Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1914

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

ہمسائے کو تکلیف دینے سے ترہیب اور اس معاملے میں سختی کا بیان

7 hadiths in this chapter

9699

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9699

Sahih

۔ (۹۶۹۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ فُلَانَۃَیُذْکَرُ مِنْ کَثْرَۃِ صَلَاتِھَا وَصِیَامِھَا وَصَدَقَتِھَا، غَیْرَ اَنَّھَا تُؤْذِیْ جِیْرَانَھَا بِلِسَانِھَا، قَالَ: ((ھِیَ فِیْ النَّارِ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاِنَّ فُلَانَۃَیُذْکَرُ مِنْ قِلَّۃِ صِیَامِھَا وَصَدَقَتِھَا وَصَلَاتِھَا، وَاِنَّھَا تَصَدَّقُ بِالْاَثْوَارِ مِنَ الْاَقِطِ، وَلَا تُؤْذِیْ جِیْرَانَھَا قَالَ: ((ھِیْ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ! فلاں عورت کی نماز، روزے اور صدقے کی تو بڑی مشہوری ہے، لیکن وہ زبان سے اپنے ہمسائیوں کو تکلیف دیتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت کے بارے یہ بات تو کہی جاتی ہے کہ اس کے روزوں، صدقے اور نماز کی مقدار کم ہے، وہ صرف پنیر کے ٹکڑوں کا صدقہ کرتی ہے، البتہ وہ ہمسائیوں کو تکلیف نہیں دیتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔

9700

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9700

Sahih

۔ (۹۷۰۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَوَّلُ خَصْمَیْنِیَوْمَ الْقِیَامَۃِ جَارَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت والے دن سب سے پہلے دو جھگڑا کرنے والے دو ہمسائے ہوں گے۔

9701

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9701

Sahih

۔ (۹۷۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ، فَاِنَّ جَارَ الْمُسَافِرِ اِذَا شَائَ اَنْ یُزَالَ زَالَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اپنی مستقل) قیام گاہ کے پڑوسی کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ اگر آدمی مسافر ہو تو وہ (برے پڑوسی) سے جب چاہے جدا ہو سکتا ہے۔

9702

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9702

Sahih

۔ (۹۷۰۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَایُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَایُؤْمِنُ۔)) قَالُوْا: وَمَاذَاکَ یارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اَلْجَارُ لَایَاْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا بَوَائِقُہُ؟ قَالَ: ((شَرُّہُ۔)) (مسند احمد: ۷۸۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ آدمی مؤمن نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ آدمی صاحب ِ ایمان نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! وہ شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہمسایہ کہ جس کے شرور سے اس کے ہمسائے امن میں نہ ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا شر۔

9703

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9703

Sahih

۔ (۹۷۰۳)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَبْدٌ، لَایَاْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ بندہ جنت میں نہیں جائے گا، جس کے ہمسائے اس کے شرّ سے محفوظ نہ ہوں۔

9704

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9704

Sahih

۔ (۹۷۰۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : کَیْفَ لِیْ؟ اَنْ اَعْلَمَ اِذَا اَحْسَنْتُ، وَاِذَا اَسَاْتُ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا سَمِعْتَ جِیْرَانَکَیَقُوْلُوْنَ: قَدْ اَحْسَنْتَ، فَقَدْ اَحْسَنْتَ، وَاِذَا سَمِعْتُمْ یَقُوْلُوْنَ: قَدْ اَسَاْتَ، فَقَدْ اَسَاْتَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حضرت عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب میں نیکی کروں اور جب میں برائی کروں تو مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ میں نے نیکی یا برائی کی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے پڑوسیوں کو یوں کہتا سنے کہ تو نے نیکی ہے، تو تونے نیکی کی ہو گی اور جب ان کو یوں کہتا سنے کہ تو نے برائی کی ہے تو تو نے برائی کی ہو گی۔

9705

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9705

Zaeef

۔ (۹۷۰۵)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ سَدُوْسٍ، یُقَالُ لَہُ: دَیْسَمٌ، قَالَ: قُلْنَا: لِبَشِیْرِ بْنِ الْخَصَاصِیَۃِ، قَالَ: وَمَاکَانَ اِسْمُہُ بَشِیْرًا، فَسَمَّاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَشِیْرًا، اِنَّ لَنَا جِیْرَۃً مِنْ بَنِیْ تَمِیْمٍ لَاتَشُذُّ لَنَا قَاصِیَۃٌ اِلَّا ذَھَبُوْا بِھَا، وَاِنَّھَا تُخَالِفُنَا مِنْ اَمْوَالِھِمْ اَشْیَائُ اَفَنَاْخُذُ؟ قَالَ: لَا ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

بنو سدوس کے دیسم نام کےایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہم نے سیدنا بشیر بن خصاصیہ سے کہا، یہ ان کا نام نہیں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا تھا، بہرحال ہم نے کہا: بنوتمیم کے کچھ لوگ ہمارے ہمسائے ہیں، ہماری جو بکری ریوڑ سے دور ہو جائے، وہ اس کو لے جاتے ہیں، پھر جب ہمارے پاس ان کے مالوں میں بعض چیزیں آتی ہیں تو ہم ان پر قبضہ کر لیں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں۔