Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1931

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

شبہے والے مواقع اور شک والے مقامات سے ترہیب کا بیان

4 hadiths in this chapter

9851

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9851

Sahih

۔ (۹۸۵۱)۔ عَنِ الشَّعَبِیِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍیَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکُنْتُ اِذَا سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَصْغَیْتُ وَتَقَرَّبْتُ وَخَشِیْتُ اَنْ لَا اَسْمَعَ اَحَدًا یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((حَلَالٌ بَیِّنٌ وَحَرَامُ بَیِّنٌ، وَشُبُھَاتٌ بَیْنَ ذٰلِکَ، مَنْ تَرَکَ مَا اشْتَبَہَ عَلَیْہِ مِنَ الْاِثْمِ کَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَہُ اَتْرَکَ، وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلٰی مَا شَکَّ فِیْہِ اَوْشَکَ اَنْ یُوَاقِعَ الْحَرَامَ، وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی، وَاِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِیْ الْاَرْضِ مَعَاصِیْہِ، اَوْ قَالَ: مَحَارِمُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، امام شعبی کہتے ہیں: جب میں ان کو یہ کہتے ہوئے سنتا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تو میں اپنا کان لگاتا اور قریب ہو جاتااور ڈرتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کسی اور سے یہ الفاظ نہ سن سکوں کہ وہ کہے کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، البتہ ان کے بیچ میں مشتبہ امور ضرور ہیں، جس نے گناہ سے بچنے کے لیے مشتبہ چیز کو چھوڑ دیا، تو وہ واضح ہونے والے گناہ کو زیادہ چھوڑنے والا ہو گا اور جس نے مشکوک چیز پر جرأت کر دی تو قریب ہے کہ وہ حرام میں پڑ جائے، بیشک ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ جگہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ جگہ اس کی نافرمانیاں یا حرام کردہ امور ہیں۔

9852

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9852

Sahih

۔ (۹۸۵۲)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا مَرَّ برَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ بَعْضُ اَزْوَاجِہِ، فَقَالَ: یَا فُلَانَۃُیُعْلِمُہُ اَنَّھَا زَوْجَتُہُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتَظُنُّ بِیْ؟ فَقَالَ: ((اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ یَدْخُلَ عَلَیْکَ الشَّیْطَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی آپ کے پاس کھڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو آواز دی: اے فلاں، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ یہ عورت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی ہے، اس نے آگے سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میرے بارے میں کوئی بدگمانی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مجھے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تیرے اندر گھس جائے (اور کوئی وسوسہ پیدا کر دے)۔

9853

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9853

Sahih

۔ (۹۸۵۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ اِمْرَاَۃٍ مِنْ نِسَائِہِ فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ: ((یَا فُلَانُ! ھٰذِہِ امْرَاَتِیْ)) فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ کُنْتُ اَظُنُّ بِہٖ،فَاِنِّیْ لَمْ اَکُنْ اَظُنُّ بِکَ، قَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَی الدَّمِ۔))(مسند احمد: ۱۲۶۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ وہاں سے ایک آدمی کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں! یہ میری بیوی ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کسی کے بارے میں تو گمان ہو سکتا ہے، لیکن آپ کے بارے میں تو میں کسی بد گمانی میں مبتلا نہیں ہو سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔

9854

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9854

Sahih

۔ (۹۸۵۴)۔ عَنْ عَلَیٍّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَيٍّ (زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُعْتَکِفًا، فَاَتَیْتُہُ اَزُوْرُہُ لَیْلًا، فَحَدَّثْتُہُ ثُمَّ قُمْتُ، فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِیَیَقْلِبُنِیْ، وَکَانَ مَسْکَنُھَا فِیْ دَارِ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْاَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَیَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی رِسْلِکُمَا، اِنَّھَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ حُیَیٍّ۔)) فَقَالَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ، وَاِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ یَقْذِفَ فِیْ قُلُوْبِکُمَا شَرًّا، اَوْ قَالَ: شَیْئًا ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زوجۂ رسول سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اعتکاف کی حالت میں تھے، میں رات کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زیارت کرنے کے لیے آئی، پس میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے باتیں کیں اور جب اٹھ کر جانے لگی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی مجھے واپس چھوڑ کر آنے کے لیے کھڑے ہو گئے، میرا گھر سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے پاس تھا، ہمارے پاس سے دو انصاریوں کا گزر ہوا، جب انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو انھوں نے جلدی سے آگے سے گزرنا چاہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ، یہ صفیہ بنت حیی ہے (جو کہ میری اپنی بیوی ہے)۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! اے اللہ کے رسول! بڑا تعجب ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان، ابن آدم کے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے اور میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ وہ تمہارے دل میں کوئی شرّ والی بات ڈال دے۔