اور کچھ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے چل پڑے، میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لوگ جلدی جلدی چل رہے تھے، کچھ افراد پیچھے رہ گئے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک چیزسے ضرب لگائی، وہ کھجور کی شاخ، یا چھڑی،یا مسواک، یا کوئی اور چیز تھی، پس اللہ کی قسم! اس نے مجھے تکلیف تو نہیں دی، لیکن میری وہ رات سوچ و بچار میں ہی گزر گئی، میں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے صرف اس چیز کی وجہ سے مارا ہو گا، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو میرے بارے میں بتلائی ہو گی، پھر مجھے خیال آیا کہ جب صبح ہو گی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤں گا، پس جبریل علیہ السلام یہ پیغام لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئے: بیشک آپ نگہبان ہیں، پس اپنی رعایا کے سینگ نہ توڑ دینا (یعنی ان کے ساتھ نرمی کرنا)۔ پس جب ہم نے نماز فجر ادا کییا صبح کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔

10120

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10120

Sahih

۔ (۱۰۱۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی اَبِیْ الطُّفَیْلِ فَوَجَدْتُہُ طَیَّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ: لَاَغْتَنِمَنَّ ذٰلِکَ مِنْہُ، فَقُلْتُ:یَا اَبَا الطُّفَیْلِ! النَّفَرُ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ بَیْنِھِمْ مَنْ ھُمْ؟ فَھَمَّ اَنْ یُخْبِرَنِیْ بِھِمْ، فَقَالَتْ لَہُ امْرَاَتُہُ سَوْدَۃُ: مَہْ یَا اَبَا الطُّفَیْلِ! اَمَا بَلَغَکَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ فَاَیُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ دَعَوْتُ عَلَیْہِ دَعْوَۃً فَاجْعَلْھَا لَہُ زَکَاۃً وَرَحْمَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ اے اللہ! بیشک کچھ لوگ میرے پیچھے چلے، جبکہ میں یہ نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ میرے پیچھے چلیں، اے اللہ! پس میں نے جس آدمی کو مارا یا برا بھلا کہا تو تو اس چیز کو اس کے لیے کفارے، اجر، بخشش اور رحمت کا باعث قرار دے۔ یا جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا۔