Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 164 · Chapter 1933

زبان کی آفتوں کے مسائل

کثرت ِ کلام سے ترہیب اور خاموشی کا بیان

13 hadiths in this chapter

9858

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9858

Sahih

۔ (۹۸۵۸)۔ عَنْ تَمِیْمِ بْنِ یَزِیْدَ، مَوْلیٰ بَنِیْ زَمْعَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ذَاتَ یَوْمٍ، ثُمَّ قَالَ: ((اَیُّھَا النَّاسُ ، ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاہُ اللّٰہُ شَرَّھُمَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! لَا تُخْبِرْنَا مَاھُمَا؟ ثُمَّ قَالَ: ((اِثْنَانِ مَنْ وَقَاہُ اللّٰہُ شَرَّھُمَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ)) حَتّٰی اِذَا کَانَتِ الثَّالِثَۃُ، اَجْلَسَہُ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالُوْا: تَرٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرِیْدُیُبَشِّرُنَا فَتَمْنَعُہُ، فَقَالَ: اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَتَّکِلَ النَّاسُ، فَقَالَ: ((ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاہُ اللّٰہُ شَرَّھُمَا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، مَا بَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَابَیْنَ رِجْلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ہم سے خطاب کیا اور پھر فرمایا: لوگو! دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے محفوظ کر لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ سن کر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں یہ نہ بتلائیے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اسی آدمی نے وہی بات کہی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسر بار ارشاد فرمایا تو صحابہ نے اس آدمی کو بٹھایا اور اس سے کہا: تجھے نظر نہیں آ رہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں، لیکن تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روک رہا ہے، اس نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ توکل کر کے مزید عمل ترک کر دیں گے۔ بالآخر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو ان کے شرّ سے بچا لیا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا، ایک دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور دوسری دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز۔

9859

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9859

Sahih

۔ (۹۸۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ الصَّبْھَائِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِیْدَ بْنَ جُبَیْرٍیُحَدِّثُ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، لَا اَعْلَمُہُ اِلَّا رَفَعَہُ قَالَ: ((اِذَا اَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَاِنَّ اَعْضَائَہُ تُکَفِّرُ اللِّسَانَ تَقُوْلُ: اتَّقِ اللّٰہَ فِیْنَا، فَاِنَّکَ اِنِ اسْتَقَمْتَ اِسْتَقَمْنَا، وَاِنِ اعْوَجَجْتَ اِعْوَجَجْنَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء، زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جا، پس اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔

9860

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9860

Sahih

۔ (۹۸۶۰)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندے کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو چھوڑ دے۔

9861

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9861

Sahih

۔ (۹۸۶۱)۔ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِیْ بِاَمْرٍ اَعْتَصِمُ بِہٖ (وَفِیْ لَفْظٍ: مُرْنِیْ فِیْ الْاِسْلَامِ بِاَمْرٍ لَا اَسْاَلُ عَنْہُ اَحَدًا بَعْدَکَ) قَالَ: ((قُلْ رَبِّیَ اللّٰہُ (وَفِیْ لَفْظٍ: آمَنْتُ بِااللّٰہِ) ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَخْوَفُ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَااَکْبَرُ) مَاتَخَافُ عَلَیَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَاَیُّ شَیْئٍ اَتَّقِیْ) قَالَ: فاَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِہِ ثُمَّ قَالَ: ((ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام سے متعلقہ ایسے عمل کے بارے میں بتلائیں کہ میں اس کو تھام لوں اور اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے سوال نہ کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو کہہ کہ میرا ربّ اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ ڈر کس چیز پر ہے، ایک روایت میں ہے: پس میں کس چیز سے بچ کر رہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوابا! اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: یہ ہے۔

9862

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9862

Sahih

۔ (۹۸۶۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو، اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِن لِّسَانِہِ وَیِدِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

9863

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9863

Sahih

۔ (۹۸۶۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَ اَعْرَابِیًا بِخِصَالٍ مِنْ اَنْوَاعِ الْبِرِّ (فِیْھَا) ((وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَاِنْ لَمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَکُفَّ لِسَانَکَ اِلَّا مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بدّو کو نیکی کی مختلف انواع کے بارے میں بتلایا، ان میں یہ چیزیں بھی تھیں: اور تو نیکی کا حکم کر اور برائی سے منع کر، پس اگر تجھ کو ایسا کرنے کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کو بند کر لے، ما سوائے خیر والی باتوں کے۔

