Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1926

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

موت اور امید کا بیان

5 hadiths in this chapter

9824

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9824

Sahih

۔ (۹۸۲۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا، وَخَطَّ خَطًّا وَسْطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، وَخُطُوْطًا اِلٰی جَنْبِ الْخَطِّ الّذِیْ وَسْطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، وَخَطٌّ خَارِجٌ مِنَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ، قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاھٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((ھٰذَا الْاِنْسَانُ، الْخَطُّ الْاَوْسَطُ، وَھٰذِہِ الْخُطُوْطُ الَّتِیْ جَنْبَہُ الْاَعْرَاضُ تَنْھَشُہُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ، اِنْ اَخْطَاَ ھٰذَا، اَصَابَہُ ھٰذَا، وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ، الْاَجَلُ الْمُحِیْطُ بِہٖ،وَالْخَطُّالْخَارِجُالْاَمَلُ۔)) (مسنداحمد: ۳۶۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لکیریں لگا کر ایک مربع شکل بنائی، اس شکل کے درمیان میں ایک خط لگایا اور پھر اس کے ساتھ اور شکل کے اندر ہی کئی لکیریں لگائی اور ایک لکیر اس مربع کے باہر لگائی اور پھر فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: درمیان میں لگی ہوئی یہ لکیر انسان ہے، اس کے ساتھ لگی ہوئییہ لکیریںبیماریاں ہیں، جو اس کو ہر مقام پر نوچنے کی کوشش کرتی ہیں، اگر ایک اپنے نشانے سے گھس جاتی ہے تو دوسری لگ جاتی ہے،یہ مربع شکل میں لگے ہوئے خطوط انسان کی موت ہے، جو اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس شکل سے باہر لگی ہوئی لکیر انسان کی امید ہے ۔

9825

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9825

Sahih

۔ (۹۸۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَرَزَ بَیْنَ یَدَیْہِ غَرْزًا، ثُمَّ غَرَزَ اِلٰی جَنْبِہٖ آخَرَ،ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ فَاَبْعَدَہُ،ثُمَّ قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاھٰذَا؟)) قَالُوْا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ،قَالَ: ((ھٰذَا الْاِنْسَانُ، وَھٰذَا اَجَلُہُ، وَھٰذَا اَمَلُہُ، یَتَعَاطَی الْاَمَلَ، یَخْتَلِجُہُ الْاَجَلُ دَوْنَ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے سامنے ایک چیز گاڑی، پھر اس کے پہلو میں ایک دوسری چیز گاڑ دی اور اس سے ذرا دو ر کر کے تیسری چیز گاڑ دی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ انسان ہے، اس کے ساتھ گڑی ہوئی یہ چیز اس کی موت ہے اور وہ دور گڑی ہوئی اس کی امید ہے، ابھی تک وہ اپنی امید کے درپے ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی موت اس کو اچک لیتی ہے۔

9826

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9826

Sahih

۔ (۹۸۲۶)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ اَصَابَہُ فَوَضَعَھَا عَلَی الْاَرْضِ فَقَالَ: ((ھٰذَا ابْنُ آدَمَ۔)) ثُمَّ رَفَعَھَا خَلْفَ ذٰلِکَ قَلِیْلًا، وَقَالَ: ((ھٰذَا اَجَلُہُ۔)) ثُمَّ رَمٰی بِیَدِہِ اَمَامَہُ قَالَ: ((وَثَمَّ اَمَلُہُ)) (مسند احمد: ۱۲۲۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیاں جمع کیں اور ان کو زمین پر رکھا اور فرمایا: یہ ابن آدم ہے۔ پھر اپنی انگلیوں کو تھوڑا سا اٹھایا اور فرمایا: یہ اس کی موت ہے۔ اور پھر اپنے ہاتھ کو اپنے سامنے پھینک کر فرمایا: اور یہاں اس کی امیدیں ہیں۔

9827

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9827

Sahih

۔ (۹۸۲۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَامِلَہُ فَنَکَتَھُنَّ فِیْ الْاَرْضِ فَقَالَ: ((ھٰذَا ابْنُ آدَمَ۔)) وَقَالَ: بِیَدِہِ خَلْفَ ذٰلِکَ وقَالَ: ((ھٰذَا اَجَلُہُ۔)) قَالَ: وَ اَوْمَاَ بَیْنَیَدَیْہِ قَالَ: ((وَثَمَّ اَمَلُہُ۔)) ثَلَاثَ مِرَارٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پوروں کو جمع کیا اور ان سے زمین میں کریدا اور فرمایا: یہ ابن آدم ہے۔ پھر اس سے ذرا پیچھے ہاتھ رکھا اور فرمایا: یہ اس کی موت ہے۔ پھر اپنے سامنے اشارہ کیا اور فرمایا: اور وہاں تک اس کی امیدیں ہیں۔ تین دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا۔

9828

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9828

Sahih

۔ (۹۸۲۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَخَذَ ثَلَاثَ حَصَیَاتٍ فَوَضَعَ وَاحِدَۃً، ثُمَّ وَضَعَ اُخْرٰی بَیْنَیَدَیْہِ وَرَمٰی بِالثَّالِثَــۃِ، فَقَالَ: ((ھٰذَا ابْنُ آدَمَ وَھٰذَا اَجَلُہُ، وَذٰلِکَ اَمَلُہُ الَّتِیْ رَمٰی بِھَا۔))(مسند احمد: ۱۳۸۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین کنکریاں لیں، ان میں ایک کو نیچے رکھا، دوسری کو اپنے سامنے رکھا اور تیسری کو پھینک دیا اور پھر فرمایا: یہ ابن آدم ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ اس کی موت پڑی ہوئی ہے اور جس کنکری کو پھینک دیا گیا ہے، وہ اس کی امیدیں ہیں۔