Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 157 · Chapter 1862

فقر اور غِنٰی کے مسائل

نیک آدمی کے لیے مناسب غِنٰی کی ترغیب کا بیان

13 hadiths in this chapter

9331

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9331

Sahih

۔ (۹۳۳۱)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ خُبَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ عَمِّہِ، قَالَ: کُنَّا فِیْ مَجْلِسٍ، فَطَلَعَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلیٰ رَاْسِہِ اَثَرُ مَائٍ، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، نَرَاکَ طَیِّبَ النَّفْسِ، قَالَ: ((اَجَلْ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِیْ ذِکْرِ الْغِنیٰ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا بَاْسَ بِالْغِنیٰ لِمَنِ اتَّقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، وَالصِّحَۃُ لِمَنِ اتَّقَی اللّٰہَ خَیْرٌ مِنَ الْغِنٰی، وَطَیِّبُ النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن خبیب کے چچے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر پانی کا اثر تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ طیب النفس اور خوش گوار نظر آ رہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: جی ہاں۔ پھر لوگ غِنٰی کی باتوںمیں مصروف ہو گئے، جن کو سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، البتہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کے لیے غِنٰی کی بہ نسبت صحت بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی نعمتوں میں سے ہے۔

9332

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9332

Sahih

۔ (۹۳۳۲)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: بَعَثَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذْ عَلَیْکَ ثِیَابَکَ وَسِلاحَکَ ثُمَّ ائْتِنِیْ۔)) فَاَتَیْتُہُ وَھُوَ یَتَوَضَّاُ، فَصَعَّدَ فِیَّ النَّظْرَ ثُمَّ طَأْطَأَ فَقَالَ: ((اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اَبْعَثَکَ عَلٰی جَیْشٍ فَیُسَلِّمَکَ اللّٰہُ وَیُغْنِمَکَ وَاَرْغَبُ لَکَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَۃً صَالِحَۃً۔)) قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَااَسْلَمْتُ مِنْ اَجْلِ الْمَالِ، وَلٰکِنِّیْ اَسْلَمْتُ رَغْبَۃً فِیْ الْاِسْلاَمِ وَاَنْ اَکُوْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((یَاعَمْرُو! نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْئِ الْصَالِحِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے پہن کر اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف اپنی نگاہ کو بلند کیا اور پھر جھکایا اور فرمایا: میں تجھے فلاں لشکر پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ تجھے سالم رکھے گااور غنیمت بھی عطا کرے گا اور میں تیرے لیے اچھے خاصے مال کی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مال کی وجہ سے تو مسلمان نہیں ہوا، میں نے اسلام کی رغبت اور آپ کی صحبت میں رہنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمرو! نیک آدمی کے لیے مناسب مال بہترین چیز ہے۔

9333

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9333

Sahih

۔ (۹۳۳۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لاَحَسَدَ اِلاَّ فِیْ اثْنَیْنِ: رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالاً فَسَلَّطَہُ عَلٰی ھَلَکَتِہِ فِی الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ حِکْمَۃً، فَھُوَ یَقْضِیْ بِھَا، وَیُعَلِّمُھَا النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۴۱۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی رشک نہیں ہے، مگر دو آدمیوں پر، ایک وہ آدمی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور پھر اس کو حق میں خرچ کرنے کی بھرپور توفیق دی ہو، اور دوسرا وہ آدمی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت اور دانائی سے نوازا ہو تو وہ اور اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو۔

9334

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9334

Sahih

۔ (۹۳۳۴)۔ عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُوْا، وَاشْرَبُوْا، وَتَصَدَّقُوْا، وَالْبَسُوْا غَیْرَ مَخِیْلَۃٍ وَلاسَرَفٍ۔)) وَقَالَ یَزِیْدُ مَرَّۃً: ((فِیْ غَیْرِ اِسْرَافٍ وَلامَخِیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۶۶۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھاؤ، پیو، صدقہ کرو اور پہنو، بس تکبر اور اسراف نہیں ہونا چاہیے۔

