Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 158 · Chapter 1865

مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل

مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان

7 hadiths in this chapter

9366

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9366

Sahih

۔ (۹۳۶۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلَتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُوْعَکُ، فَسَمِعْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، اِنَّکَ لَتُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا؟ قَالَ: ((اَجَلْ اِنِّیْ اُوَعَکُ کَمَا یُوْعَکُ رَجْلَانِ مِنْکُمْ،۔)) قُلْتُ: اِنَّ لَکَ اَجْرَیْنِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِھِ، مَا عَلَی الْاَرْضِ مُسْلِمٌ یُصِیْبُہُ اَذًی، مِنْ مَرْضٍ فَمَا سِوَاہُ، اِلَّا حَطَّ اللّٰہُ عَنْہُ بِہٖخَطَایَاہُ، کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرُ وَرَقَھَا۔)) (مسند احمد: ۳۶۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بخار تھا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ کو بہت سخت بخار ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: جی، بیشک مجھے اتنا بخار ہوتا ہے، جتنا تم میں سے دو افراد کو ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کے لیے اجر بھی دو گنا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! روئے زمین پر رہنے والے جس مسلمان کو جو تکلیف لاحق ہوتی ہے، وہ بیماری ہو یا کوئی اور تکلیف، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو یوں مٹاتا ہے، جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے۔

9367

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9367

Sahih

۔ (۹۳۶۷)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ جَدِّہِ اَسَدِ بْنِ کُرْزٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْمَرِیْضُ تَحَاتُّ خَطَایَاہُ کَمَا یَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا اسد بن کرز ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مریض کی خطائیں اس طرح گرتی ہیں، جیسے درخت کے پتے گرتے ہیں۔

9368

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9368

Sahih

۔ (۹۳۶۸)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ شَیْئٍ یُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ فِیْ جَسَدِہِ یُؤْذِیْہِ اِلاَّ کَفَّرَ اللّٰہُ بِہٖمِنْسَیِّاٰتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چیز مؤمن کے جسم کو تکلیف پہنچاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔

9369

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9369

Sahih

۔ (۹۳۶۹)۔ عَنْ اَبِی الْاَشْعَثِ الصَّنْعَانِیْ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّہُ رَاحَ اِلٰی مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَھَجَّرَ بِالرَّوَاحِ، فَلَقِیَ شَدَّادَ بْنَ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَالصُّنَابِحِیُّ مَعَہُ، فَقُلْتُ: اَیْنَ تُرِیْدَانِیَرْحَمُکُمَااللّٰہُ؟ قَالا: نُرِیْدُ ھَاھُنَا اِلٰی اَخٍ لَّنَا مَرِیْضٍ نَعُوْدُہُ، فَانْطَلَقْتُ مَعَھُمَا حَتّٰی دَخَلا عَلٰی ذٰلِکَ الرَّجُلِ فَقَالا لَہُ: کَیْفَ اَصْبَحْتَ؟ قَالَ: اَصْبَحْتُ بِنِعْمَۃٍ، فَقَالَ لَہُ شَدَّادُ: اَبْشِرْ بِکَفَّارَاتِ السَّیِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَایَا، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: اِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِیْ مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِیْ عَلٰی مَا ابْتَلَیْتُہُ فَاِنَّہُ یَقُوْمُ مِنْ مَّضْجَعِہِ ذٰلِکَ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ مِنَ الْخَطَایَا وَیَقُوْلُ الرَّبُّ عَزَّوَجَلَّ: اَنَا قَیَّدْتُّ عَبْدِیْ وَابْتَلَیْتُہُ وَاَجْرُوْا لَہُ کَمَا کُنْتُمْ تُجْرُوْنَ لَہُ وَھُوَ صَحِیْحٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو اشعث صنعانی کہتے ہیں: میں پہلے وقت میں یا دوپہر کے وقت مسجدِ دمشق کی طرف جا رہا تھا، سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، جبکہ سیدنا صنابحی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے ساتھ تھے، میں نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہم اِدھر ایک بیماربھائی کی تیمار داری کرنے کے لیے جا رہے ہیں، پس میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ وہ اس بھائی کے پاس پہنچ گئے اور کہا: آپ نے کیسے صبح کی ہے؟ اس نے کہا: جی نعمت کے ساتھ صبح کی ہے، پھر سیدنا شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: برائیوں کے معاف ہونے اور گناہوں کے مٹ جانے کے ساتھ خوش ہو جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں اپنے کسی مؤمن بندے کو آزماتا ہوں اور وہ میری اس آزمائش پر تعریف کرتا ہے تو وہ اس دن کی طرح خطاؤں سے پاک ہو کر اپنے بستر سے کھڑا ہوتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا، پھر اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہیں: میں نے اپنے بندے کو مقید کر دیا ہے اور اس کو آزمایا ہے، لہٰذا فرشتو! تم اس کے وہ سارے اعمال لکھتے رہو، جو تم اس وقت لکھتے تھے، جب وہ صحت مند تھا۔

