Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 156 · Chapter 1855

کتاب

دنیا اور اس کی زینت و سجاوٹ اور نعمتوں سے بے رغبتی اختیار کرنے کی ترغیب کا بیان

13 hadiths in this chapter

9265

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9265

Zaeef

۔ (۹۲۶۵)۔ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَرَضَ عَلَیَّ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ لِیَجْعَلَ لِی بَطْحَائَ مَکَّۃَ ذَھَبًا، فَقُلْتُ: لَا یَارَبِّ، اَشْبَعُ یَوْمًا وَاَجُوْعُ یَوْمًا اَوْ نَحْوَ ذٰلِکَ، فَاِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ اِلَیْکَ وَذَکَرْتُکَ، وَاِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُکَ وَشَکَرْتُکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیری سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو تیری تعریف کروں گا اور تیرا شکر ادا کروں گا۔

9266

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9266

Sahih

۔ (۹۲۶۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلیٰ سَرِیْرٍ مُضْطَجِعٌ مُرْمَلٍ بِشَرِیْطٍ وَتَحْتَ رَاْسِہِ وِسَادَۃٌ مِّنْ اَدَمٍ حَشْوُھَا لِیْفٌ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ نَفَرٌ مِّنْ اَصْحَابِہٖ،وَدَخَلَعُمَرُفَانْحَرَفَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انْحِرَافَۃً، فَلَمْ یَرَ عُمَرَ بَیْنَ جَنْبَیْہِ وَبَیْنَ الشَّرِیْطِ ثَوْبًا وَقَدْ اَثَّرَ الشَّرِیْطُ بِجَنْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَکیٰ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَایُبْکِیْکَیَا عُمَرُ!۔)) قَالَ: وَاللّٰہِ مَا اَبْکِیْ اِلاَّ اَنْ اَکُوْنَ اَعْلَمُ اَنَّکََ اَکْرَمُ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ کِسْریٰ وَقَیْصَرَ وَھُمَا یَعِیْثَانِ فِی الدُّنْیَا فِیْمَایَعِیْثَانِِ فِیْہِ، وَاَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! بِالْمَکَانِ الَّذِیْ اَرَی، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا تَرَضَی اَنْ تَکُوْنَ لَھُمُ الدُّنْیَا وَلَنَا الْآخِرَۃُ؟)) قَالَ عُمُرُ: بَلیٰ قَالَ: ((فَاِنَّہُ کَذَاکَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بٹی ہوئی رسی سے بنی ہوئی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا اور اس کا بھرونا کھجور کے پتے تھے، اتنے میں صحابہ کا ایک گروہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگیا اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی داخل ہوئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک طرف مائل ہوئے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلوؤں اور رسی کے درمیان کوئی کپڑا نہیں ہے اور وہ رسی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو پر نشان چھوڑ چکی ہے تو وہ رونے لگ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ کسری و قیصر کی بہ نسبت آپ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ تکریم اور عزت والے ہیں، لیکن وہ تو دنیا میں مال و دولت کو اڑا رہے ہیں اور اے اللہ کے رسول! آپ اس مقام میں ہیں، جو میں دیکھ رہا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو جاؤ گے کہ یہ چیزیں ان کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں؟ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر بات ایسے ہی ہے۔

9267

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9267

Sahih

۔ (۹۲۶۷)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَ ہُ شَہْرًا فاَتَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ وَھُوَ فِی غُرْفَۃٍ عَلَی حَصِیْرٍ قَدْ اَثَّرَ الْحَصِیْرُ بِظَھْرِہِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کِسْرَییَشْرَبُوْنَ فِی الذِّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَاَنْتَ ھٰکَذَا فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّھُمْ عُجِّلَتْ لَھُمْ طَیِّبَاتُھُمْ فِی حَیَاتِھِمِ الدُّنْیَا۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ کے لیے چھوڑ دیا تھا، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بالاخانے میں ایک ایسی چٹائی پر تشریف رکھے ہوئے تھے، جس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کمر پر اپنا اثر چھوڑا ہوا تھا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسری کی طرح کے لوگ تو سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ اس طرح ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی نیکیاں ان کو دنیا میں ہی جلدی دے دی گئیں ہیں۔

