Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1915

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں

11 hadiths in this chapter

9706

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9706

Zaeef

۔ (۹۷۰۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ بَکٰی، فَقِیْلَ لَہُ: مَایُبْکِیْکَ؟ قَالَ: شَیْئًا سَمِعْتُہُ ِمنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُہُ فَذَکَرْتُہُ فَاَبْکَانِیْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَتَخَوَّفُ عَلٰی اُمَّتِی الشِّرْکَ وَ الشَّھْوَۃَ الْخَفِیَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتُشْرِکُ اُمَّتُکَ مِنْ بَعْدِکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، اَمَا اِنَّھُمْ لَایَعْبُدُوْنَ شَمْسًا، وَلَا قَمَرًا، وَلَا حَجَرًا، وَلَا وَثَنًا، وَلٰکِنْ یُرَائُوْنَ بِاَعْمَالِھِمْ، وَالشَّھْوَۃُ الْخَفِیَّۃُ اَنْ یُصْبِحَ اَحَدُھُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضُ لَہُ شَھْوَۃٌ مِنْ شَھَوَاتِہِ فَیَتْرُکُ صَوْمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبادہ بن نُسی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگے، کسی نے ان سے کہا: تم کیوں روتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ یاد آ گئی تھی، اس لیے رونے لگ گیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میں اپنی امت پر شرک اور مخفی شہوت کے بارے میں ڈرتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، خبردار! وہ سورج، چاند، پتھراور بت کی عبادت نہیں کرے گی، وہ اپنے اعمال کے ذریعے ریاکاری کریں گے اور مخفی شہوت یہ ہے کہ بندہ صبح کو روزہ رکھے، پھر اس کی کوئی شہوت اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ روزہ توڑ دیتا ہے۔

9707

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9707

Sahih

۔ (۹۷۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدِ بْنِ اَبِیْ فَضَالَۃَ الْاَنْصَارِیِّ، وَکَانَ مِنَ الصَّحَابَۃِ اَنَّہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِذَا جَمَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَ لِیَوْمٍ لَارَیْبَ فِیْہِ،یُنَادِیْ مُنَادٍ: مَنْ کَانَ اَشْرَکَ فِیْ عَمَلٍ عَمَلَہُ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَحَدًا فَلْیَطْلُبْ ثَوَابَہُ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اَغْنَی الشُّرَکَائِ عَنِ الشِّرْکِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۰۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابی سعید بن ابو فضالہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ پہلوں اور پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: جس بندے نے اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کیا، لیکن اس نے اس میں کسی اور کو بھی شریک کر دیا تھا تو وہ اُسی غیر اللہ کے پاس اس کا ثواب تلاش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں: میں شریکوں میں شرک سے سب سے بڑھ کر غنی ہوں۔

9708

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9708

Sahih

۔ (۹۷۰۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا خَیْرُ الشُّرَکَائِ مَنْ عَمِلَ لِیْ عَمَلًا فَاَشْرَکَ غَیْرِیْ، فَاَنَا مِنْہُ بَرِیْئٌ وَھُوَ لِلَّذِیْ اَشْرَکَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں شرکاء میں بہترین شریک ہوں، جو میرے لیے عمل کرتا ہے اور پھر اس میں میرے غیر کو بھی شریک کر لیتا ہے تو میں اس سے بری ہو جاتا ہوں اور وہ اسی کے لیے ہو جاتا ہے، جس کو وہ شریک کرتا ہے۔