9370

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9370

Sahih

۔ (۹۳۷۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: مَارَاَیْتُ الْوَجْعَ عَلٰی اَحَدٍ اَشَّدَ مِنْہُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ہی سب سے سخت تکلیف کو دیکھا ہے ۔

9371

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9371

Sahih

۔ (۹۳۷۱)۔ عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ خَاِلدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، وَکَانَ لِجَدِّہِ صُحْبَۃٌ، اِنَّہُ خَرَجَ زَائِرًا لِرَجُلٍ مِّنْ اِخْوَانِہِ، فَبَلَغَہُ بِشَکَائِہِ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَیْہِ فَقَالَ: اَتَیْتُکَ زَائِرًا، عَائِدًا، وَمُبَشِّرًا، قَالَ: کَیْفَ جَمَعْتَ ھٰذَا کُلَّہُ؟ قَالَ: خَرَجْتُ وَاَنَا اُرِیْدُ زِیَارَتَکَ، فَبَلَغَنِیْ شَکَاتُکَ، فَکَانَتْ عِیَاَدَۃً، وَاُبَشِّرُکَ بِشَیْئٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا سَبَقَتْ لِلْعَبْدِ مِنَ اللّٰہِ مَنْزِلَۃٌ لَمْ یَبْلُغْھَابِعَمَلِہِ اِبْتَلاہُ اللّٰہُ فِیْ جَسَدِہِ، اَوْ فِیْ مَالِہِ، اَوْ فِیْ وَلَدِہِ ثُمَّ صَبَّرَہُ،حَتّٰییُبْلِغَہُ الْمَنْزِلَۃَ الَّتِیْ سَبَقَتْ لَہْ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ محمد بن خالد اپنے دادا، جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: وہ اپنے ایک بھائی کی زیارت کے لیے نکلے، پھر ان کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ وہ بیمار بھی ہے، پس وہ اس کے پاس گے اور کہا: میں تمہاری زیارت کرنے، تیمار داری کرنے اور تمہیں خوشخبری سنانے کے لیے آیا ہوں، انھوں نے کہا: یہ ساری چیزیں کیسے جمع کر دیں؟ میں نے کہا: میں تمہاری زیارت کے لیے نکلا تھا، پھر مجھے تمہاری بیماری کی خبر بھی مل گئی، اس طرح یہ آنا تیمار داری کا سبب بھی بن گیا اور میں تمہیں اس حدیث کے ذریعے خوشخبری سناتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی منزلت اور درجے کا فیصلہ ہو جاتا ہے، جس تک بندہ اپنے عمل کی بنا پر نہیں پہنچ سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے جسم یا مال یا اولاد کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کو صبر کی توفیق بھی دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے، جس کا اس کے ہاں فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے۔

9372

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9372

Sahih

۔ (۹۳۷۲)۔ حَدَّثَنَا یَحْيٰ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اِسْحٰقَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ زَیْنَبُ ابْنَۃُ کَعْبِ بْنِ عُجَرَۃَ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَرَاَیْتَ ھٰذِہِ الْاَمْرَاضَ الَّتِیْ تُصِیْبُنَا مَالَنَا بِھَا؟ قَالَ: ((کَفَّارَاتٌ۔)) قَالَ اَبِیْ: وَاِنْ قَلَّتْ؟ قَالَ: ((وَاِنْ شَوْکَۃً فَمَا فَوْقَھَا۔)) قَالَ: فَدَعَا اَبِیْ عَلٰی نَفْسِہِ اَنْ لَّا یُفَارِقَہُ الْوَعْکُ حَتّٰییَمُوْتَ فِیْ اَنْ لَّا یَشْغَلَہُ عَنْ حَجٍّ، وَلَا عُمْرَۃٍ، وَلا جِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّّٰہِ، وَلَا صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَمَا مَسَّہُ اِنْسَانٌ اِلَّا وَجَدَ حَرَّہُ حَتّٰی مَاتَ۔(مسند احمد: ۱۱۲۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: جو بیماریاں ہمیں لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ گناہوں کا کفارہ بننے والی ہیں۔ میرے باپ نے کہا:اگرچہ وہ بیماری معمولی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: اگرچہ وہ کانٹا ہو یا اس سے بڑی کوئی چیز۔ یہ سن کر میرے باپ نے اپنے حق میں یہ بد دعا کر دی کہ اس کی موت تک بخار اس سے جدا نہ ہو، لیکن وہ بخار اس کو حج، عمرے، جہاد فی سبیل اللہ اور باجماعت فرضی نماز سے مشغول نہ کر دے، پس اس کے بعد جس انسان نے میرے باپ کو چھوا، بخار کی حرارت پائی،یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