9268

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9268

Sahih

۔ (۹۲۶۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَیْہِ عُمَرُ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) وَھُوَ عَلیٰ حَصِیْرٍ قَدْ اَثَّرَ فِی جَنْبِہٖفَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا اَوْثَرَ مِنْ ھٰذَا فَقَالَ: ((مَالِی وَلِلدُّنْیَا! مَامَثَلِی وَمَثَلُ الدُّنْیَا اِلاَّ کَرَاکِبٍ سَارَ فِیْیَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ سَاعَۃً مِنْ نَھَارٍ ثَمَ رَاحَ وَتَرَکَھَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں اپنا اثر چھوڑ چکی تھی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگر آپ اس سے نرم و گداز بچھونا لے لیتے تو اچھا ہوتا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے، میری اور اس دنیا کی مثال تو سوار کی سی ہے، جو گرم دن میں سفر کر رہا ہو اور دن کی ایک گھڑی کے لیے کسی درخت کا سایہ حاصل کرے اور پھر اس کو چھوڑ کر چل دے۔

9269

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9269

Sahih

۔ (۹۲۶۹)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ: لَقَدْ اَصْبَحْتُمْ وَاَمْسَیْتُمْ تَرْغَبُوْنَ فِیْمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَزْھَدُ فِیْہِ، اَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُوْنَ فِی الدُّنْیَا، وَکاَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَزْھَدُ فِیْھَا، وَاللّٰہِ! مَا اَتَتْْ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃٌ مِنْ دَھْرِہِ اِلاَّ کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ اَکْثَرَ مِمَّا لَہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ بَعْضُ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : قَدْ رَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَسْلِفُ۔ وَقاَلَ: غَیْرُیَحْيٰ: وَاللّٰہِ! مَا مَرَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃٌ مِنَ الدَّھْرِ اِلاَّ وَالَّذِیْ عَلَیْہِ اَکْثْرُ مِنَ الَّذِیْ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم تو صبح و شام ایسی چیزوں کی رغبت کرنے لگ گئے، جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بے رغبتی کرتے تھے، تم دنیا میں راغب ہونے لگ گئے ہو، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اس سے دور رہنے والے تھے، اللہ کی قسم! ہر آنے والی رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لینا ہوتا تھا، بعض صحابہ نے کہا: تحقیق ہم نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ قرض لیتے تھے، یحییٰ کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: اللہ کی قسم! تین دن نہیں گزرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لینا ہوتاتھا۔

9270

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9270

Sahih

۔ (۹۲۷۰)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ۔) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسیٰ قَالَ: سَمِعْتُ اَبِییَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ یَخْطُبُ النَّاسَ بِمْصَرَ یَقُوْلُ: مَا اَبْعَدَ ھَدْیَکُمْ مِنْ ھَدْیِ نَبِیِّکُمْ! اَمَّا ھُوَ فَکَانَ اَزْھَدَ النَّاسِ فِی الدِّنْیَا وَاَمَّا اَنْتُمْ فَاَرْغَبُ النَّاسِ فِیْھَا۔(مسند احمد: ۱۷۹۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مصر میں خطاب کرتے ہوئے کہا: کس چیز نے تمہارے طرزِ حیات کو تمہارے نبی کی سیرت سے دور کر دیا ہے! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبتی کرنے والے تھے، لیکن تم اس میں سب سے زیادہ رغبت کرنے والے ہو۔