9864

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9864

Sahih

۔ (۹۸۶۴)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((اَلَا اُخْبِرُکَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ وَعَمُوْدِہِ، وَذِرْوَۃِ سَنَامِہِ؟)) قَالَ: فَقُلْتُ: بَلیٰیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((رَاْسُ الْاَمْرِ وَعَمُوْدُہُ الصَّلَاۃُ، وَذِرْوَۃُ سَنَامِہِ الْجِھَادُ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکَ، بِمِلَاکِ ذٰلِکَ کُلِّہِ؟)) فَقُلْتُ: بَلیٰیَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَاَخَذَ بِلِسَانِہِ فَقَالَ: ((کُفَّ عَلَیْکَ ھٰذَا۔)) فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ؟فَقَالَ: ((ثَکُلَتْکَاُمُّکَیَا مُعَاذُ! وَھَلَ یَکُبُّ النَّاسَ عَلٰی وُجُوْھِمْ فِیْ النَّارِ۔)) اَوْ قَالَ: ((عَلٰی مَنَاخِرِھِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا میں تجھے بتلاؤ کہ دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی کوہان کی چوٹی کیا ہے ؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین کی اصل اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے اس چیز کے بارے میں بھی بتلا دوں جو ان سب کو کنٹرول کرنے والی ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوابا اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا: اس کو اپنے اوپر روک کر رکھنا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہماری باتوں کی وجہ سے بھی ہمارا مؤاخذہ کیاجائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تیری ماں تجھے گم پائے، لوگوں کو آگ میں ان کے نتھنوں کے بل گرانے والی ان کی زبانوں کی کٹی ہوئی باتیں ہی ہوں گی۔

9865

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9865

Zaeef

۔ (۹۸۶۵)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا یُسْلِمُ عَبْدٌ حَتّٰییَسْلَمَ قَلْبُہُ وَلِسَانُہُ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا، جب تک اس کا دل اور زبان سلامتی والے نہیں بن جاتے۔‘

9866

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9866

Sahih

۔ (۹۸۶۶)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَوَکَّلَ لِیْ مَابَیْنَ لَحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ، تَوَکَّلْتُ لَہُ بِالْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مجھے دو جبڑوں کے درمیان والی اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیزوں کی ضمانت دے گا، میں اس کو جنت کی ضمانت دوں گا۔

9867

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9867

Zaeef

۔ (۹۸۶۷)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْطُفَاوِیِّ، قَالَ: خَرَجَ اَبُوْ الْغَادِیَۃِ، وَحَبِیْبُ بْنُ الْحَارِثِ، وَاُمُّ اَبِیْ الْعَالِیَۃِ مُھَاجِرِیْنَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَسْلَمُوْا ، فَقَالَتِ الْمَرْاَۃُ: اَوْصِنِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِیَّاکِ وَمَا یَسُوْئُ الُاُذُنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا محمد بن عبد الرحمن طفاوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو غادیہ، سیدنا حبیب بن حارث، سیدہ ام ابی العالیہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ہجرت کی اور اسلام قبول کر لیا، اس خاتون نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی وصیت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز سے بچ، جو کانوں کو بری لگتی ہے ۔

9868

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9868

Zaeef

۔ (۹۸۶۸)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُحَیْمٍ، عَنْ اُمِّہِ ابْنَۃِ اَبِیْ الْحَکَمِ الْغِفَّارِیِّ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَدْنُوْ مِنَ الْجَنَّۃِ، حَتّٰی مَایَکُوْنَ بَیْنَہُ وَبَیْنَھَا قِیْدُ ذِرَاعٍ، فَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ فَیَتَبَاعَدُ مِنْھَا اَبْعَدٰ مِنْ صَنْعَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ بنتِ ابی حکم غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی جنت کے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن پھر وہ ایسی (بدترین) بات کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے صنعاء تک جنت سے دور ہو جاتا ہے۔

9869

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9869

Sahih

۔ (۹۸۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنْ حَفِظَ مَا بَیْنَ فُقْمَیْہِ وَفَرْجَہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔

9870

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9870

Sahih

۔ (۹۸۷۰)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ عَلْقَمَۃَ اللَّیْثِیُّ، عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَلْقَمَۃَ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مِنْ رِضْوَانِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، مَا یَظُنُّ اَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، یَکْتُبُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ بِھَا رِضْوَانَہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَایَظُنُّ اَنْ تَبْلُغَ مَابَلَغَتْ، یَکْتُبُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا عَلَیْہِ سَخَطَہُ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ )) قَالَ: فکَانَ عَلْقَمَۃُیَقُوْلُ : کَمْ مِنْ کَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِیْہِ حَدِیْثُ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بلال بن حارث مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی سے متعلقہ ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ وہ کس بڑے مرتبے تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے، اور بیشک ایک آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والی ایسی بات کرتا ہے، جبکہ خود اس کو بھی اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس آدمی کے لیے قیامت کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔ علقمہ نے کہا: کتنی ہی باتیں ہیں کہ سیدنا بلال بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اس حدیث نے مجھے ان سے روک دیا ہے۔