Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1932

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان

3 hadiths in this chapter

9855

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9855

Sahih

۔ (۹۸۵۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتَ {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((یَافَاطِمَۃُ! یَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ،یَا صَفِیَّۃُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ،یَا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ، لَااَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، سَلُوْنِیْ مِنْ مَالِیْ مَاشِئْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اے بنت ِ محمد! اے صفیہ بنت عبد المطلب! اے بنو عبد المطلب! میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ہاں میرے مال سے جو چاہتے ہو سوال کر لو۔

9856

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9856

Sahih

۔ (۹۸۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یا بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ،یَا بَنِیْ ھَاشِم، اِشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا،یَا اُمَّ الزُّبَیْرِ عَمَّۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،یَا فَاطَمَۃُ بِنَتَ مُحَمَّدٍ، اشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ لَا اَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، سَلَانِیْ مِنْ مَّالِیْ۔)) (مسند احمد: ۹۱۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد المطلب! اے بنی ہاشم! اپنے نفسوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو، میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا، اے نبی کی پھوپھی ام زبیر! اے فاطمہ بنت محمد! اپنے نفسوں کو خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں بن سکتا، البتہ میرے مال سے سوال کر سکتی ہو۔

9857

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9857

Sahih

۔ (۹۸۵۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ عَلٰی ھٰذَا الْمِنْبَرِ: ((مَابَالُ رِجَالٍ، یَقُوْلُوْنَ : اِنَّ رَحِمَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَاتَنْفَعُ قَوْمَہُ، بَلیٰ! وَاللّٰہِ، اِنَّ رَحِمِیْ مَوْصُوْلَۃٌ فِیْ الدُّنْیَاوَالْآخِرَۃِ، وَاِنِّیْ اَیُّھَا النَّاسُ فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ، فَاِذَا جِئْتُمْ)) قَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَا فُلَانٌ، وَقَالَ اَخُوْہُ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ لَھْمُ: ((اَمَّا النَّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُہُ، وَلٰکِنَّکُمْ اَحْدَثْتُمْ بَعْدِیْ وَارْتَدَدْتُمُ الْقَھْقَرٰی۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رشتہ داری آپ کی قوم کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ کیوں نہیں، اللہ کی قسم ہے، میری رشتہ داری دنیا و آخرت میں ملی ہوئی ہو گی، لوگو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، پس جب تم وہاں آؤ گے۔ اتنے میں ایک آدمی کہے گا: اے اللہ کے رسول! میں فلاں ہوں، اور اس کا بھائی کہے گا: میں فلاں بن فلاں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمائیں: نسب کو تو میں نے پہچان لیا ہے، لیکن تم نے میرے بعد نئے امور ایجاد کر لیے اور پچھلے پاؤں پلٹ گئے۔