Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1916

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

تکبر اور بڑائی سے ترہیب کا بیان

12 hadiths in this chapter

9717

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9717

Sahih

۔ (۹۷۱۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ اِیْمَانٍ، وَلَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثَقَالُحَبَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَیُعْجِبُنِیْ اَنْ یَکُوْنَ ثَوْبِیْ غَسِیْلًا، وَرَاْسِیْ دَھِیْنًا، وَشِرَاکُ نَعْلِیْ جَدِیْدًا، وَذَکَرَ اَشْیَائً، حَتّٰی ذَکَرَ عِلَاقَۃَ سَوْطِہِ،اَفَمِنَ الْکِبْرِ ذَاکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((لَا، ذَاکَ الْجَمَالُ، اِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌیُحِبُّ الْجَمَالَ، وَلٰکِنَّ الْکِبْرَ، مَنْ سَفِہَ الْحَقَّ، وَازْدَرَی النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۳۷۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی آگ میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر ایمان ہو گا اور وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں دانے کے برابر تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں ، سر پر تیل لگا ہوا ہو، میرے جوتے کا تسمہ نیاہو، پھر اس نے مزید کچھ اشیا کا ذکر بھی کیا،یہاں تک کہ کوڑا لٹکانے کے حلقے کی بات کی، تو کیایہ چیزیں تکبر سے ہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو جمال ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظر حقارت دیکھا جائے۔

9718

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9718

Sahih

۔ (۹۷۱۸)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَمُوْتُ حِیْنَیَمُوْتُ وَفِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ تَحِلُّ لَہُ الْجَنَّۃُ، اَنْ یَرِیْـحَ رِیْـحَھَا وَلَا یَرَاھَا۔)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍیُقَالُ لَہُ اَبُوْ رَیْحَانَۃَ: وَاللّٰہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَاُحِبُّ الْجَمَالَ، وَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں مرا ہو کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو تو جنت اس کے لیے اس قدر بھی حلال نہیں ہو گی کہ وہ اس کی خوشبو پا سکے یا اس کو دیکھ سکے۔ قریش کے ابو ریحانہ نامی آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں تو حسن و جمال کو پسند کرتا ہوں، …۔ پھر سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔

9719

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9719

Sahih

۔ (۹۷۱۹)۔ عَنْ اَبِیْ رَیْحَانَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا یَدْخُلُ شَیْئٌ مِنَ الْکِبْرِ الْجَنَّۃَ۔)) فَقَالَ قَائِلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنِّیْ اُحِبُّ اَنْ اَتَجَمَّلَ بِحَبْلَانِ سَوْطِیْ وَشِسْعِ نَعْلِیْ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ ذٰلِکَ لَیْسَ بِالْکِبْرِ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ جَمِیْلٌیُحِبُّ الْجَمَالَ، اِنّمَا الْکِبْرُ مَنْ سَفَہَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَیْنَیْہِ۔)) یَعْنِیْ بِالْحَبْلَانِ سَیْرَ السَّوْطِ وَشِسْعَ النَّعْلِ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ریحانہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تکبر میں سے کوئی چیز جنت میں داخل نہیں ہو گی۔ ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں تو پسند کرتا ہوں کہ اپنے کوڑے کے دھاگے یا چمڑے اور اپنے جوتے کے تسمے کے ساتھ جمال حاصل کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تکبر نہیں ہے، بیشک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتاہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو بنظرِ حقارت دیکھا جائے۔ حَبْلَان سے مراد کوڑے کا چمڑا یا دھاگہ ہے اور جوتے کا تسمہ ہے۔

