Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 165 · Chapter 1975

تعریف اور مذمت کی کتاب

ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی

10 hadiths in this chapter

10101

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10101

Sahih

۔ (۱۰۱۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ حَسَّانَ، اَنَّ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، کَانَ یَاْمُرُ بِالْاَمْرِ فَیْؤُتٰی، فَیُقَالُ: قَدْ فَعَلْنَا کَذَا وَکَذَا، فَیَقُوْلُ : صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ الْاَشْتَرُ: اِنَّ ھٰذَا الَّذِیْ تَقُوْلُ، قَدْ تَفَشَّغَ فِیْ النَّاسِ اَ فَشَیْئٌ عَھِدَہُ اِلَیْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَا عَھِدَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا خَاصَّۃً دُوْنَ النَّاسِ، اِلَّا شَیْئٌ سَمِعْتُہُ مِنْہُ فَھُوَ فِیْ صَحِیْفَۃٍ فِیْ قِرَابِ سَیْفِیْ، قَالَ: فَلَمْ یَزَالُوْا بِہٖحَتّٰی اَخْرَجَ الصَّحِیْفَۃَ، قَالَ: فَاِذَا فِیْھَا: ((مَنْ اَحْدَثَ حَدَثًا اَوْ آوٰی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ والْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ، لَا یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ۔)) قَالَ وَاِذَا فِیْھَا: ((اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ)) اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۹۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو حسان سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب کوئی حکم دیتے اور اس کو پورا کر کے کہا جاتا کہ ہم لوگوں نے فلاں فلاں کام کر دیا ہے، تو وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے، اشتر نے ان سے کہا: آپ کی یہ بات لوگوں میں مشہور ہو گئی ہے، کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آپ کو اس کے بارے میں کوئی وصیت کی تھی؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کسی ایسی خاص چیز کی وصیت نہیں کی، جو دوسرے لوگوں کو نہ کی ہو، ما سوائے اس چیز کے، جو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے اور وہ میری تلوار کے میان میں موجود صحیفے میں ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے اصرار کرنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ انھوں نے صحیفہ نکالا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا: جس نے بدعت ایجاد کی،یا کسی بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور اس کی فرضی عبادت قبول ہو گی نہ نفلی۔ اس میں مزیدیہ حدیث بھی تھی: بیشک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا …۔

10102

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10102

Sahih

۔ (۱۰۱۰۲)۔ عَنْ اَبِیْ الطُّفَیْلِ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِیٍّ : اَخْبِرْنَا بِشَیْئٍ اَسَرَّہُ اِلَیْکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا اَسَرَّ اِلَیَّ شَیْئًا کَتَمَہُ النَّاسَ، وَلٰکِنْ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ، وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ آوٰی مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَیْہِ، وَلَعَنَ اللّٰہُ مَنْ غَیَّرَ تُخُوْمَ الْاَرْضِ یَعْنِیْ الْمَنَارَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو طفیل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ہمیں اس چیز کے بارے میں بتلاؤ جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف آپ کوعطا کی ہو، انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کوئی ایسی راز کی بات نہیں بتلائی، جس کو لوگوں سے چھپایا ہو، البتہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے بدعتی کو جگہ دی، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی لعنت کرے، جس نے زمین کے نشانات کو بدل دیا۔

10103

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10103

Sahih

۔ (۱۰۱۰۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِشْتَدَّ غَضَبُ اللّٰہِ عَلٰی رَجُلٍ یَقْتُلُہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص پر اللہ تعالیٰ کا غصہ سخت ہو گیا، جس کو اللہ کا رسول اس کی راہ میں قتل کر دے۔