9335

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9335

Sahih

۔ (۹۳۳۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِہِ وَلاسَرَفٍ ((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ اَنْ تُرٰی نِعْمَتُہُ عَلٰی عَبْدِہِ۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ آخر میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے پر اس کی نعمت کا اثر نظرآئے۔

9336

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9336

Sahih

۔ (۹۳۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ الْاَحْوَصِ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیَّ شَمْلَۃٌ، اَوْ شَمْلَتَانِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَرَآنِیْ رَثَّ الْھَیْئَۃِ) فَقَالَ لِیْ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ مَالٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ قَدْ آتَانِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْ کُلِّ مَالِہِ مِنْ خَیْلِہِ وَاِبِلِہِ وَغَنَمِہِ وَرَقِیْقِہِ، فَقاَلَ: ((فَاِذَا اٰتَاکَ اللّٰہُ مَالاً فَلْیَرَعَلَیْکَ نِعْمَتَہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلْیَرَ اَثْرَ نَعْمَتِہِ اللّٰہُ عَلَیْکَ) فَرُحْتُ اِلَیْہِ فِیْ حُلَّۃٍ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَغَدَوْتُ اِلَیْہِ فِیْ حُلَّۃٍ حَمْرَائَ)۔ (مسند احمد: ۱۵۹۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو الاحوص کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور میں نے ایکیا دو چادریں زیب ِ تن کی ہوئی تھیں، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے پراگندہ حالت دیکھا اور پھر پوچھا: کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ نے مجھے گھوڑے، اونٹ، بھیڑ بکریاں اور غلام، ہر قسم کا مال دے رکھا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے مال عطا کیا ہوا ہے تو پھر اس کو تجھ پر اس کی نعمت کا کوئی اثر بھی نظر آنا چاہیے۔ پھر جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی۔

9337

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9337

Sahih

۔ (۹۳۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔اَنَّ اَبَاہُ اَتَی النَّبِیَّ وَھُوَ اَشَعَثُ سَیِّیئُ الْھَیِئَۃِ، فَقَالَ لَہُ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا لَکَ مَالٌ؟)) قَالَ: مِنْ کُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: ((فَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِذَا اَنَعَمَ عَلٰی عَبْدِ نَعْمَۃً اَحَبَّ اَنْ تُرٰی عَلَیْہَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) جب ابو الاحوص کا باپ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو وہ پراگندہ اور ردّی حالت میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس مال نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطا کیا ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس بیشک جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت کرتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس پر اس نعمت کا اثر نظر آئے۔

9338

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9338

Sahih

۔ (۹۳۳۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلُاَیْدِیْ ثَلاثَۃٌ: فَیَدُ اللّٰہِ الْعُلْیَا، وَیَدُ الْمُعْطِی الَّتِیْ تَلِیْھَا، وَیَدُ السَّائِلِ السُّفْلٰی، فَاَعْطِیَنَّ الْفَضْلَ وَلاتَعْجِزْ عَنْ نَفْسِکَ ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو الاحوص کے باپ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کا ہاتھ، جو سب سے بلند ہے، دوسرا خرچ کرنے والے کا ہاتھ، اس کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے نیچے ہے اور تیسرا سوالی کا ہاتھ، جو سب سے نیچے ہے، پس تو ضرور ضرور زائد مال خرچ کر دے اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جا۔

9339

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9339

Sahih

۔ (۹۳۳۹)۔ عَنْ مَعْبَدٍ الْجُھَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ((کَانَ مُعَاوِیَۃُ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَلَّمَا یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا وَیَقُوْلُ: ھٰؤُلائِ الْکَلِمَاتُ قَلَّمَا یَدَعَھُنَّ اَوْ یُحَدِّثُ بِھِنَّ فِی الْجُمْعِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًایُفَقِّھْہُ فِیْ الدِّیْنِ، وَاِنَّ ھٰذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ فَمَنْ یَّاْخُذْہُ بِحَقِّہِ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ، وَاِیَّاکُمْ وَالتَّمَادُحَ فَاِنَّہُ الذَّبْحُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے تو زیادہ تر یہ بھی بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں فقہ عطا کر دیتا ہے اور یہ مال و دولت شیریں اور سر سبز و شاداب یعنی پر کشش ہے، پس جو شخص اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور ایک دوسرے کی تعریف سے بچو، کیونکہ یہ ذبح کرنے کے مترادف ہے۔