9709

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9709

Zaeef

۔ (۹۷۰۹)۔ حَدَّثَنَا اَبُوْ النَّضْرِ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِیْدِ،یَعْنِی ابْنَ بَھْرَامَ، قَالَ: قَالَ شَھْرُ بْنُ حَوْشَبٍ: قَالَ ابْنُ غَنَمٍ: لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِیَۃِ اَنَا وَاَبُوْالدَّرْدَائِ لَقِیْنَا عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ، فَاَخَذَیَمِیْنِیْ بِشِمَالِہِ وَشِمَالَ اَبِی الدَّرْدَائِ بِیَمِیْنِہِ فَخَرَجَ یَمْشِیْ بَیْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِیْ، وَاللّٰہُ اَعْلَمُ فِیْمَا نَتَنَاجٰی وَذٰلِکَ قَوْلُہُ: فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ: لَئِنْ طَالَ بِکُمَا عُمْرُ اَحَدِ کُمَا اَوْ کِلَا کُمَا لَتُوْشِکَانِّ اَنْ تَرَیَا الرَّجُلَ مِنْ ثَبَجِ الْمُسْلِمِیْنَ،یَعْنِیْ مِنْ وَسْطٍ، قَرَئَ الْقُرْآنَ عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: عَلٰی لِسَانِ اَخِیْہِ قِرَائَۃً عَلٰی لِسَانِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَاَعَادَہُ وَاَبْدَاہُ وَاَحَلَّ حَلَالَہُ وَحَرَّمَ حَرَامَہُ وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِہِ لَایَحُوْرُ فِیْکُمْ اِلَّا کَمَا یَحُوْرُ رَاْسُ الْحِمَارِ الْمَیِّتِ، قَالَ: فَبَیْنَا نَحْنُ کَذٰلِکَ، اِذْ طَلَعَ شَدَّادُ بْنُ اَوْسٍ وَعَوْفُ بْنُ مَالِکٍ فَجَلَسَا اِلَیْنَا، فَقَالَ شَدَّادٌ : اِنَّ اَخْوَفَ مَااَخَافُ عَلَیْکُمْ اَیُّھَا النَّاسُ لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مِنَ الشَّھْوَۃِ الْخَفِیَّۃِ وَالشِّرْکِ۔)) فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ وَاَبُوْ الدَّرْدَائِ: اَللّٰھُمَّ غَفْرًا، اَوَلَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ حَدَّثَنَا اَنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ یَئِسَ اَنْ یُعْبَدَ فِیْ جَزِیْرَۃِ الْعَرْبِ؟ فَاَمَّا الشَّھْوَۃُ الْخَفِیَّۃُ فَقَدْ عَرَفْنَاھَا ھِیَ شَھَوَاتُ الدُّنْیَا مِنْ نِسَائِھَا وَشَھَوَاتِھَا، فَمَا ھٰذَا الشِّرْکُ الَّذِیْ تُخَوِّفُنَا بِہٖیَا شَدَّادُ؟ فَقَالَ شَدَّادٌ: اَرَاَیْتُکُمْ لَوْ رَاَیْتُمْ رَجُلًا یُصَلِّیْ لِرَجُلٍ، اَوْ یَصُوْمُ لَہُ، اَوْ یَتَصَدَّقُ لَہُ، اَتَرَوْنَ اَنَّہُ قَدْ اَشْرَکَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ! وَاللّٰہِ اِنَّ مَنْ صَلَّی لِرَجُلٍ اَوْ صَامَ لَہُ، اَوْ تَصَدَّقَ لَہُ، فَقَدْ اَشْرَکَ، فَقَالَ شَدَّادٌ: فَاِنِّیْ قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ صَلّٰییُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ، فَقَالَ عَوْفُ بْنِ مَالِکٍ عِنْدَ ذٰلِکَ: اَفَـلَا یَعْمِدُ اِلٰی مَاابْتُغِیَ فِیْہِ وَجْھُہُ مِنْ ذٰلِکَ الْعَمَلِ کُلِّہِ فَیَقْبَلَ مَاخَلَصَ لَہُ وَیَدَعَ مَایُشْرِکُ بِہٖ؟فَقَالَشَدَّادٌعِنْدَذٰلِکَ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَنَا خَیْرُ قَسِیْمٍ لِمَنْ اَشْرَکَ بِیْ، مَنْ اَشْرَکَ بِیْ شَیْئًا فَاِنَّ حَشْدَہُ عَمَلَہُ قَلِیْلَہُ وَکَثِیْرَہُ لِشَرِیْکِہِ الَّذِیْ اَشْرَکَ بِہٖ،وَاَنَاعَنْہُغَنِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن غنم کہتے ہیں: جب میں اور سیدنا ابو درداء جابیہ کی مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملے، انھوں نے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ اور دائیں ہاتھ سے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا اور ہمارے درمیان چلنے لگے، ہم سرگوشی کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم کس چیز میں سرگوشی کر رہے تھے، سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر تم میں سے ایک کی یا دونوں کی عمر لمبی ہو گئی تو ممکن ہے کہ تم یہ دیکھو کہ درمیانے قسم کے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا ایک آدمی ہو گا، وہ محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان کے مطابق قرآن مجید پڑھے گا، پھر وہ اس کو بار بار پڑھے گا اور اس کو ظاہر کرے گا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے گا اور اس کے احکام کا پابند رہے گا، لیکن پھر بھی وہ تمہارے پاس اتنی خیر لائے گا، جتنی کہ مردار گدھے کا سر لاتا ہے، (یعنی وہ آدمی ذرا برابر خیر و بھلائی لے کر نہیں آئے گا)۔ ہم اسی اثنا میں تھے کہ سیدنا شداد بن اوس اور سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئے، سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس چیز کا ہے، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ مخفی شہوت اور شرک ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت اور سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اے اللہ! بخشنا، کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ شیطان اس چیز سے ناامید ہو گیا ہے کہ جزیرۂ عرب میں اس کی عبادت کی جائے؟ البتہ مخفی شہوت کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی شہوات ہوتی ہیں، ان کا تعلق عورتوں سے اور ان کی شہوات سے ہوتا ہے، لیکن شداد! یہ شرک کیا چیز ہے، جس کے بارے میں تم ہمیں ڈرا رہے ہو؟ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اچھا اس کے بارے میں تم مجھے بتلاؤ کہ اگر کوئی آدمی کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھ رہا ہو، یا روزہ رکھ رہا ہو، یا صدقہ کر رہا ہو، کیا اس کے بارے میں تمہاری رائے یہی ہے کہ اس نے شرک کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! جس آدمی نے کسی آدمی کو دکھانے کے لیے نماز پڑھی،یا روزہ رکھا، یا صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے روزہ رکھا، اس نے شرک کیا، جس نے ریاکاری کرتے ہوئے صدقہ کیا، اس نے شرک کیا۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیااس طرح نہیں ہو گا کہ اس کے وہ اعمال دیکھے جائیں جو اس نے خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے کیے ہوں اور ان کو قبول کر لیا جائے اور شرکیہ اعمال کو چھوڑ دیا جائے؟ سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے میرے ساتھ شرک کیا، میں اس کا سب سے بہترین قسیم اور حصہ دار ہوں، جس نے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرایا تو اس آدمی کے اعمال کی ساری جمع پونجی، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، اس کے اس ساجھی کے لیے ہو جائے گی، جس کے ساتھ وہ شرک کرے گا اور میں (اللہ) اس سے غنی ہوں گا۔