10104

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10104

Zaeef

۔ (۱۰۱۰۴)۔ قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ، حَدَّثَنِیْ نَصْرُبْنُ عَلِیٍّ وَعُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ(یَعْنِیْ الْقَوَارِیْرِیَّ) قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ دَاوٗدَ،عَنْنُعَیْمِ بْنِ حَکِیْمٍ، عَنْ اَبِیْ مَرْیَمَ، عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ امْرَاَۃَ الْوَلِیْدِ بْنِ عُقْبَۃَ اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَت: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ الْوَلِیْدَ یَضْرِبُھَا، وَقَالَ نَصْرُبْنُ عَلِیٍّ فِیْ حَدِیْثِہِ: تَشْکُوْہُ، قَالَ: ((قُوْلِیْ لَہُ قَدْ اَجَارَنِیْ۔)) قَالَ عَلِیٌّ: فَلَمْ تَلْبَثْ اِلَّایَسِیْرًا حَتّٰی رَجَعَتْ فَقَالَت: مَازَادَنِیْ اِلَّا ضَرْبًا، فاَخَذَ ھُدْبَۃً مِنْ ثَوْبِہٖ فَدَفَعَھَااِلَیْھا، وَقَالَ: ((قولِیْ لَہُ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ اَجَارَنِیْ۔)) فَلَمْ تَلْبَثْ اِلَّا یَسِیْرًا حَتّٰی رَجَعَتْ، فَقَالَت: مَازَادَنِیْ اِلَّا ضَرْبًا، فَرَفَعَ یَدَیْہِ وقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ عَلَیْکَ الْوَلِیْدَ، اَثِمَ بِیْ مَرَّتَیْنِ۔)) وَھٰذَا لَفْظُ حَدِیْثِ الْقَوَارِیْرِیِّ وَمَعَنَاھُمَا وَاحِدٌ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ولید بن عقبہ کی بیوی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ولید مجھے مارتا ہے، اس طرح اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو کہو کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دے دی ہے۔ وہ چند دن ٹھہرنے کے بعد پھر آئی اور کہا: اس نے تو میری پٹائی کرنے میں اضافہ ہی کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کپڑے کا جھالر پکڑا اور اس کو دے کر فرمایا: اس کو کہنا کہ اللہ کے رسول نے مجھے پناہ دی ہے۔ وہ معمولی عرصہ گزارنے کے بعد پھر آگئی اور کہا: اس نے میری مار میں ہی اضافہ کیا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اے اللہ! تو ولید کی گرفت کر، وہ میری وجہ سے دو بار گنہگار ہو چکا ہے۔

10105

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10105

Sahih

۔ (۱۰۱۰۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَلْعُوْنُ مَنْ سَبَّ اَبَاہُ، مَلْعُوْنٌ مَنْ سَبَّ اُمَّہُ، مَلْعُوْنٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ، مَلْعُوْنٌ مَنْ غَیَّرَ تُخُوْمَ الْاَرْضِ، مَلْعُوْنٌ مَنْ کَمَہَ اَعْمٰی عَنْ طَرِیْقٍ، مَلْعُوْنٌ مَنْ وَقَعَ عَلیٰ بَھِیْمَۃٍ، مَلْعُوْنٌ مَنْ عَمِلَ بِعَمَلِ قَوْمِ لُوْطٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کو گالی دینے والا ملعون ہے، اپنی ماں کو برا بھلا کہنے والا ملعون ہے، غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والا ملعون ہے، زمین کے نشانات کو تبدیل کر دینے والا ملعون ہے، اندھے کو راستے سے بھٹکا دینے والا ملعون ہے، چوپائے سے بد فعلی کرنے والا ملعون ہے اور قوم لوط والا فعل کرنے والا بھی ملعون ہے۔

10106

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10106

Zaeef

۔ (۱۰۱۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلَیْنِیَتَغَنَّیَانِ وَاَحَدُھُمَا یُجِیْبُ الْآخَــرَ وَھُوَ یَقُوْلُ : لَا یَزَالُ حَوَارِیُّ تَلُوْحُ عِظَامُہُ، زَوَی الْحَرْبَ عَنْہُ اَنْ یُجَنَّ فَیُقْبَرَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْظُرُوْا مَنْ ھُمَا؟)) قَالَ: فَقَالُوْا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ ارْکُسْھُمَا رَکْسًا وَدُعَّھُمَا اِلَی النَّارِ دَعًّا۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو افراد کو گاتے ہوئے سنا، وہ ایک دوسرے کا جواب دے رہے تھے، ان میں سے ایک نے کہا: میرے مددگاروں کی ہڈیاں تو (دفن نہ ہونے کی وجہ سے) نظر آتی رہیں، اس نے اپنے آپ سے لڑائی کے ہٹ جانے کو روک دیا کہ اس کو مٹی کے نیچے چھپا کر دفن کر دیاجاتا۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیکھویہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ فلاں اور فلاں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ان کے سر کے بال گرا دے اور دھتکار دے جہنم میں۔

