Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 158 · Chapter 1866

مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل

بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان

5 hadiths in this chapter

9373

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9373

Zaeef

۔ (۹۳۷۳)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَتٰی عَھْدُکَ بِاُمِّ مِلْدَمٍ وَھُوَ حَرٌّ بَیْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ؟ قَالَ: اِنَّ ذٰلِکَ لَوَجَعٌ مَااَصَابَنِیْ قَطُّ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَۃِ تَحْمَرُّ مَرَّۃً، وَتَصْفَرُّ اُخْرٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے بخار ہوئے کتنا عرصہ ہو چکا ہے؟ یہ جلد اور گوشت کے درمیان حرارت کی زیادتی ہوتی ہے، اس نے کہا: یہ ایسی تکلیف ہے کہ میں کبھی بھی اس میں مبتلا نہیں ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس نرم و نازک، تروتازہ کھیتی کی مانند ہے جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔

9374

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9374

Zaeef

۔ (۹۳۷۴)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ، اَنَّہُ اَتَاہُ عَائِدًا، فَقَالَ اَبُوْالدَّرْدَائِ لِاَبِیْ بَعْدَ اَنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ بِالصِّحَۃِ لا بِالْوَجْعِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ یَقُوْلُ ذٰلِکَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَایَزَالُ الْمَرْئُ الْمُسْلِمُ بِہٖالْمَلِیْلَۃُ وَالصُّدَاعُ، وَاِنَّ عَلَیْہِ مِنَ الْخَطَایَا لَاَعْظَمَ مِنْ اُحُدٍ حَتّٰییَتْرُکَہُ وَمَا عَلَیْہِ مِنَ الْخَطَایَا مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ معاذ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے آئے اور جب انھوں نے ان کو سلام کہا تو انھوں نے کہا: صحت کے ساتھ رہو، نہ کہ بیماری کے ساتھ، تین بار یہ دعا کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: مسلمان بخار اور سردردی جیسے بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے، جبکہ اس پر احد پہاڑ سے بڑے بڑے گناہ ہوتے ہیں، لیکن ان بیماریوں کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں کہ اس پر رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتا۔

9375

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9375

Sahih

۔ (۹۳۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحُمّٰی مِنْ کَیْرِ جَھَنَّمَ، فَمَا اَصَابَ الْمُؤُمِنَ مِنْھَا کَانَ حَظَّہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی دھونکنی ہے،جو مؤمن بھی بیمار ہو گا، یہ اس کے حق میں جہنم والے حصے کے عوض میں ہو گا۔

9376

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9376

Sahih

۔ (۹۳۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ الْاَشْعَرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ عَادَ مَرِیْضًا وَمَعَہُ اَبُوْھُرَیْرَۃَ، مِنْ وَعْکٍ (اَیْ حُمّٰی) کَانَ بِہٖ،فَقَالَلَہُرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَبْشِرْ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: نَارِیْ اُسَلِّطُھَا عَلٰی عَبْدِیْ الْمُؤْمِنِ فِیْ الدُّنْیَا، لِتَکُوْنَ حَظَّہُ مِنَ النَّارِ فِی الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مریض، جسے بخار تھا، کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (یہ بخار)میری آگ ہے، جسے میں اپنے بندۂ مؤمن پر دنیا میں مسلط کر دیتا ہوں تاکہ اس کی آخرت والی آگ کے عذاب کا بدل بن جائے۔

9377

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9377

Zaeef

۔ (۹۳۷۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اسْتَاْذَنَتِ الْحُمّٰی عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذِہِ؟)) فَقَالَتْ: اُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ: فَاَمَرَ بِھَا اِلٰی اَھْلِ قُبَائَ فَلَقُوْا مِنْھَا مَایَعْلَمُ اللّٰہُ، فَاَتَوْہُ فَشَکَوْا ذٰلِکَ اِلِیْہِ، فَقَالَ: ((مَاشِئْتُمْ؟ اِنْ شِئْتُمْ اَنْ اَدْعُوَ اللّٰہَ لَکُمْ فَیَکْشِفَھَا عَنْکُمْ، وَاِنْ شِئْتُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَکُمْ طَھُوْرًا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَ تَفْعَلُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالُوْا: فَدَعْھَا۔(مسند احمد: ۱۴۴۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بخارنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: ام ملدم ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اہل قبا کی طرف منتقل ہو جائے، پس وہ اتنی کثرت سے اس میں مبتلا ہو ئے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس مقدار کو بہتر جانتا ہے، وہ لوگ تو اس کی شکایت لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تاکہ وہ اس کو تم سے ہٹا دے تو ٹھیک ہے اور اگر تم چاہتے ہو کہیہ تمہارے حق میں پاک کرنے والا ٹھہرے (تو پھر اس کو اپنے پاس برقرار رہنے دو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ گناہوں سے پاک کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر اس کو رہنے دو۔