Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 163 · Chapter 1917

قسم پنجم: ترہیب کبیرہ گناہوں اور دوسری نافرمانیوں سے متعلقہ مسائل

نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان

12 hadiths in this chapter

9729

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9729

Sahih

۔ (۹۷۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَفْتَخِرُوْا بِآبَائِکُمُ الَّذِیْنَ مَاتُوْا فِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ، لَمَا یُدَھْدِہُ الْجُعَلُ بِمَنْخِرَیْہِ، خَیْرٌ مِنْ آبَائِکُمُ الَّذِیْنَ مَاتُوْا فِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاہلیت میں مر جانے والے آباء و اجداد پر فخر مت کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بھونرا (کالا کیڑا) اپنے نتھنوں سے جس چیز کو لڑھکاتا ہے، وہ تمہارے ان آباء سے بہتر ہے، جو جاہلیت میں مر گئے ہیں۔

9730

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9730

Sahih

۔ (۹۷۳۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَدَعُنَّ رِجَالٌ فَخْرَھُمْ بِاَقْوَامٍ اِنّمَا ھُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَھَنَّمَ، اَوْ لَیَکُوْنَنَّ اَھْوَنَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِیْ تَدْفَعُ بِاَنْفِھَا النَّتِنَ، وَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَذْھَبَ عَنْکُمْ عُبِّیَّۃَ الْجَاھِلِیَّۃِ، وَفَخْرَھَا بِالْآبَائِ، مُؤْمِنٌ تَقِیٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ، النَّاسُ بَنُوْ آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور یا تو لوگ قوموں کی بنا پر فخر کرنے کو ترک کر دیں گے، یہ قومیں تو جہنم کا کوئلہ تھیں،یا پھر یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے بدبودار چیزوں کو دھکیلتا ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے غرورو نخوت اور آباء و اجداد کی بنا پر فخر کرنے کو ختم کر دیا ہے، اب دو ہی قسمیں رہ گئی ہیں: متقی مؤمن اور بد کردار، بد بخت سارے لوگ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔

9731

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9731

Sahih

۔ (۹۷۳۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَدَعَنَّ النَّاسُ فَخْرَھُمْ فِیْ الْجَاھِلیَّۃ، اَوْ لَیَکُوْنَنَّ اَبْغَضَ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْخَنَافِِسِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ جاہلیت کے فخر کو چھوڑ دیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں بھونرے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے۔

9732

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9732

Sahih

۔ (۹۷۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، حَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ خُطْبَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسْطَ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ فَقَالَ: ((یَااَیُّھَا النَّاسُ! اَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ، وَاِنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ، اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی اَعْجَمِیٍّ، وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ، وَلَا اَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ، اِلَّا بِالتَّقْوٰی، اَبَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: بَلَّغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو نضرہ سے مروی ہے کہ ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ سننے والے صحابی نے اس کو بیان کیا کہ نبی کریم نے فرمایا: اے لوگو! خبردار! بیشک تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی سرخ کو سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو سرخ پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے، مگر تقوی کی بنیاد پر، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچا دیا ہے۔

9733

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9733

Sahih

۔ (۹۷۳۳)۔ عَنْ مُعَاذٍ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائیِْلَ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی علیہ السلام اَحَدُھُمَا مُسْلِمٌ، وَالْآخَرُ مُشْرِکٌ، فَانْتَسَبَ الْمُشْرِکُ، قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، حَتّٰی بَلَغَ تِسْعَۃَ آبَائٍ، ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِہٖ: انْتَسِبْ لَااُمَّ لَکَ،قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَاَنَا بَرِیْیئٌ مِمَّا وَرَائَ ذٰلِکَ، فَنَادٰی مُوْسٰی علیہ السلام النَّاسَ، فَجَمَعَھُمْ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ قُضِیَ بَیْنَکُمَا، اَمَّا الَّذِیْ انْتَسَبَ اِلٰی تِسْعَۃِ آبَائٍ فاَنْتَ فَوْقَھُمُ الْعَاشِرُ فِی النَّارِ، وَاَمَّا الَّذِی انْتَسَبَ اِلَی اَبَوَیْہِ فَاَنْتَ اِمْرَؤٌ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ موسی علیہ السلام کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے نسب بیان کرتے ہوئے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، ( نو پشتیں ذکر کردیں)، پھر اس نے اپنے مقابل سے کہا: تیری ماں نہ رہے، تو اپنا نسب بیان کر؟ میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس کے بعد والے آباء سے بری ہوں، اُدھر موسی علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا: تم دو کے درمیان فیصلہ کر دیا گیا ہے، جس نے نو آباء تک نسب ذکر کیا ہے، تو ان کا دسواں ہے اور تم سب کے سب آگ میں ہو اور جس آدمی نے اپنے والدین تک نسب ذکر کیا، تو اسلام والوں میں ایک ہے۔

9734

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9734

Sahih

۔ (۹۷۳۴)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ: انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اَحَدُھُمَا اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِیْثِ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۲۱۴۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، تو کون ہے، تیری ماں نہ رہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا تھا۔ پھر سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔

9735

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9735

Sahih

۔ (۹۷۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: افْتَخَرَ اَھْلُ الْاِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْفَخْرُ، وَالْخُیَلَائُ فِیْ اَھْلِ الْاِبِلِ، وَالسَّکِیْنَۃُ وَالْوَقَارُ فِیْ اَھْلِ الْغَنَمِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بُعِثَ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَھُوَ یَرْعٰی غَنَمًا عَلٰی اَھْلِہِ، وَبُعِثْتُ اَنَا وَاَنَا اَرْعٰی غَنَمًا لِاَھْلِیْ بِجِیَادٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اونٹوں اور بکریوں والے ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے مالکوں میں فخر اور تکبر ہے اور بکریوں کے مالکوں میں سکینت اور وقار ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا جبکہ وہ بکریاں چرانے والے تھے اور جب مجھے بعثت عطا کی گئی تو میں بھی مقامِ جیاد میں بکریاں چرانے والا تھا۔