9720

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9720

Sahih

۔ (۹۷۲۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُوْحًا لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ لِاِبْنِہِ: اِنِّیْ قَاصٌّ عَلَیْکَ الْوَصِیَّۃَ، آمُرُکَ بِاثْنَتَیْنِ، وَاَنْھَاکَ عَنِ اثْنَیْنِ، آمُرُکَ بِلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ (فَذَکَرَ فَضْلَھَا) وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ (فَذَکَرَ فَضْلَھَا) ثُمَّ قَالَ: وَاَنْھَاکَ عَنِ الشِّرْکِ وَالْکِبْرِ۔)) قَالَ: قُلْتُ اَوْ قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا الشِّرْکُ قَدْ عَرَفْنَاہُ، فَمَا الْکِبْرُ؟ قَالَ: اَنْیَکُوْنَ لِاَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَھُمَا شِرَاکَانِ حَسَنَانِ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: ھُوَ اَنْ یَکُوْنَ لِاَحَدِنَا حُلَّۃٌیَلْبَسُھَا؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ:الْکِبْرُ ھُوَ اَنْ یَکُوْنَ لِاَحَدِنَا دَابَّۃٌیَرْکَبُھَا؟ قَالَ: ((لا۔)) قَالَ: اَفَھُوَ اَنْ یَکُوْنَ لِاَحَدِنَا اَصْحَابٌ یَجْلِسُوْنَ اِلَیْہِ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قِیَلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا الْکِبْرُ؟ قَالَ: ((سَفْہُ الْحَقِّ، وَغَمْصُ النَّاسِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: بیشک میں تجھے ایک وصیت کرنے لگا ہوں، میں تجھے دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے منع کرتا ہوں، میں تجھے لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، پھر اس کلمہ کی فضیلت بیان کی اور میں تجھے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ کی وصیت کرتا ہوں، پھر اس کی فضیلت کا ذکر کیا اور میں تجھے شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! شرک کو تو ہم پہچانتے ہیں،یہ تکبر کیا ہے؟ کیایہ ہے کہ بندے کے اچھے جوتے ہوں اور ان کے اچھے تسمے ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: کیایہ ہے کہ بندے کی پوشاک ہو، جس کو وہ زیب ِ تن کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا تکبر یہ ہے کہ بندے کے پاس چوپایہ ہو، جس پر سوار ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ اس نے کہا: کیا پھر تکبر یہ ہے کہ بندے کے ساتھی ہوں، جو اس کے ساتھ بیٹھا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر تکبر کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حق کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔

9721

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9721

Sahih

۔ (۹۷۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ حَیَّان،عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اِلْتَقَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْروٍ (یَعْنِی ابْنَ الْعَاصِ) وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، ثُمَّ اَقْبَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَھُوَ یَبْکِیْ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَایُبْکِیْکَیَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَ: الّذِیْ حَدَّثَنِیْ ھٰذَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ اِنْسَانٌ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ۔)) (مسند احمد: ۶۵۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو حیان کے باپ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمرو اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم کی ملاقات ہوئی، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمامتوجہ ہوئے اور رونے لگ گئے، لوگوں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: اس چیز کی وجہ سے، جو انھوں نے مجھے بیان کی ہے، یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا۔

9722

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9722

Sahih

۔ (۹۷۲۲)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: اِلْتَقٰی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْروٍ بْنِ الْعَاصِ عَلَی المَرْوَۃِ، فَتَحَدَّثَا، ثُمَّ مَضٰی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، وَبَقِیَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ یَبْکِیٰ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: مَا یُبْکِیْکَیَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَ: ھٰذَا، یَعْنِیْ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، زَعَمَ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُحَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ، اَکَبَّہُ اللّٰہُ عَلٰی وَجْھِہِ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مروہ پر سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم کی ملاقات ہوئی، ان دونوں نے باتیں کیں، پھر سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما چلے گئے اور پیچھے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما رونے لگ گئے، ایک بندے نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یہ کہہ گئے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا، اللہ تعالیٰ اس کو چہرے کے بل جہنم میں گرائے گا۔