9340

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9340

Sahih

۔ (۹۳۴۰)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، اَنَّ اَخَاہْ عُمَرَ انْطَلَقَ اِلٰی سَعْدٍ فِیْ غَنَمٍ لَّہُ خَارِجًا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ، فَلَمَّا رَآہُ سَعْدٌ قَالَ: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ ھٰذَا الرَّاکِبِ، فَلَمَّا اَتَاہُ قَالَ: یَااَبَتِ، اَرَضِیْتَ اَنْ تَکُوْنَ اَعْرَابِیًّا فِیْ غَنَمِکَ، وَالنَّاسُ یَتَنَازَعُوْنَ فِی الْمُلْکِ بِالْمَدِیْنَۃِ! فَضَرَبَ سَعْدٌ صَدْرَ عُمَرَ، وَقَالَ: اسْکُتْ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِیَّ الْغَنِیَّ الْخَفِیَّ۔))(مسند احمد: ۱۴۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عامر بن سعد سے مروی ہے کہ ان کا بھائی عمر اپنے باپ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مدینہ منورہ سے باہر اپنی بکریوں میں تھے، جب انھوں نے اس کو دیکھا تو کہا: میں اس سوار سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں، جب وہ آیا تو کہا: ابو جان! کیا آپ اپنے بکریوں میں بدّو بن جانے پر راضی ہو گئے، لوگ تو مدینہ منورہ میں بادشاہت کے مسئلے پر لڑ رہے ہیں، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عمر کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: خاموش ہو جا، بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرتا ہے، جو متقی، غنی اور گمنام ہو۔

9341

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9341

Sahih

۔ (۹۳۴۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ قاَلَ: جَائَ ہُ ابْنُہُ عَامِرٌ فَقَالَ: اَیْ بُنَیَّ اَفِی الْفِتْنَۃِ تَاْمُرُنِیْ اَنْ اَکُوْنَ رَاْسًا! لاَ وَاللّٰہِ! حَتّٰی اُعْطٰی سَیْفًا اِنْ ضَرَبْتُ بِہٖمُؤْمِنًانَبَاعَنْہُ،وَاِنْضَرَبْتُبِہٖکَافِرًاقَتَلَہُ،سَمِعْتُرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنِّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُحِبُّ الْغَنِیَّ الْخَفِیَّ التَّقِیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کا بیٹا ان کے پاس آیا اور انھوں نے اس سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! کیا تو مجھے حکم دیتا ہے کہ میں فتنے کا سردار بن جاؤں، نہیں، اللہ کی قسم! نہیں،یہاں تک کہ مجھے ایسی تلوار دی جائے کہ اگر میں اس کو مومن پر چلاؤں تو وہ اس سے ہٹ جائے اور اگر کافر پر چلاؤں تو اس کو قتل کر دے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ غنی، گمنام اور متقی بندے کو پسند کرتا ہے۔

9342

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9342

Sahih

۔ (۹۳۴۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْغِنٰی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ، وَلٰکِنَّ الْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غِنٰی کا تعلق زیادہ مال و دولت اور سازو سامان سے نہیں ہے، غنی تو نفس کا غنی ہوتا ہے۔

9343

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9343

Sahih

۔ (۹۳۴۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) مِثْلُہُ وَزَادَ: ((وَاللّٰہِ! مَا اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْفَقْرَ، وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ التَّکَاثُرَ، وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمْدَ (وَفِیْ لَفْظٍ) وَمَا اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْخَطَأَ وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمُ الْعَمْدَ۔ (مسند احمد: ۱۰۹۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو کثرتِ مال کا ڈر ہے۔ ایک روایت میں ہے: مجھے تمہارے بارے میں بلا ارادہ غلطی کرنے کا ڈر نہیں ہے، جان بوجھ کر گناہ کرنے کا ڈر ہے۔