Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 165 · Chapter 1974

تعریف اور مذمت کی کتاب

لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان

8 hadiths in this chapter

10093

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10093

Sahih

۔ (۱۰۰۹۳)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلَاعَنُوْا بِلَعْنَۃِ اللّٰہِ، وَلَا بِغَضَبِہٖ،وَلَابِالنَّارِ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۴۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت، اس کے غضب اور آگ کے ساتھ ایک دوسرے پر لعنت نہ کیا کرو۔

10094

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10094

Sahih

۔ (۱۰۰۹۴)۔ عَنْ جَرْمُوْزِ نِ الْھُجَیْمِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوْصِنِیْ، قَالَ: ((اُوْصِیْکَ اَنْ لَا تَکُوْنَ لَعَّانًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جرموز ہجیمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ لعنت کرنے والا نہ بننا۔

10095

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10095

Sahih

۔ (۱۰۰۹۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، قَالَ: کَانَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ یُرْسِلُ اِلٰی اُمِّ الدِّرْدَائِ فَتَبِیْتُ عِنْدَ نِسَائِہِ وَیَسْاَلُھَا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَقَامَ لَیْلَۃً فَدَعَا خَادِمَہُ فَاَبْطَاَتْ عَلَیْہِ فَلَعَنَھَا، فَقَالَت: لَا تَلْعَنْ! فَاِنَّ اَبَا الدَّرْدَائِ حَدَّثَنِیْ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللَّعَّانِیْنَ لَا یَکُوْنُوْنَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُھْدَائَ وَلَا شُفَعَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف پیغام بھیجتے، پس وہ ان کی بیویوں کے پاس رات گزارتیں اور وہ اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں سوال کرتے، ایک رات کو عبد الملک اٹھا اور اس نے اپنی خادمہ کو بلایا، جب اس نے آنے میں تاخیر کی تو اس نے اس پر لعنت کی، اس پر سیدہ ام درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تو لعنت نہ کر، کیونکہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک لعنت کرنے والے قیامت والے دن گواہ نہیں ہوں گے اور نہ سفارشی۔

10096

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10096

Sahih

۔ (۱۰۰۹۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیْسَ بِاللَّعَّانِ، وَلَاالطَّعَّانِ، وَالْفَاحِشِ، وَلَا الْبَـذِیِّ۔)) (مسند احمد: ۳۹۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:نہ مومن طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا اور نہ فحش بکنے والا ہوتا ہے اور نہ زبان درازی کرنے والا ہوتا ہے۔

10097

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10097

Sahih

۔ (۱۰۰۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَنْبَغِیْ لِلصِّدِیْقِ اَنْ یَکُوْنَ لَعَّانًا۔)) (مسند احمد: ۸۷۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدیق اور سچے آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔

10098

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10098

Sahih

۔ (۱۰۰۹۸)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنِ الْعَیْزَارِ بْنِ جَرْوَلِ نِ الْحَضْرَمِیِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْھُمْ یُکَنَّی اَبَا عُمَیْرٍ اَنَّہُ کَانَ صَدِیْقًا لِعَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، وَاَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُوْدٍ زَارَہُ فِیْ اَھْلِہِ فَلَمْ یَجِدْہُ، قَالَ: فَاسْتَاْذَنَ عَلٰی اَھْلِہِ فَاسْتَسْقٰی، قَالَ: فَبَعَثَتِ الْجَارِیَۃَ تَجِیْئُہُ بِشَرَابٍ مِنَ الْجِیْرَانِ، فَاَبْطَاَتْ فَلَعَنَتْھَا فَخَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ، فَجَائَ اَبُوْ عُمَیْرٍ فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! لَیْسَ مِثْلُکَ یُغَارُ عَلَیْہِ، ھَلَّا سَلَّمْتَ عَلٰی اَھْلِ اَخِیْکَ وَجَلَسْتَ وَاَصَبْتَ مِنَ الشَّرَابِ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلَتُ، فَاَرْسَلَتِ الْخَادِمَ فَاَبْطَاَتْ اِمَّا لَمْ یَکُنْ عِنْدَھُمْ وَاِمَّا رَغِبُوْا فِیْمَا عِنْدَھُمْ فَاَبْطَاَتِ الْخَادِمُ فَلَعَنَتْھَا، وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللَّعْنَۃَ اِلٰی مَنْ وُجِّھَتْ فَاِنْ اَصَابَتْ عَلَیْہِ سَبِیْلًا اَوْ وَجَدَتْ فِیْہِ مَسْلِکًا وَ اِلَّا قَالَتْ : یَا رَبِّ! وُجِّھْتُ اِلٰی فُلَانٍ، فَلَمْ اَجِدْ عَلَیْہِ سَبِیْلًا، وَلَمْ اَجِدْ فِیْہِ مَسْلَکًا فَیُقَال‘ لَھَا: ارْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِئْتِ)) فَخَشِیْتُ اَنْ تَکُوْنَ الْخَادِمُ مَعْذُوْرَۃً فَتَرْجِعَ اللَّعْنَۃُ فَاَکُوْنَ سَبَبَھَا۔)) مسند احمد: ۳۸۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عمیر سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دوست تھے، ایک دن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ملنے کے لیے اس کے گھر آئے، لیکن وہ گھر پر موجود نہ تھے، پس انھوں نے اس کے گھر والوں سے اجازت طلب کی اور مشروب طلب کیا، اس کی بیوی نے لونڈی کو بھیجا کہ وہ ہمسائیوں سے کوئی مشروب لائے، جب اس نے تاخیر کی اور اس نے اس پر لعنت کی،یہ سن کر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ چلے گئے، جب ابو عمیر آئے اور انھوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جیسی شخصیتوں پر غیرت نہیں کی جا سکتی، آپ نے ایسے کیوں نہیں کیا کہ اپنے بھائی کے گھر والوں پر سلام کہتے اور ان کے ہاں بیٹھتے اور پانی وغیرہ پیتے؟ انھوں نے کہا: میں نے اسی طرح ہی کیا تھا، لیکن اصل بات یہ ہے کہ تیری بیوی نے اپنی خادمہ کو بھیجا، اس نے تاخیر کی، ممکن ہے کہ ہمسائیوں کے پاس وہ چیز نہ ہو یا وہ اپنی رغبت کی وجہ سے دینا نہ چاہتے ہوں، اس لیے خادمہ سے تاخیر ہو گئی، جس کی وجہ سے تیری بیوی نے اس پر لعنت کی اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک جب کسی چیز پر لعنت کی جاتی ہے تو اگر اس کو اس چیز پر کوئی گنجائش مل جائے تو ٹھیک، وگرنہ وہ کہتی ہیں: اے میرے ربّ! مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا ہے، لیکن اس میں تو کوئی گنجائش نظر نہیں آ رہی ہے، پس اس کو کہا جاتا ہے: تو جہاں سے آئی ہے، اُدھر ہی لوٹ جا۔ تو میں ڈر گیا کہ خادمہ معذور ہو گی تو لعنت واپس آئے گیاور میں اس کا سبب بن جاؤں گا۔

10099

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10099

Sahih

۔ (۱۰۰۹۹)۔ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَـقَتْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔

10100

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10100

Sahih

۔ (۱۰۱۰۰)۔ وعَنْہُ اَیْضًا، رَفَعَ الْحَدِیْثَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَتَلَ نَفْسَہَ بِشَیْئٍ عُذِّبَ بِہٖ،وَمَنْشَھِدَعَلٰی مُسْلِمٍ (اَوْ قَالَ: مُؤْمِنٍ) بِکُفْرٍ فَھُوَ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ لَعَنَہُ فَھُوَ کَقَتْلِہِ، وَمَنْ حَلَفَ عَلَی مِلَّۃٍ غَیْرِ الْاِسْلَامِ کَاذِبًا فَھُوَ کَمَا حَلَفَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ثابت بن ضحاک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جس چیز کے ساتھ خود کشی کی، اس کو اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا، جس نے کسی مؤمن اور مسلمان پر کفر کی گواہی دی تو یہ اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا، جس نے اس پر لعنت کی تو وہ بھی اس کو قتل کرنے کی طرح ہو گا اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ اسی طرح ہی ہو جائے گا۔