9736

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9736

Sahih

۔ (۹۷۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((اُنْظُرْ فَاِنَّک لَیْسَ بِخَیْرٍ مِنْ اَحْمَرَ وَلَا اَسْوَدَ اِلَّا اَنْ تَفْضُلَہُ بِتَقْوٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غور کر، تو کسی سرخ یا سیاہ فام سے بہتر نہیں ہے، الا یہ کہ تو اس پر تقوی کی برتری رکھتا ہو۔

9737

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9737

Sahih

۔ (۹۷۳۷)۔ عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَۃَ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، اَنَّ رَجُلًا اِعْتَزٰی بِعَزَائِ الْجَاھِلیَّۃِ فَاَعَضَّہُ وَلَمْ یَکْـنِـہِ، فَنَظَرَ الْقُوْمُ اِلَیْہِ فَقَالَ لِلْقَوْمِ: اِنِّیْ قَدْ اَرٰی الَّذِیْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ، اِنِّیْ لَمْ اَسْتَطِعْ اِلَّا اَنْ اَقُوْلَ ھٰذَا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَنَا: ((اِذَا سَمِعْتُمْ مَنْ یَعْتَزِیْ بِعَزَائِ الْجَاھِلیَّۃِ، فَاَعِضُّوْہُ وَلَا تَکْنُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جاہلیت کی نسبت کے ساتھ منسوب ہوا، سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو کہا کہ وہ اپنے باپ کی شرمگاہ کو چبائے اور انھوں نے بات کنایۃً نہیں کی، لوگوں نے (اس گالی کی وجہ سے) تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھا، لیکن انھوں نے کہا: جو چیز تم اپنے نفس میں محسوس کر رہے ہو، میں اس کو جانتا ہوں، جبکہ میں صرف یہی کچھ کہنے کی طاقت رکھتا ہوں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب تم کسی شخص کو جاہلیت والی نسبتوں کی طرف منسوب ہوتے ہوئے دیکھو تو اشارہ کنایہ کیے بغیر اس کو کہو: تو اپنے باپ کی شرمگاہ چبائے۔

9738

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9738

Sahih

۔ (۹۷۳۸)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، اَنَّ رَجُلًا اعْتَزٰی فَاَعَضَّہُ اُبَیٌّ بِھَنِ اَبِیْہِ، فَقَالُوْا: مَاکُنْتَ فَحَّاشًا؟ قَالَ: اِنَّا اُمِرْنَا بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی (جاہلیت کی نسبت کے ساتھ) منسوب ہوا، انھوں نے اس کے باپ کی شرمگاہ کی گالی دے کر اس کی بات کو کاٹا، لوگوں نے کہا: اے ابی! تم تو بد گو نہیں تھے؟ انھوں نے کہا: بیشک ہمیں اس چیز کا حکم دیا گیا ہے۔

9739

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9739

Sahih

۔ (۹۷۳۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اَنْسَابَکُمْ ھٰذِہِ لَیْسَتْ بِسِبَابٍ عَلٰی اَحَدٍ، وَاِنّمَا اَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ، طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَأُوْہُ، لَیْسَ لِاَحَدٍ فَضْلٌ اِلَّا بِالدِّیْنِ، اَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ، حَسْبُ الرَّجُلِ اَنْ یَکُوْنَ فَاحِشًا بَذِیًّا بَخِیْلًا جَبَانًا۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے یہ نسب کسی کے لیے کوئی عار و شنار والے نہیں ہیں، کیونکہ تم سارے آدم کی اولاد ہو، اور بھرے ماپ سے کم ہو (یعنی کوئی بھی تم میں پورا اور کامل نہیں، ہر ایک میں کچھ نہ کچھ نقص ہے) اور کسی کو کسی پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر دین اور عملِ صالح کی بنا پر۔ آدمی کے (برا ہونے کے لیے) یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو ، بدکلام ، بد اخلاق، بخیل اور بزدل ہو۔

9740

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9740

Sahih

۔ (۹۷۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْـَد النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ، وَالْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعَلْقَمَۃُ بْنُ عُلَاثَۃَ، فَذَکَرُوْا الْجُدُوْدَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْ شِئْتُمْ اَخْبَرْتُکُمْ، جَدُّ بَنِیْ عَامِرٍ جَمَلٌ اَحْمَرُ، اَوْ آدَمُ یَاْکُلُ مِنْ اَطْرَافِ الشَّجَرِ، قَالَ: وَاَحْسِبُہُ قَالَ: فِیْ رَوْضَۃٍ، وَغَطَفَانُ اَکَمَۃٌ خَشَّائُ تَنْفِی النَّاسَ عَنْھَا۔)) قَالَ: فَقَالَ الْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: فَاَیْنَ جَدُّ بَنِیْ تَمِیْمٍ؟ قَالَ: ((لَوْ سَکَتَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جمع ہوئے اور آباء و اجداد کا تذکرہ کیا (کہ فلاں کا دادا قوی تھا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم کو بتلا دیتا ہوں، بنی عامر کا دادا تو سرخ یا گندمی رنگ کا اونٹ تھا، جو ایک باغیچے میں درخت کے پتے کھاتا تھا، غطفان کا دادا تو ایک خوفناک ٹیلہ تھا، جو لوگوں کو وہاں سے دھتکارتا تھا۔ اقرع بن حابس نے کہا: اور بنو تمیم کا دادا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ خاموش رہتا تو اچھی بات تھی۔