Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 158 · Chapter 1863

مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل

اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار

14 hadiths in this chapter

9344

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9344

Sahih

۔ (۹۳۴۴)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ النَّاسِ اَشَدُّ بَـلَائً؟ قَالَ: ((اَلاَنْبِیَائُ، ثُمَّ الصَّالِحُوْنَ، ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ، یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی حَسْبِ دِیْنِہِ، فَاِنْ کَانِ فِیْ دِیْنِہِ صَلَابَۃٌ زِیْدَ فِیْ بَلائِہِ، وَاِنْ فِیْ دِیْنِہِ رِقَّۃٌ خُفِّفَ عَنْہُ، وَمَا یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْعَبْدِ حَتّٰییَمْشِیْ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ لَیْسَ عَلَیْہِ خَطِیْئَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگوں کی آزمائش سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام اور پھر دوسرے نیکوکار، اور پھر وہ جو دوسروں سے افضل اور بہتر ہو، دراصل آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس اگر اس کے دین میں سختی اور پابندی ہو گی تو اس کی آزمائش بھی سخت ہو جائے گی اور اگر اس کے دین میں نرمی اور سستی ہو گی تو اس کی آزمائش میں بھی ہلکا پن آجائے گا اور ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک بندہ آزمائشوں میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ روئے زمین پر چل رہا ہوتا ہے اور اس کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔

9345

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9345

Sahih

۔ (۹۳۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَزَالُ الْبَلَائُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَۃِ، فِیْ جَسَدِہِِ، وَفِیْ مَالِہِ، وَفِیْ وَالِدِہِ، حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ وَمَاعَلَیْہِ خَطِیْئَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۷۸۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن مرد و زن کے جسم، مال اور والدین میں آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے تو اس کا کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔

9346

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9346

Sahih

۔ (۹۳۴۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ، لَا تَزَالُ الرِّیْحُ تَمِیْلُہُ، وَلایَزَالُ الْمُؤْمِنُ یُصِیْبُہُ الْبَلائُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ کَشَجَرَۃِ الْاَرْزِ، لاتَھْتَزُّ حَتّٰی تُحْصَدَ۔)) (مسند احمد: ۷۱۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس کھیتی کی طرح ہے، جس کو ہوا کبھی اِدھر جھکاتی ہے اور کبھی اُدھر، یہ حدیث سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے۔

9347

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9347

Sahih

۔ (۹۳۴۷)۔ ( وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤُمِنِ مَثَلُ خَامَۃِ الزَّرْعِ مِنْ حَیْثُ انْتَھَی الرِّیْحُ کَفَتْھَا، فَاِذَا سَکَنَتِ اعْتَدَلَتْ وَکَذٰلِکَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ یَتَکَفَّاُ بِالْبَلائِ، وَمَثَلُ الْکِافِرِ کَمَثَلِ الْاَرْزَۃِ، صَمَّائُ مُعْتَدِلَۃٌیَقْصِمُھَا اللّٰہُ اِذَا شَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ابتدائی نرم کھیتی کی مانند ہے، جب اس تک ہوا پہنچتی ہے تو وہ جھک جاتی ہے اور جب ہوا تھم جاتی ہے تو وہ سیدھی ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح مؤمن کی مثال ہے، جو آزمائشوں کی وجہ سے ہچکولے کھاتا رہتا ہے، اور منافق کی مثال صنوبر کے اس درخت کی طرح ہے، جو ٹھوس اور سخت ہونے کی وجہ سے ایک حالت پر برقرار رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دیتا ہے۔

9348

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9348

Sahih

۔ (۹۳۴۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖخَیْرًایُصِیْبُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو آزمائشوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔

9349

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9349

Zaeef

۔ (۹۳۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: وَضَعَ رَجُلٌ یَدَہُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اُطِیْقُ اَنْ اَضَعَ یَدِیْ عَلَیْکَ مِنْ شِدَّۃِ حُمَّاکَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّا مَعْشَرُ الْاَنْبِیَائِیُضَاعَفُ لَنَا الْبَلائُ کُمَایُضَاعَفُ لَنَا الْاَجْرُ، اِنْ کَانَ النَّبِیُ مِنَ الاَنْبِیَائِیُبْتَلٰی بِالْقُمَّلِ حَتّٰییَقْتُلَہُ، وَاِنْ کَانَ النَّبِیُّ مِنَ الْاَنْبِیَائِ لَیُبْتَلٰی بِالْفَقْرِ حَتّٰییَاْخُذَ الْعَبَائَ ۃَ فَیَجَوْبَھَا، وَاِنْ کَانُوْا لَیَفْرَحُوْنَ بِالْبَلاَئِ کَمَا تَفْرَحُوْنَ بِالرَّخَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنا ہاتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر رکھا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ کا بخار اس قدر تیز ہے کہ میں آپ پر ہاتھ رکھنے کی طاقت نہیں پاتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء کی جماعت ہیں، جیسے ہمارے لیے اجر و ثواب کو بڑھا دیا جاتا ہے، اس طرح ہمارے لیے آزمائشوں کو سخت کر دیتا ہے، انبیاء میں ایک ایسا نبی بھی تھا کہ اس کو جوؤں سے اس طرح آزمایا گیا کہ قریب تھا کہ وہ اس کو قتل کر دیں، ایسے نبی بھی تھے کہ جن کو فقر و فاقہ کے ذریعے اس طرح آزمایا گیا کہ وہ چوغہ لے کر اس کو کاٹتے تھے، اور وہ انبیاء آزمائشوں کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتے تھے، جیسے تم خوشحالی کی وجہ سے خوش ہوتے ہو۔

9350

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9350

Sahih

۔ (۹۳۵۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ اُوْذِیْتُ فِی اللّٰہِ تَعَالٰی وَمَایُؤْذٰی اَحَدٌ، وَاُخِفْتُ فِی اللّٰہِ وَمَا یُخَافُ اَحَدٌ، وَلَقَدْ اَتَتْ عَلَیَّ ثَلَاثَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثَلَاثُوْنَ) مِنْ بَیْنِیَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ وَمَالِیْ وَلِعَیَالِیْ طَعَامٌ یَّاْکُلُہُ ذُوْ کَبِدٍ اِلاَّ مَایُوَارِیْ اِبِطُ بِلَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ کی وجہ سے تکلیف دی گئی اور اتنی تکلیف کسی کو نہیں دی گئی اور مجھے اللہ تعالیٰ کے بہ سبب ڈرایا گیا اور اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسے تین دن بھی آئے کہ پورا دن اور رات گزر جاتے تھے، جبکہ میرے اور میرے اہل و عیال کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی تھی، جس کو جاندار کھا سکے، ما سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپا کر لاتے تھے۔

9351

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9351

Sahih

۔ (۹۳۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ حُذَیْفَۃَ، عَنْ عَمَّتِہِ فَاطِمَۃَ، اَنَّھَا قَالَتْ: اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ نَعُوْدُہُ فِیْ نِسَائٍ، فَاِذَا سِقَائٌ مَعَلَّقٌ نَحْوَہُ یَقْطُرُ ماَؤُہُ عَلَیْہِ مِنْ شِدَّۃِ مَا یَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمّٰی، قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، لَوْ دَعَوْتَ اللّٰہَ فَشَفَاکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَشَدِّ النَّاسِ بَلائً الْاَنْبِیَائُ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عبیدہ اپنی پھوپھی سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں میں تشریف رکھتے تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا اور اس کا پانی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ٹپک رہا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بخار کی گرمی کی شدت محسوس ہو رہی تھی، بہرحال ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور وہ آپ کو شفا دے دیتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش والے انبیاء ہوتے ہیں، پھر وہ لوگ جو (نیکی اور تقوی میں) ان سے کم ہوتے ہیں، اور پھر وہ لوگ جو اُن سے کم ہوتے ہیں۔

9352

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9352

Sahih

۔ (۹۳۵۲)۔ عَنْ صُھَیْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَجِبْتُ مِنْ اَمْرِ الْمُؤُمِنِ، اِنَّ اَمْرَ الْمُؤْمِنِ کُلَّہُ لَہُ خَیْرٌ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّائُ فَشَکَرَ کَانَ ذٰلِکَ لَہُ خَیْرًا، وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّائُ فَصَبَرَ کَانَ ذٰلِکَ لَہُ خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے مؤمن کے معاملے پر تعجب ہے، بیشک اس کا سارے کا سارا معاملہ خیر پر مشتمل ہے اور یہ چیز صرف اور صرف مؤمن کو حاصل ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اس کو خوشی ملتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو اس میں بھی اس کی بہتری ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے۔

9353

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9353

Sahih

۔ (۹۳۵۳)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ بْنِ اَبِیْ وَقَاصٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَجِبْتُ مِنْ قَضَائِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِ، اِنْ اَصَابَہُ خَیْرٌ حَمِدَ رَبَّہُ وَشَکَرَ، وَاِنْ اَصَابَتْہٗمُصِیْبَۃٌ حَمِدَ رَبَّہٗ،وَصَبَرَ، الْمُؤْمِنُ یُؤْجَرُ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ حَتّٰی الْلُقْمَۃِیَرْفَعُھَا اِلٰی فِیْ اِمْرَاَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مؤمن کے لیے ایک فیصلہ کیا ہے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہے، اگر اس کو کوئی خیر پہنچتی ہے تو وہ اپنے ربّ کی تعریف کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ اپنے ربّ کی تعریف کرتا ہے اور صبر کرتا ہے، مؤمن کو ہر چیز میں اجر ملتا ہے، یہاں تک کہ اس لقمے میں بھی، جو وہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔

9354

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9354

Sahih

۔ (۹۳۵۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شَیْبَۃَ، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَرَقَہُ وَجَعٌ، فَجَعَلَ یَشْتَکِیْ یَتَقَلَّبُ عَلٰی فِرَاشِہِ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَوْصَنَعَ ھٰذَا بَعْضُنَا لَوَجَدَتَّ عَلَیْہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الصَّالِحِیْنَ یُشَدَّدُ عَلَیْھِمْ، وَاِنَّہُ لا یُصِیْبُ مُؤْمِنًا نَکْبَۃٌ مِنْ شَوْکَۃٍ فَمَا فَوْقَ ذٰلِکَ اِلاَّ حُطَّتْ عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ وَرُفِعَ بِھَا دَرَجَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تکلیف ہونے لگی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شکایت کرنے لگے اور اپنے بستر پر الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، میں (عائشہ رضی ‌اللہ ‌عنہا ) نے کہا: اگر ہم میں سے کوئی فرد اس طرح کرتا تو آپ نے اس کی بات تو محسوس کرنی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک نیکوکاروں پر تکلیف سخت ہوتی ہے، اور صورتحال یہ ہے کہ مؤمن کو جو تکلیف بھی لاحق ہوتی ہے، وہ کانٹا ہو یا اس سے کوئی بڑی چیز، اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔

9355

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9355

Sahih

۔ (۹۳۵۵)۔ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِذَا اَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَلَاھُمْ، فَمَنْ صَبَرَ فَلَہُ الصَّبْرُ، وَمَنْ جَزِعَ فَلَہُ الْجَزْعُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو آزماتا ہے، پس جو صبر کرنا چاہے گا تو اس کے لیے صبر ہو گا اور جو بے صبرا بنے گا، اس کے لیے بے صبری ہے۔

9356

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9356

Sahih

۔ (۹۳۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ، اَنَّ رَجُلا لَقِیَ امْرَاَۃً کَانَتْ بَغِیًّا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَجَعَلَ یُلاعِبُھَا، حَتّٰی بَسَطَ یَدَہُ اِلَیْھَا، فَقَالَتِ الْمَرْاَۃُ: مَہْ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ ذَھَبَ بِالشِّرْکِ، (وَقَالَ: عَفَّانُ مَرَّۃً) ذَھَبَ بِالْجَاھِلِیَّۃِ وَجَائَ نَا بِالْاِسْلَامِ، فَوَلَّی الرَّجُلُ، فَاَصَابَ وَجْھَہُ الْحَائِطُ فَشَجَّہُ، ثُمَّ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَہُ، فَقَالَ: ((اَنْتَ عَبْدٌ اَرَادَ اللّٰہُ لَکَ خَیْرًا، اِذَا اَرَادََ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِعَبْدٍ خَیْرًا عَجِلَ لَہُ عُقُوْبَۃَ ذَنْبِہٖ،وَاِذَااَرَادَبِعَبِدٍشَرًّااَمْسَکَعَلَیْہِ بِذَنْبِہٖحَتّٰییُوَفَّی بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّہُ عَیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، ایک ایسی خاتون کو ملا، جو جاہلیت میں زانیہ رہ چکی تھی، وہ اس سے اٹھ کھیلیاں کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ اس کو لگا دیا، اس پر اس عورت نے کہا: رک جا، بیشک اللہ تعالیٰ شرک اور جاہلیت کو لے گیا ہے اور ہمارے پاس اسلام کو لے آیا ہے، پس وہ آدمی چلا گیا اور واپسی پر اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور زخمی ہو گیا، پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا واقعہ بتلا دیا، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کے گناہ کی سزا دینے میں جلدی کرتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ شرّ کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے اس کے گناہ کی سزا روک لیتا ہے، یہاں تک کہ روزِ قیامت اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، گویا کہ وہ عِیر پہاڑ ہو گا۔

9357

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9357

Zaeef

۔ (۹۳۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَثَرَتْ ذُنُوْبُ الْعَبْدِ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ مَا یُکَفِّرُھَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِیُکَفِّرَھَا عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ اس کے پاس اس قدر اعمال نہیں ہوتے کہ جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو غموں کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ ان کے ذریعے اس کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے۔