9710

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9710

Sahih

۔ (۹۷۱۰)۔ عَنْ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَمَّعَ، سَمَّعَ اللّٰہُ بِہٖ،وَمَنْرَاآرَاآاللّٰہُبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۷۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مشہور کر دے گا اور جس نے (خلافِ حقیقت) نیکی کا اظہار کرنا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کا اظہار کروا دے گا۔

9711

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9711

Sahih

۔ (۹۷۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھِنْدٍ الدَّارِیِّ، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ قَامَ مَقَامَ رِیَائٍ وَسُمْعَۃٍ رَاآ اللّٰہُ بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَسَمَّعَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہند داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ریاکای اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہوا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا اظہار کروا دے گا اور اس کو مشہور کر دے گا۔

9712

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9712

Sahih

۔ (۹۷۱۲)۔ عَنْ عبد اللّٰہِ بْنِ عَوْفٍ الْکِنَانِیِّ، وَکَانَ عَامِلًا لِعُمَرَبْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ عَلَی الرَّمْلَۃِ اَنَّہُ شَھِدَ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ قَالَ لِبَشِیْرِ بْنِ عَقْرَبَۃَ الْجُھَنِیِّیَوْمَ قُتِلَ عَمْرُوبْنُ سَعیْدِ بْنِ الْعَاصِ: یَا اَبَا الْیَمَانِ! قَدِ احْتَجْتُ الْیَوْمَ اِلٰی کَلَامِکَ، فَقُمْ فَتَکَلَّمْ قَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ قَامَ بِخُطْبَۃٍ لَا یَلْتَمِسُ بِھَا اِلَّا رِیَائً وَسُمْعَۃً، اَوْقَفَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَوْقِفَ رِیَائٍ، وَسُمْعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن عوف کنانی، جو کہ عمر بن عبد العزیزi کی طرف سے رملہ پر عامل تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عبد الملک بن مروان کے پاس موجود تھا، اس نے عمرو بن سعید بن عاص کے قتل والے دن بشیر بن عقربہ جہنی سے کہا: اے ابو الیمان! آج مجھے تیرے کلام کی ضرورت پڑ گئی ہے، لہٰذا اٹھو اور کوئی بات کرو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جو خطاب کرنے کے لیے کھڑا ہوا، جبکہ کا اس کا مقصد صرف ریاکاری اور شہرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ریاکاری اور شہرت والے مقام پر کھڑا کرے گا۔

