Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 165 · Chapter 1977

تعریف اور مذمت کی کتاب

اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

10121

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10121

Sahih

۔ (۱۰۱۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ، قَالَ: کَانَتْ رَاحِلَۃٌ اَوْ نَاقَۃٌ اَوْ بَعِیْرٌ عَلَیْھَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ وَعَلَیْھَا جَارِیَۃٌ فَاَخَذُوْا بَیْنَ جَبَلَیْنِ فَتَضَایَقَ بِھِمُ الطَّرِیْقُ فَاَبْصَرَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَت: حَلْ حَلْ اَللّٰھُمَّ الْعَنْھَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَاحِبُ ھٰذِہِ الْجَارِیَۃِ؟ لَا تَصْحَبُنَا رَاحِلَۃٌ اَوْ نَاقَۃٌ اَوْبَعِیْرٌ عَلَیْھَا مِنْ لَعْنَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک سواری،یا اونٹنی،یا اونٹ پر کچھ بعض افراد کا سامان لدا ہوا تھا اور ایک لونڈی بھی سوار تھی، جب لوگ دو پہاڑوں کے درمیانی راستے میں چلے اور راستہ تنگ ہو گیا تو اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، تو کہا: چل چل، اے اللہ! اس اونٹنی پر لعنت کر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس لونڈی کا مالک کون ہے؟ ہمارے ساتھ اس سواری،یا اونٹنی،یا اونٹ کو نہ چلایا جائے، جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کی گئی ہو۔

10122

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10122

Sahih

۔ (۱۰۱۲۲)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: بَیْنَمَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَعْضِ اَسْفَارِہِ وَاِمْرَاَۃٌ مِنَ الْاَنْصَارِ عَلٰی نَاقَۃٍ فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْھَا، فَسَمِعَ ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذُوْا مَا عَلَیْھَا وَدَعُوْھَا فَاِنَّھَا مَلْعُوْنَۃٌ۔)) قَالَ عِمْرَانُ: فَکَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْھَا الْآنَ تَمْشِیْ فِیْ النَّاسِ مَا یَعْرِضُ لَھَا اَحَدٌ یَعْنِیْ النَّاقَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی سفر میں تھے، ایک انصاری خاتون ایک اونٹنی پر تھی، اس نے اس کو ڈانٹا اور اس پر لعنت کر دی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات سنی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی پر جو سامان لدا ہوا ہے، وہ اتار لو اور اس کو چھوڑ دو، کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے۔ سیدنا عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں، وہ لوگوں کے بیچ میں چل رہی تھی اور کوئی بھی اس کے درپے نہیں ہو رہا تھا۔

10123

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10123

Sahih

۔ (۱۰۱۲۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ یَسِیْرُ فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَۃً فَقَالَ: ((اَیْنَ صَاحِبُ النَّاقَۃِ؟)) فَقَالَ الرَّجُلُ: اَنَا، قَالَ: ((اَخِّرْھَا فَقَدْ اُجِبْتَ فِیْھَا۔)) (مسند احمد: ۹۵۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سفر میں چل رہے تھے کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی پر لعنت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی کا مالک کہاں ہے؟ متعلقہ آدمی نے کہا: جی میں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی کو پیچھے کر دے، اس پر کی گئی بددعا قبول کرلی گئی ہے۔

10124

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10124

Sahih

۔ (۱۰۱۲۴)۔ عَنْ اَبِیْ الْجَوْزَائِ، عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّھَا کَانَتْ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَلَعَنَتْ بَعِیْرًا لَھَا فَامَرَ بِہٖالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُرَدَّ وَقَالَ: ((لَا یَصْحَبُنِیْ شَیْئٌ مَلْعَوْنٌ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَرْکَبِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، انھوں نے اپنے اونٹ پر لعنت کر دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ اس اونٹ کو ردّ کر دیا جائے اور فرمایا: ہمارے ساتھ کوئی چیز نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اس پر سوار نہ ہو۔

10125

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #10125

Sahih

۔ (۱۰۱۲۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، لَعَنَ رَجُلٌ دِیْکًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلْعَنْہُ فَاِنَّہُ یَدْعُوْ اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرغ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آواز نکالی، ایک آدمی نے اس وجہ سے اس پر لعنت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اس پر لعنت نہ کر، بیشک یہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