9271

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9271

Sahih

۔ (۹۲۷۱)۔ عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ اَمْشِی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَرَّۃِ الْمَدِیْنَۃِ عِشَائً وَنَحْنُ نَنْظُرُ اِلٰی اُحُدٍ، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ!۔)) قُلْتُ: لَبَّیْکَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((مَا اُحِبُّ اَنَّ اُحُدًا ذَاکَ عِنْدِیْ ذَھَبًا اُمْسِی ثَالِثَۃً وَعِنْدِی مِنْہُ دِیْنَارٌ اِلاَّ دِیْناَرٌ اُرْصِدُہُ لِدَیْنٍ اِلاَّ اَنْ اَقُوْلَ بِہٖفِی عِبَادِ اللّٰہِ ھٰکَذَا وَحَثَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ وَعَنْ یَسَارِہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَشَیْنَا، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! اِنّ الْاَکْثَرِیْنَ ھُمُ الْاَقَلُّونُ یَوْمَ الْقَیَامَۃِ اِلاَّ مَنْ قَالَ: ھٰکَذَا وَھٰکَذَا وَھٰکَذَا۔)) وَحَثَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ وَعَنْ یَسَارِہِ۔ قَالَ: ثُمَّ مَشَیْنَا فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! کَمَا اَنْتَ حَتّٰی آتِیَکَ۔)) قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتّٰی تَوَارٰی عَنِّی، قَالَ: فَسَمِعْتُ لَغَطاً وَصَوْتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَعَلَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُرِضَ لَہُ، قَالَ: فَھَمَمْتُ اَنْ اَتْبَعَہُ ثُمَّ تَذَکَّرْتُ قَوْلَہُ ((لَا تَبْرَحْ حَتّٰی آتِیَکَ)) فَانْتَظَرْتُہُ حَتّٰی جَائَ فَذَکَرْتُ لَہُ الَّذِیْ سَمِعْتُ، فَقَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَتَانِی فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ اُمَّتِکَ لَا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ قَالَ: ((وَاِنْ زَنیٰ وَاِنْ سَرَقَ۔))(مسند احمد: ۲۱۶۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: شام کا وقت تھا، میں مدینہ منورہ کے حَرّہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میں نے کہا: جی اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو میں نہیں چاہوں گا کہ تیسرے دن کی شام کو اس میں سے میرے پاس کوئی دینار باقی ہو، ما سوائے اس دینار کے، جس کو میں قرض کے لیے روک لوں گا، میں تو اس کو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں ایسے ایسے تقسیم کر دوں گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چلو بھر کر دائیں، بائیں اور سامنے ڈالے۔ پھر ہم آگے چلے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابا ذر! بیشک زیادہ مال والے ہی قیامت والے دن کم نیکیوں والے ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح مال کو تقسیم کر دیا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمثیل پیش کرتے ہوئے دائیں، بائیں اور سامنے چلوؤں سے اشارہ کیا۔پھر ہم مزید آگے چلے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ذر! تم میرے آنے تک یہیں کھڑے رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلے گئے، یہاں تک کہ مجھ سے چھپ گئے، لیکن جب میں نےکچھ شور اور آوازیں سنیں تو میں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کوئی مسئلہ پیش آ گیا، میں نے آپ کے پیچھے جانے کا ارادہ تو کیا، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہ بات یاد آئی کہ تو نے میرے آنے تک یہیں رہنا ہے ۔ سو میں انتظار ہی کرتا رہا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا ذکر کیا، جو میں نے سنی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، وہ میرے پاس آئے اور کہا: آپ کی امت کا جو اس حال میں مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ زناکرتا ہو اور چوری کرتا ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کرتا ہو۔