9713

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9713

Sahih

۔ (۹۷۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِہِ، سَمَّعَ اللّٰہُ بِہٖسَامِعَخَلْقِہِوَصَغَّرَہُوَحَقَّرَہُ۔)) قَالَ: فَذَرَفَتْعَیْنَا عَبْدِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۶۵۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کے سامنے مشہور ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق کے سامنے مشہور کر دے گا، لیکن پھر اس کو گھٹیا اور حقیر کر دے گا۔ پھر سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔

9714

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9714

Sahih

۔ (۹۷۱۴)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ، قَالَ: تَفَّرَجَ النَّاسُ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ لَہُ نَاتِلٌ الشَّامِیُّ: اَیُّھَا الشَّیْخُ! حَدِّثْنَا حَدِیْثًا سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اَوَّلَ النَّاسِ یُقْضٰی فِیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثَلَاثَۃٌ، رَجُلٌ اسْتُشْھِدَ فَاُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا فَقَالَ: وَمَاعَمِلْتَ فِیْھَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِیْکَ حَتّٰی قُتِلْتُ، قَالَ: کَذَبْتَ، وَلٰکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِیُقَالَ ھُوَ جَرِیئٌ، فَقَدْ قِیْلَ، ثُمَّ اُمِرِ بِہٖ فَیُسْحَبُ عَلٰی وَجْھِہِ، حَتّٰی اُلْقِیَ فِیْ النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَہُ، وَقَرَاَ الْقُرْآنَ، فَاُتِیَ بِہٖ لِیُعَرِّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا، فَقَالَ: مَاعَمِلْتَ فِیْھَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ مِنْکَ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُہُ وَقَرَاْتُ فِیْکَ الْقُرْآنَ، فَقَالَ: کَذَبْتَ، وَلٰکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ لِیُقَالَ : ھُوَ عَالِمٌ فَقَدْ قِیْلَ، وَقَرَاْتَ الْقُرْآنَ، لِیُقَالَ: ھُوَ قَارِیٌ، فَقَدْ قِیْلَ، ثُمَّ اُمِرِ بِہٖ فَیُسْحَبُ عَلٰی وَجْھِہِ حَتّٰی اُلْقِیَ فِیْ النَّارِ، ورَجُلٌ وَسَّعَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَاَعْطَاہُ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّہِ، فَاُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا،فَقَالَ: مَاعَمِلْتَ فِیْھَا؟ قَالَ: مَاتَرَکْتُ مِنْ سَبیْلِ تُحِبُّ اَنْ یُنْفَقَ فِیْھَا اِلَّا انْفَقْتُ فِیْھَا لَکَ، قَالَ: کَذَبْتَ، وَلٰکِنَّکَ فَعَلْتَ ذٰلِکَ لِیُقَالَ: ھُوَ جَوَّادٌ، فَقَدْ قِیْلَ: ثُمَّ اُمِرِ بِہٖ فَیُسْحَبُ عَلٰی وَجْھِہِ، حَتّٰی اُلْقِیَ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد:۸۲۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: جب لوگ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ارد گرد سے بکھر گئے تو اہل شام کے ایک ناتل نامی آدمی نے کہا: محترم! ہمیں کوئی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہو۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے روز سب سے پہلے ان (تین قسم کے) افراد کا فیصلہ کیا جائے گا: (۱)جس آدمی کو شہید کیا گیا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تو کیا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا،حتی کہ شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھو ٹ بول رہا ہے، تو نے تو اس لئے جہاد کیا تھا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے اور ایسے (دنیا میں) کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۲) علم سیکھنے سکھانے اور قرآن مجید پڑھنے والا آدمی، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کرائے گا، وہ اقرار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: میں نے تیری خاطر علم سیکھا سکھایا اور تیرے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، حصولِ علم سے تیرا مقصدیہ تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا کہ قاری کہا جائے، سو ایسے تو کہا جا چکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۳)وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے خوشحال و مالدار بنایا اور اسے مال کی تمام اقسام عطا کیں، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا تعارف کروائے گا ، وہ پہچان لے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کون سا عمل کر کے لایا ہے؟ وہ کہے گا: جن مصارف میں خرچ کرنا تجھے پسند تھا، میں نے ان تمام مصارف میں تیرے لئے خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تیرا خرچ کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے او روہ تو کہہ دیا گیا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم ہو گا، جس کے مطابق اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

