Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1927

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان

5 hadiths in this chapter

9829

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9829

Sahih

۔ (۹۸۲۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَجَلُـکُمْ فِیْ اَجَلِ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ اِلٰی غُرُوْبِ الشَّمْسِ۔)) (مسند احمد: ۵۹۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم سے پہلے والے لوگوں کی عمروں کو دیکھا جائے تو تمہاری عمر نمازِ عصر سے غروب آفتاب تک ہے۔

9830

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9830

Sahih

۔ (۹۸۳۰)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ مُجَاھِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَیْضًا، قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالشَّمْسُ عَلٰی قُعَـْیقِعَانَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: ((مَااَعْمَارُکُمْ فِیْ اَعْمَارِ مَنْ مَضٰی، اِلَّا کَمَا بَقِیَ مِنَ النَّھَارِ فِیْمَا مَضٰی مِنْہِ۔)) (مسند احمد: ۵۹۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ سورج عصر کے بعد قعیقعان پہاڑ پر تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلے گزر جانے والے لوگوں کی عمروں کی بہ نسبت تمہاری عمر اتنی ہے، جتنا دن کا حصہ باقی ہے، گزر جانے والے حصے کی بہ نسبت۔

9831

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9831

Sahih

۔ (۹۸۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَقَدْ اَعْذَرَ اللّٰہُ اِلٰی عَبْدٍ اَحْیَاہُ حَتَّی بَلَغَ سِتِّیْنَ، اَوْ سَبْعِیْنَ سَنَۃً، لَقَدْ اَعَذَرَ اللّٰہُ لَقَدْ اَعذَرَ اللّٰہُ اِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۷۶۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا عذر ختم کر دیا، جس کو اتنی دیر تک زندہ رکھا کہ وہ ساٹھ یا ستر سال کی عمر کو پہنچ گیا، تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کا عذر ختم کر دیا ہے، بس اللہ تعالیٰ نے اس کا عذر ختم کر دیا ہے۔

9832

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9832

Sahih

۔ (۹۸۳۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَمَّرَ سِتِّیْنَ اَوْ سَبْعِیْنَ سَنَۃً، فَقَدْ اَعْذَرَ اِلَیْہِ فِیْ الْعُمُرِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ یا ستر سال تک زندہ رکھا، پس اللہ تعالیٰ نے عمر کے سلسلے میں اس کا عذر ختم کر دیا۔

9833

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9833

Zaeef

۔ (۹۸۳۳)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَامِنْ مُعَمَّرٍ یُعَمَّرُ فِیْ الْاِسْلَامِ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، اِلَّا صَرَفَ اللّٰہُ عَنْہُ ثَلَاثَۃَ اَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَائِ، اَلْجُنُوْنُ، وَالْجُذَامُ، وَالْبَرَصُ، فَاِذَا بَلَغَ خَمْسِیْنَ سَنَۃً لَیَّنَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْحِسَابَ، فَاِذَا بَلَغَ سِتِّیْنَ رَزَقَہُ اللّٰہُ الِْانَابَۃَ اِلَیْہِ بِمَا یُحِبُّ، فَاِذَا بَلَغَ سَبْعِیْنَ سَنَۃً اَحَبَّہُ اللّٰہُ وَاَحَبَّہُ اَھْلُ السَّمَائِ، فَاِذَا بَلَغَ الثَّمَانِیْنَ قَبِلَ اللّٰہُ حَسَنَاتِہِ، وَتَجَاوَزَ عَنْ سَیِّئَاتِہِ، فَاِذَا بَلَغَ تِسْعِیْنَ غَفَرَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖوَمَاتَاَخَّرَ،وَسُمِّیَ اَسِیْرَ اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہِ وَشُفِّعَ لاَھْلِ بَیْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۵۶۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اسلام کی چالیس سال عمر دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تین قسم کی بیماریاں دور کر دیتا ہے، جنون، کوڑھ اور پھلبہری، جب آدمی پچاس سال تک پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر حساب کو آسان کر دیتا ہے، جب اس کی عمر ساٹھ برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی پسند کے مطابق اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق دیتا ہے، پھر جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، جب اس کی عمر اسی سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول کر لیتا ہے اور اس کی برائیوں سے تجاوز کر دیتا ہے، پھر جب اس کی عمر نوے برس ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کا یہ نام رکھ دیا ہے کہ فلاں آدمی زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی ہے اور اس کے گھر والوں کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