Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1928

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان

7 hadiths in this chapter

9834

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9834

Sahih

۔ (۹۸۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروِ بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِیِّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَاِنَّ الشُّحَّ اَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ، اَمَرَھُمْ بِالْقَطِیْعَۃِ فَقَطَعُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوْا، وَاَمَرَھُمْ بِالْفُجُوْرِ فَفَجِرُوْا۔)) (مسند احمد: ۶۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لالچ سے بچو، بیشک اس لالچ نے تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو قطع رحمی کا حکم دیا، پس انھوں نے قطع رحمی کی، اس نے ان کو بخیلی کا حکم دیا، پس انھوں نے بخیلی کی اور اس نے ان کو برائیوں پر اکسایا، پس انھوں نے برائیاں کیں۔

9835

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9835

Sahih

۔ (۹۸۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْتَمِعُ شُحٌّ وَاِیْمَانٌ فِیْ قَلْبِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۷۴۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لالچ اور ایمان، دونوں مسلمان آدمی کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔

9836

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9836

Sahih

۔ (۹۸۳۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الصَّامِتِ، اَنَّہُ کَانَ مَعَ اَبِیْ ذَرٍّ، فَخَرَجَ عَطَاؤُہُ وَمَعَہُ جَارِیَۃٌ لَہُ فَجَعَلَتْ تَقْضِیْ حَوَائِجَہُ، قَالَ: فَفَضَلَ مَعَھَا سَبْعَۃٌ، قَالَ: فَاَمَرَھَا اَنْ تَشْتَرِیَ بِھَا فُلُوْسًا، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: لَوِ ادَّخَرْتَہُ لِلْحَاجَۃِ تَنُوْبُکَ، اَوْ لِلضَّیْفِیَنْزِلُ بِکَ؟ قَالَ: اِنَّ خَلِیْلِیْ عَھِدَ اِلَیَّ اَنْ اَیُّمَا ذَھَبٍ اَوْفِضَّۃٍ اُوْکِیَ عَلَیْہِ فَھُوَ جَمْرٌ عَلٰی صَاحِبِہٖحَتّٰییُفْرِغَہُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن صامت سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، ان کا کوئی مال نکل آیا، ان کے ساتھ ان کی ایک لونڈی بھی تھی، اس نے ان کی ضروریات پوری کرنا شروع کیں، جب اس مال سے سات بچ گئے تو انھوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ وہ ان کے عوض قدیم سکے خرید لے، میں (عبد اللہ بن صامت) نے کہا: اگر تم ان کو پیش آنے والی ضرورت یا اپنے پاس آنے والے مہمان کے لیے ذخیرہ کر لو تو بہتر ہو گا۔ انھوں نے کہا: میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس سونے اور چاندی کو بند کر کے رکھ دیا جائے تو وہ اس مالک کے لیے انگارے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دے۔

9837

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9837

Sahih

۔ (۹۸۳۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْبَخِیْلِ وَالْمُنْفِقِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْھِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِیْدٍ، مِن لَدُنْ ثُدِیِّھِمَا اِلٰی تَرَاقِیْھِمَا، (فَاَمَّا الْمُنْفِقُ) فَـلَا یُنْفِقُ مِنْھَا اِلَّا اتَّسَعَتْ حَلْقَۃٌ مَکَانَھَا، فَھُوَ یُوَسِّعُھَا عَلَیْہِ، (وَاَمَّا الْبَخِیْلُ) فَاِنَّھَا لَا تَزْدَادُ عَلَیْہِ اِلَّا اسْتِحْکَامًا۔)) (مسند احمد: ۷۴۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے کہ جن پر ان کے سینے والی جگہ سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک دو زرہیں ہوں، پس خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو اس کا حلقہ اپنی جگہ پر کھل جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ ساری کھلی ہو جاتی ہے اور رہا مسئلہ بخیل کا تو اس کی زرہ کی مضبوطی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