9715

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9715

Zaeef

۔ (۹۷۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا نَتَنَاوَبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَبِیْتُ عِنْدَہُ، تَکُوْنُ لَہُ الْحَاجَۃُ، وَیَطْرُقُہُ اَمْرٌ مِنَ اللَّیْلِ فَیَبْعَثُنَا فَیَکْثُرُ الْمُحْتَسِبُوْنَ وَاَھْلُ النُّوْبِ، فَکُنَّـا نَتَحَدَّثُ فَخَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ فَقَالَ: ((مَاھٰذِہِ النَّجْوٰی؟ اَلَمْ اَنْھَکُمْ عَنِ النَّجْوٰی؟)) قَالَ: قُلْنَا نَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنّمَا کَانَ فِیْ ذِکْرِ الْمَسِیْحِ فَرَقًا مِنْہُ، فَقَالَ: ((اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِمَا ھُوَ اَخْوَفُ عَلَیْکُمْ مِنَ الْمَسِیْحِ عِنْدِیْ؟)) قَالَ: قُلْنَا بَلٰی! قَالَ: ((الشِّرْکُ الْخَفِیُّ، اَنْ یَقُوْمَ الرَّجُلُ یَعْمَلُ لِمَکَانِ رَجُلٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جانے کی باریاں مقرر کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس رات گزارتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی ضرورت پڑتی تھی اور رات کو کوئی معاملہ پیش آتا تھا تو ہمیں اٹھا دیتے تھے، اس طرح ثواب کی خاطر آنے والوں اور باری والوں کی تعداد بڑھ جاتی تھی، ایک رات ہم گفتگو کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: یہ سرگوشی ہو رہی ہے؟ میں نے تم کو سرگوشی سے منع نہیں کیا تھا؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور دجال سے ڈرتے ہوئے اس کی بات کر رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دے دوں، جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خوف والی ہے؟ ہم نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شرکِ خفی،یعنی کسی آدمی کے مرتبے کی خاطر عمل کرنا۔

9716

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9716

Zaeef

۔ (۹۷۱۶)۔ عَنِ ابْنِ الْاَدْرَعٍ، قَالَ: کُنْتُ اَحْرُسُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَـْیلَۃٍ، فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِہِ، قَالَ: فَرَآنِیْ فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلٰی رَجُلٍ یُصَلِّیْیَجْھَرُ بِالْقُرَآنِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَسٰی اَنْیَکُوْنَ مُرَائِیًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! یُصَلِّیْیَجْھَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ: فَرَفَضَ یَدِیْ ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّکُمْ لَنْ تَنَالُوْا ھٰذَا الْاَمْرَ بِالْمُغَالَبَۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَـْیلَۃٍ وَ اَنَا اَحْرُسُہُ لِبَعْضِ حَاجَتِہِ فَاَخَذَ بِیَدِیْ فَمَرَرْنَا عَلٰی رَجُلٍ یُصَلِّیْ بِالْقُرآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ: عَسٰی اَنْ یَکُوْنَ مُرَائِیًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَلَّا اِنَّہُ اَوَّابٌ۔)) قَالَ: فَنَظَرْتُ فَاِذَا ھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ ذُوْالْبِجَادَیْنِ ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن ادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کام کے لیے نکلے، جب مجھے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑ لیا، پس ہم چل پڑے اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند تلاوت کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ یہ ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ قرآن کی بلند آواز سے تلاوت کر رہا ہے، (بھلا اس میں کیا حرج ہے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا: تم اس دین کو غلبے کے ساتھ نہیں پا سکتے۔ وہ کہتے ہیں: پھر ایکرات کو ایسے ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی ضرورت کے لیے نکلے، جبکہ میں ہی پہرہ دے رہا تھا، (اسی طرح) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا (اور ہم چل پڑے) اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوازِ بلند قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ اب کی بار میں نے کہا: قریب ہے کہ یہ شخص ریاکاری کرنے والا بن جائے۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (میرا ردّ کرتے ہوئے) فرمایا: ہر گز نہیں،یہ تو بہت توبہ کرنے والا ہے۔ جب میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبد اللہ ذو االبجادین تھے۔