9272

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9272

Sahih

۔ (۹۲۷۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ۔) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا اَبَا ذَرٍّ! اَیُّ جَبَلٍ ھٰذَا؟۔)) قُلْتُ: اُحُدٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ، قَالَ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہِ مَا یَسُرُّنِی اَنْ لیْ ذَھَبًا قِطَعًا اُنْفِقُہُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ اَدَعُ مِنْہُ قِیْرَاطًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: قِنْطَارًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((قِیْرَاطًا۔)) قَالَھَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! اِنَّمَا اَقُوْلُ الَّذِیْ اَقَلُّ وَلَا اَقُوْلُ الَّذِی ھُوَ اَکْثَرُ۔))(مسند احمد: ۲۱۶۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! یہ کون سا پہاڑ ہے؟ میں نے کہا: احد پہاڑ ہے، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر (یہ پہاڑ) میرے لیے سونے کے سکّوں میں تبدیل کردیا جائے تو میں اس کو اللہ کے راستے میں خرچ کر دوں گا اور مجھے یہ چیز خوش نہیں کرے گی کہ اس میں سے ایک قیراط بھی باقی رہنے دوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قنطار؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیراط، قیراط۔ تین دفعہ فرمایا، پھر فرمایا: اے ابو ذر! میں کم والی بات کر رہا ہوں، زیادہ والی نہیں کر رہا۔

9273

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9273

Sahih

۔ (۹۲۷۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ۔) قَالَ: ((مَایَسُرُّنِی اَنَّ لِی اُحُدًا ذَھَبًا اَمُوْتُ یَومَ اَمُوْتُ وَعِنْدِی مِنْہُ دِیْنَارٌ اَوْ نِصْفُ دِیْنَارٍ اِلاَّ اَنْ اُرْصِدَہُ لِغَرِیْمٍ ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر احد پہاڑ کو میرے لیے سونا بنا دیا جائے تو مجھے یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ میری وفات والے دن اس میں دیناریا نصف دینار میرے پاس پڑا ہو، البتہ اتنی مقدار جس کو میں قرضے کے لیے روک رکھوں گے۔

9274

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9274

Sahih

۔ (۹۲۷۴)۔ عَنْ اَبِی اَسْمَائَ، اَنَّہُ دَخَلَ عَلَی اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَھُوَ بِالرَّبَذَۃِ وَعِنْدَہَ اِمْرَاَۃٌ سَودَائٌ مُشْبَعَۃٌ لَیْسَ عَلَیْھَا اَثَرُ الْمَجَاسِدِ وَلَا الْخَلُوْقِ، قَالَ: فَقَالَ: اَلا تَنْظُرُوْنَ اِلٰی مَاتَاْمُرُنِی بِہٖھٰذِہِالسُّوَیْدَائُ، تَاْمُرُنِی اَنَ آتِیَ الْعِرَاقَ فَاِذَا اَتَیْتُ الْعِرَاقَ مَالُوْا عَلَیَّ بِدُنْیَاھُمْ وَاِنَّ خَلِیْلِی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَھِدَ اِلَیَّ اَنْ دُوْنَ جِسْرِ جَھَنَّمَ طَرِیْقًا ذَا دَحْضٍ وَمَزِلَّۃٍ وَاِنَّا نَاْتِی عَلَیْہِ وَفِی اَحْمَالِنَا اقْتِدَارٌ اَحْرٰی اَنْ نَنْجُوَ عَنْ اَنْ تَاْتِیَ عَلَیْہِ وَنَحْنُ مَوَاقِیْرُ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو اسماء کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ ربذہ مقام میں تھے اور ان کے پاس کالی سیاہ ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی، اس میں زعفران اور خلوق خوشبوؤں کا کوئی اثر نہیں تھا، انھوں نے کہا: کیا تم اس چیز کی طرف نہیں دیکھتے، جس کا یہ سیاہ فام عورت مجھے حکم دے رہی ہے، یہ مجھے کہتی ہے کہ میں عراق چلا جاؤں، اور جب میں عراق جاؤں گا تو لوگ اپنی دنیا کے ساتھ میرے طرف مائل ہوں گے، جبکہ میرے خلیل ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتلایا تھا کہ جہنم والے پل صراط سے قبل ایک پھسلن والا راستہ ہے اور ہم نے وہاں سے گزرنا ہے، اگر ہم بوجھوں سے ہلکے ہوئے تو زیادہ ممکن ہو گا کہ ہم وہاں سے نجات پا جائیں، بہ نسبت اس کے کہ ہم وہاں اس حال میں جائیں کہ ہم بوجھ والے ہوں۔

