Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 158 · Chapter 1864

مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل

ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان

8 hadiths in this chapter

9358

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9358

Sahih

۔ (۹۳۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، وَاَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلا نَصَبٍ، وَلا ھَمٍّ وَلا حُزْنٍ، وَلا اَذَیً ولا غَمٍّ، حَتّٰی الشَوْکَۃِیُشَاکُھَا، اِلاَّ کَفَّرَ اللّٰہُ مِنْ خَطَایَاہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن جس درد و تکلیف، تعب و تکان، رنج و غم اور ملال و نقصان میں مبتلا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا ، جو اس کو چبھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ اس کی خطائیں معاف کرتا ہے۔

9359

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9359

Sahih

۔ (۹۳۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یُشَاکُ بِشَوْکَۃٍ فِیْ الدُّنْیَایَحْتَسِبُھَا اِلاَّ قُصِّرَ بِھَا مِنْ خَطَایَاہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مؤمن کو دنیا میں کوئی کانٹا چبھتا ہے اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس وجہ سے قیامت کے دن اس کی خطائیں کم کی جائیں گی۔

9360

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9360

Sahih

۔ (۹۳۶۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعَیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ لا یُصِیْبُہُ وَصَبٌ، وَلا نَصَبٌ، وَلا حُزْنٌ، وَلا سَقَمٌ، ولا اَذًی، حَتَّی الْھَمُّ یُھِمُّہُ، اِلاَّ یُکَفِّرُ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ سَیِّاٰتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن کو تکان، تھکاوٹ، غم، بیماری، تکلیف یا پریشان کر دینے والا کوئی غم لاحق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان آزمائشوں کو اس کی برائیوں کا کفارہ بناتا ہے۔

9361

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9361

Sahih

۔ (۹۳۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا اَحَدَ اَصْبَرُ عَلٰی اَذًییَسْمَعُہُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، اِنَّہُ یُشْرِکُ بِہٖوَیَجْعَلُ لَہُ الْوَلَدَ، وَھُوَ یُعَافِیْھِمْ وَیَدْفَعُ عَنْھُمْ وَیَرْزُقُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی نہیں ہے، جو سنی ہوئی تکلیف پر اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت زیادہ صبر کرنے والا ہو، بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اور اس کے لیے اولاد کر دعویٰ کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی ان کو عافیت دیتا ہے، ان کا دفاع کرتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے۔

9362

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9362

Sahih

۔ (۹۳۶۲)۔ عَنْ خَبَّابٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَۃً لَّہُ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، اُدْعُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَنَا وَاسْتَنْصِرْہُ، قَالَ: فَاحْمَّرَ لَوْنُہُ، اَوْ تَغَیَّرَ فَقَالَ: ((لَقَدْ کَانَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ حُفْرَۃٌ وَیُجَائَ بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَاْسِہِ فَیُشَقُّ مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَیُمْشَطُ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ عَظْمٍ مِنْ لَّحْمٍ، اَوْ عَصْبٍ، مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَلَیُتِمَّنَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ اللّٰہُ وَتَعَالٰی ھٰذَا الْاَمْرَ حَتّٰییَسِیْرَ الرَّاکِبُ مَا بَیْنَ صَنْعَائَ اِلٰی حَضْرَمَوْتَ لا یَخْشٰی اِلاَّ اللّٰہَ تَعَالٰی وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ، وَلٰکِنَّکُمْ تَعْجَلُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ سرخ ہو گیایا تبدیل ہو گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کے لیے گڑھا کھودا گیا، پھر آری لائی گئی اور ان کے سروں پر رکھ کر ان کو چیر دیا گیا، لیکن یہ تکلیف بھی ان کو دین سے باز نہ رکھ سکی اور لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں اور پٹھوں سے گوشت نوچ لیا گیا، لیکن یہ چیز بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، اور ضرور ضرور اللہ تعالیٰ اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے یمن تک سفر کرے گا، لیکن اس کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو گا، یا اپنی بکریوں پر بھیڑئیے کا ڈر ہو گا، لیکن تم جلد بازی کر رہے ہو۔

9363

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9363

Sahih

۔ (۹۳۶۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، کَانَتْ تَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُصِیْبَۃٍیُّصَابُ بِھَا الْمُسْلِمُ اِلَّا کُفِّرَ بِھَا عَنْہُ، حَتَّی الشَّوْکَۃِیُشَاکُھَا۔))(مسند احمد: ۲۵۳۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کو جو مصیبت بھی لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بناتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا جو اس کو چبھتا ہے۔

9364

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9364

Sahih

۔ (۹۳۶۴)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُشَاکُ بِشَوْکَۃٍ فَمَا فَوْقَھُا، اِلَّا حَطَّتْ مِنْ خَطِیْئَتِہِ۔))(مسند احمد: ۲۴۶۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی مسلمان جس کو کانٹا چبھے یا اس سے بڑی تکلیف پہنچے، مگر اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

9365

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9365

Sahih

۔ (۹۳۶۵)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ مِثْلُہُ وَفِیْہِ ((اِلَّا کُتِبَ لَہُ بِھَا دَرَجَۃٌ، وَکُفِّرَ عَنْہُ بِھَا خَطِیْئَۃٌ۔))(مسند احمد: ۲۴۶۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: مگر اس کے لیے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