9838

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9838

Sahih

۔ (۹۸۳۸)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّ لِفُلَانٍ فِیْ حَائِطِیْ عَذْقًا، وَاَنَّہُ قَدْ اٰذَانِیْ وَشَقَّ عَلَیَّ مَکَانُ عَذْقِہِ، فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((بِعْنِیْ عَذْقَکَ الَّذِیْ فِیْ حَائِطِ فُلَانٍ۔)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَھَبْہُ لِیْ۔)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَبِعْنِیْہِ بِعَذْقٍ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: لَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَارَاَیْتُ الَّذِیْ ھُوَ اَبْخَلُ مِنْکَ، اِلَّا الَّذِیْیَبْخَلُ بِالسَّلَامِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میرے باغ میں فلاں آدمی کا کھجور کا درخت ہے، پس تحقیق اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کے درخت کی جگہ میرے لیے باعث ِ مشقت ثابت ہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کی طرف پیغام بھیجا کہ فلاں آدمی کے باغ میں موجود اپنا کھجور کا درخت مجھے فروخت کر دے۔ لیکن اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے ہبہ کر دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر جنت کے کھجور کے درخت کے عوض مجھے بیچ دے۔ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا، جو تجھ سے زیادہ بخیل ہو، سوائے اس کے جو سلام کہنے میں بخل کرتا ہے۔

9839

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9839

Sahih

۔ (۹۸۳۹)۔ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِیْلَ، وَکَانَ مِنَّا مِنْ بَنِیْ غُبَرَ قَالَ: اَصَابَتْنَا سَنَۃٌ، فَاَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِیْطَانِھَا، فَاَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَکْتُہُ وَاَکَلْتُ مِنْہُ وَحَمَلْتُ فِیْ ثَوْبِیْ، فَجَائَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِیْ وَاَخَذَ ثَوْبِیْ، فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَاعَلَّمْتَہُ اِذْ کَانَ جَاھِلًا، وَلَا اَطْعَمْتَہُ اِذْ کَانَ سَاغِبًا، اَوْ جَائِعًا۔)) فَرَدَّ عَلَیَّ الثَّوْبَ، وَاَمَرَ لِیْ بِنِصْفِ وَسْقٍ، اَوْ وَسْقٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عباد بن شرحبیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو بنو غبر میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، میں مدینہ میں آیا اور اس کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں داخل ہوا، ایک سٹّے کو ملا اور اس سے دانے نکالے۔ کچھ دانے کھا لیے اور کچھ کپڑے میں اٹھا لیے، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا۔ میں (شکایت لے کر) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا (اور ساری بات بتائی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (باغ کے اس مالک) سے فرمایا: وہ جاہل تھا تو نے اسے تعلیم نہیں دی اور وہ بھوکا تھا تو نے اسے کھلایا نہیں۔ تو اس نے میرا کپڑا مجھے لوٹا دیا اور مجھے ایک یا نصف وسق کھانے کا بھی دیا۔

9840

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9840

Sahih

۔ (۹۸۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ الْعَبْدُ: مَالِیْ وَ مَالِیْ، وَ اِنَّ مَالَہُ مِنْ مَالِہِ ثَلَاثٌ، مَااَکَلَ فَاَفْنٰی، اَوْ لَبِسَ فَاَبْلیٰ، اَوْاَعْطٰی فَاَقْنٰی، مَاسِوٰی ذٰلِکَ فَھُوَ ذَاھِبٌ وَتَارِکُہُ لِلنَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ کہتا ہے: میرا مال، میرا مال، جبکہ اس کے مال میں سے اس کے صرف تین حصے ہیں، (۱) جو اس نے کھا کر فنا کر دیا، (۲) جو اس نے پہن کر بوسیدہ کر دیا اور (۳) جو اس نے کسی کو مال دے کر خوش کر دیا، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، وہ اس کو لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