9723

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9723

Sahih

۔ (۹۷۲۳)۔ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: کُنْتُ لَا اُحْجَبُ عَنِ النَّجْوٰی، وَلَا عَنْ کَذَا، وَلَا عَنْ کَذَا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَنَسِیَ وَاحِدَۃً، وَنَسِیْتُ اَنَا وَاحِدَۃً، قَالَ: فَاَتَیْتُہُ وَعِنْدَہُ مَالِکُ بْنُ مُرَارَۃَ الرَّھَاوِیُّ، فَاَدْرَکْتُ مِنْ آخِرِ حَدِیْثِہِ، وَھُوَ یَقُوْلُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ قُسِمَ لِیْ مِنَ الْجَمَالِ مَاتَرٰی، فَمَا اُحِبُّ اَنَّ اَحَدًا مِنَ النَّاسِ فَضَلَنِیْ بِشِرَاکَیْنِ فَمَا فَوْقَھَا، اَفَلَیْسَ ذٰلِکَ ھُوَ الْبَغِیُ؟ قَالَ: ((لا، لَیْسَ ذٰلِکَ الْبَغْیَ، لَکِنَّ الْبَغْیَ مَنْ بَطَرَ (قَالَ: اَوْ قَالَ: سَفِہَ) الْحَقَّ، وَغَمَطَ النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہ سرگوشی سے منع کیا جاتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، ابن عون کہتے ہیں: ایک چیز وہ بھول گئے اور ایک مجھے یاد نہ رہی، پھر میں ان کے پاس آیا، جبکہ ان کے پاس مالک بن مرارہ رہاوی بیٹھے ہوئے تھے اور وہ کوئی حدیث بیان کر رہے تھے، اس حدیث کا آخری حصہ، جو میں نے پایا، وہ یہ تھا: انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے حسن و جمال میں سے خاصا حصہ دیا گیا ہے، آپ کو معلوم ہی ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ کوئی آدمی دو تسموں کے معاملے میں بھی مجھ سے برتری نہ لے جائے، کیایہ سرکشی تو نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: نہیں،یہ سرکشی نہیں ہے، سرکشی تو یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔

9724

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9724

Sahih

۔ (۹۷۲۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ تَعَظَّمَ فِیْ نَفْسِہِ، اَوِ اخْتَالَ فِیْ مِشْیَتِہِ، لَقِیَ اللّٰہَ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) (مسند احمد: ۵۹۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص بڑا بنایا اکڑ کر چلا، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔

9725

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9725

Sahih

۔ (۹۷۲۵)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَدْخُلُ الْجَنّۃَ الْجَوَّاظُ، وَالْجَعْظَرِیُّ، وَالْعُتُلُّ، وَالزَّنِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد الرحمن بن غنم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں یہ افراد داخل نہیں ہوں گے: اکڑ کر چلنے والا، بدمزاج و بدخلق، روکھا اکھڑ مزاج آدمی، کمینہ جو دناء ت و بدی میں مشہور ہو۔

9726

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9726

Sahih

۔ (۹۷۲۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَمْثَالَ الذَرِّ فِیْ صُوَرِ النَّاسِ، یَعْلُوْھُمْ کُلُّ شَیْئٍ مِنَ الصِّغَارِ، حَتّٰییَدْخُلُوْا سِجْنًا فِیْ جَھَّنَمَ، یُقَالَ لَہُ: بُوْلَسُ، فَتَعْلُوَھُمْ نَارُالْاَنْیَارِ،یُسْقَوْنَ مِنْ طِیْنَۃِ الْخَیَالِ، عِصَارَۃِ اَھْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تکبر کرنے والوں کو لوگوں کی صورت میں چھوٹی چیونٹیوں کی طرح جمع کیا جائے گا، ذلت و حقارت ان پر ہر طرف سے چھا رہی ہو گی،یہاں تک کہ وہ جہنم کے بولس نامی قیدخانے میں داخل ہو جائیں گے، وہاں ان پر آگوں کی آگ چڑھ آئے گی اور ان کو طینۃ الخبال یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔

9727

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9727

Sahih

۔ (۹۷۲۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیْنَمَا رَجُلٌ یَتَبَخْتَرُ فِیْ حُلَّۃٍ، اِذْ اَمَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہٖالْاَرْضَفَاَخَذْتُہُ،وَھُوَیَتَجَلْجَلُ فِیْھَا، اَوْ یَتَجَرْجَرُ فِیْھَا اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ایک پوشاک میں اترا کر چل رہا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں زمین کو حکم دیا، زمین نے اس کو پکڑ لیا، وہ قیامت کے دن تک اسی میں دھنستا جائے گا۔

9728

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9728

Sahih

۔ (۹۷۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَمَا رَجُلٌ شَابٌّ یَمْشِیْ فِیْ حُلَّۃٍیَتَبَخْتَرُ فِیْھَا مُسْبِلًا اِزَارَہُ اِذْ بَلَعَتْہُ الْاَرْضُ، فَھُوَ یَتَجَلْجَلُ فِیْھَا اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۳۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ کی بات ہے کہ ایک نوجوان ایک پوشاک پہنے ہوئے اترا کر چل رہا تھا اور اس نے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے تک لٹکا رکھا تھا، اتنے میں زمین اس کو نگل گئی اور وہ روزِقیامت تک اس میں دھنستا چلا جائے گا۔