10107

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10107

Sahih

۔ (۱۰۱۰۶)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلَیْنِیَتَغَنَّیَانِ وَاَحَدُھُمَا یُجِیْبُ الْآخَــرَ وَھُوَ یَقُوْلُ : لَا یَزَالُ حَوَارِیُّ تَلُوْحُ عِظَامُہُ، زَوَی الْحَرْبَ عَنْہُ اَنْ یُجَنَّ فَیُقْبَرَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُنْظُرُوْا مَنْ ھُمَا؟)) قَالَ: فَقَالُوْا: فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ ارْکُسْھُمَا رَکْسًا وَدُعَّھُمَا اِلَی النَّارِ دَعًّا۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میرے ابو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کپڑے پہننے کے لیے چلے گئے، تاکہ مجھے مل سکیں، ابھی تک ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہی تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ملعون شخص تم پر ضرور ضرور داخل ہونے والا ہے۔ پس اللہ کی قسم! میں خوفزدہ ہو کر آنے جانے والوں کو دیکھنے لگا، یہاں تک کہ حکم داخل ہوا۔

10108

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10108

Sahih

۔ (۱۰۱۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُخَنَّثِی الرِّجَالِ الَّذِیْنَیَتَشَبَّھُوْنَ بِالنِّسَائِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ الْمُتَشَبِّھِیْنَ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَبَتِّلِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِیْیَقُوْلُ : لَایَتَزَوَّجُ، وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ، اللَّائِیْیَقُلْنَ ذٰلِکَ، وَرَاکِبَ الْفَلاۃِ وَحْدَہُ، فَاشْتَدَّ عَلٰی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی اسْتَبَانَ ذٰلِکَ فِیْ وُجُوْھِھِمْ وَقَالَ: اَلْبَائِتَ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مخنث مردوں،مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں اور تبتل اختیار کرنے والے ان مردوں اور عورتوں پر لعنت کی ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گے، اور بیابان میں اکیلے سوار پر بھی لعنت کی،یہ باتیں صحابہ پر بڑی گراں گزریں،یہاں تک کہ ان کے چہروں سے واضح ہونے لگا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اکیلا رات گزارنے والابھی ۔

10109

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10109

Sahih

۔ (۱۰۱۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُخَنَّثِی الرِّجَالِ الَّذِیْنَیَتَشَبَّھُوْنَ بِالنِّسَائِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ الْمُتَشَبِّھِیْنَ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَبَتِّلِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِیْیَقُوْلُ : لَایَتَزَوَّجُ، وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ، اللَّائِیْیَقُلْنَ ذٰلِکَ، وَرَاکِبَ الْفَلاۃِ وَحْدَہُ، فَاشْتَدَّ عَلٰی اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی اسْتَبَانَ ذٰلِکَ فِیْ وُجُوْھِھِمْ وَقَالَ: اَلْبَائِتَ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو قریب ہے کہ تو ایسے لوگ دیکھے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح اور اس کی لعنت میں شام کریں گے، ان کے ہاتھوں میں گائیوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہوں گے۔

10110

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10110

Sahih

۔ (۱۰۱۱۰)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ سَعِیْدٍ، ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُجَیْرٍ، ثَنَا سَیَّارٌ اَنَّ اَبَا اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ذَکَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَکُوْنُ فِیْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ۔)) اَوْ قَالَ: ((یَخْرُجُ رِجَالٌ مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ مَعَھُمْ اَسْیَاطٌ کَاَنَّھَا اَذْنَابُ الْبَقَرِ، یَغْدُوْنَ فِیْ سَخَطِ اللّٰہِ، وَیَرُوْحُوْنَ فِیْ غَضَبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۲۵۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں اس امت میں ایسے افراد ہوں گے کہ ان کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور اس کے غصے میں شام۔