9275

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9275

Sahih

۔ (۹۲۷۵)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَعَثَ بِہٖاِلَی الْیَمَنِ، قَالَ: ((اِیَّاکَ وَالتَّنَعُّمَ، فَاِنَّ عِبَادَ اللّٰہِ لَیْسُوْا بِالْمُتَنَعِّمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب ان کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: خوش عیشی سے بچو، پس بیشک اللہ تعالیٰ کے بندے خوش عیش نہیں ہوتے۔

9276

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9276

Sahih

۔ (۹۲۷۶)۔ عَنْ اَبِی عَسِیْبٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلاً، فَمَرَّ بِی فَدَعَانِی اِلَیْہِ، فَخَرَجْتُ ثُمَّ مَرَّ بِاَبِی بَکْرٍ فَدَعَاہُ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ، ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاہُ، فَخَرَجَ اِلَیْہِ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی دَخَلَ حَائِطًا لَبَعْضِ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ: ((اَطْعِمْنَا بُسْرًا۔)) فَجَائَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَہُ، فَاَکَلَ فَاَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَصْحَابُہُ، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: ((لَتُسْئَلُنَّ عَنْ ھٰذَا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ۔)) قَالَ: فَاَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِہٖالْاَرْضَحَتّٰی تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَئِنَّا لَمَسْئُوْلُوْنَ عَنْ ھٰذَا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ! اِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ، خِرْقَۃٍ کَفَّ بِھَا الرَّجُلُ عَوْرَتَہُ، اَوْ کِسْرَۃٍ سَدَّ بِھَا جَوْعَتَہُ، اَوْ حِجْرٍ یَتَدَخَّلُ فِیْہِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقُرِّ۔))(مسند احمد: ۲۱۰۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو عسیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رات کو نکلے، جب میرے پاس سے گزرے تو مجھے بلا لیا، پس میں نکل پڑا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلایا، پس وہ بھی آگئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کو بھی بلا لیا اور وہ بھی آ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل پڑے، یہاں تک کہ کسی انصاری کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا: نیم پخت کھجوریں کھلاؤ۔ پس وہ ایک گچھا لے کر آیا اور اس کو رکھ دیا، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے کھایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوایا اور اس کو پیا اور فرمایا: تم سے اس نعمت کے بارے میں بھی روزِ قیامت ضرور ضرور سوال کیا جائے گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ گچھا پکڑا اور اس کو زمین پر مارا، اس سے ادھ کچری کھجوریں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف گر پڑیں، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ان کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے سوال کیا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بالکل، ما سوائے تین چیزوں کے، (۱) وہ دھجّی اور چیتھڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی شرمگاہ کا پردہ کر لے، (۲) وہ (روٹی وغیرہ کا) ٹکڑا، جس کے ذریعے بندہ اپنی بھوک پوری کر لے اور (۳) وہ چھوٹا سا کمرہ، جس میں بندہ گرمی اور سردی سے بچنے کے لیے داخل ہو جائے۔

9277

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9277

Sahih

۔ (۹۲۷۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ فَاَطْعَمْتُھُمْ رُطَبًا وَاَسْقَیْتُھُمْ مَائً، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا مِنَ النَّعِیْمِ الَّذِیْ تُسَاَلُوْنَ عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما میرے پاس آئے، میں نے ان کو تازہ کھجوریں کھلائیں اور پانی پلایا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں ان نعمتوں میں سے ہیں، جن کے بارے میں تم سوال کیے جاؤ گے۔