Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 156 · Chapter 1856

کتاب

اس چیز کی ترغیب کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کے پاس دنیا کی بقدر ضرورت قلیل مقدار تھی

21 hadiths in this chapter

9278

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9278

Sahih

۔ (۹۲۷۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَدَ افْلَحَ مَنْ اَسَلَمَ، وَرُزِقَ کَفَافًا، وَقَنَّعُہَ اللّٰہُ بِمَا آتَاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۵۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق وہ کامیاب ہو گیا، جس نے اسلام قبول کیا اور پھر اس کو بقدر ضرورت رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جو کچھ دیا، اس کو اس پر قناعت کرنے والا بنا دیا۔

9279

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9279

Sahih

۔ (۹۲۷۹)۔ عَنْ فُضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔

9280

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9280

Zaeef

۔ (۹۲۸۰)۔ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُلُّ شَیْئِ سِوٰی ظِلِّ بَیْتٍ، وَجِلْفِ الْخُبْزِ، وَثَوْبٍ یُوَارِی عَوْرَتَہُ، وَالْمَائِ، فَمَا فَضَلَ عَنْ ھَذَا فَلَیْسَ لِاِبْنِ آدَمَ فَیْھِنَّ حَقٌَّ۔)) (مسند احمد: ۴۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: گھر، موٹی اور خشک روٹی اور شرمگاہ کو چھپانے والا کپڑا، جو چیز ان کے علاوہ ہے، وہ زائد ہے اور ابن آدم کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔

9281

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9281

Sahih

۔ (۹۲۸۱)۔ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدِ نِ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اسْتَکْسَیْتُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَسَانِی خَیْشَتَیْنِ، فَلَقَدْ رَاَیْتُنِی اَلْبِسُھُمَا وَاَنَا مِنْ اَکْسٰی اَصْحَابِی ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عتبہ بن عبد سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے لباس طلب کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دو موٹے سے کپڑے پہنا دیے، لیکن جب میں نے ان کو زیب ِ تین کیا تو دیکھا کہ اپنے ساتھیوں میں زیادہ لباس والا میں ہی تھا۔

9282

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9282

Zaeef

۔ (۹۲۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَکَانَ بَدَرِیًّا، قَالَ: لَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَبْعَثُنَا فِی السَّرِیَّۃِیَابُنَیَّ! مَالَنَا زَادٌ اِلاَّ السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ، فَیَقْسِمُہُ قَبْضَۃً قَبْضَۃً حَتّٰییَصِیْرَ اِلیٰ تَمْرَۃٍ تَمْرَۃٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ : یَا اَبْتِ! وَمَا عَسٰی اَنْ تُغْنِیَ التَّمْرَۃُ عَنْکُمْ؟ قَالَ: لَا تَقُلْ ذٰلِکَ یَا بُنَیَّ فَبَعْدَ اَنْ فَقَدْنَاھَا فَاخْتَلَلْنَا اِلَیْھَا۔ (مسند احمد: ۱۵۷۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عامر بن ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ بدری صحابی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے میرے پیارے بیٹے عبد اللہ! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں لشکر میں بھیجتے تھے، ہمارا زادِ راہ صرف چمڑے کے تھیلوں میں ہوتا تھا، وہ اس طرح تقسیم کیا جاتا کہ ہر ایک کو ایک ایک لپ آتی تھی، پھر ایک ایک کھجور تک نوبت جا پہنچی۔ بیٹے نے کہا: اے ابا جان! وہ ایک کھجور تم سے کیا کفایت کرتی ہو گی؟ انھوں نے کہا: بچو! یہ بات نہ کرو، جب وہ بھی نہیں ملتی تھی تو ہمیں اس کی بھی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔

9283

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9283

Sahih

۔ (۹۲۸۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: اَقَمْتُ بِالْمَدِیْنَۃِ مَعَ اَبِی ھُرَیْرَۃَ سَنَۃً فَقَالَ لِی ذَاتَ یَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : لَقَدْ رَاَیْتُنَا وَمَالَنَا ثِیَابٖ اِلاَّ الْبُرَدُ الْمُتَفَتِّقَۃُ، وَاِنَّا لَیَاْتِی عَلَی اَحَدِنَا الْاَیَّامُ مَا یَجِدُ طَعَامًا یُقِیْمُ بِہٖصُلْبَہُ،حَتّٰی اِنْ کَانَ اَحَدُنَا لَیَاْخُذُ الْحَجَرَ فَیَشُدُّہُ عَلَی اَخْمَصِ بَطْنِہِ، ثُمَّ یَشُدُّہُ بِثَوْبِہٖلِیُقِیْمَ بِہٖصُلْبَہُ،فَقَسَّمَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ بَیْنَنَا تَمْرًا فَاَصَابَ کَلُّ اِنْسَانٍ مِنَّا سَبْعَ تَمَرَاتٍ فِیْھِنَّ حَشَفَۃٌ، فَمَا سَرَّنِی اَنَّ لِی مَکاَنَھَا تَمَرَۃً جَیِّدَۃً، قَالَ: قُلْتُ لِمَ؟ قَالَ: تَشُدُّ لِی مِنْ مَضْغِیْ۔ (مسند احمد: ۸۲۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سال تک سکونت اختیار کی، ایک دن انھوں نے مجھے کہا، جبکہ ہم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے پاس تھے: میں نے دیکھا کہ ہمارے پاس پھٹ جانے والی پرانی چادریں ہوتی تھیں اور ایسے دن بھی آ جاتے تھے کہ ہم کھانے کی کوئی ایسی چیز نہیں پاتے تھے، جس کے ذریعے اپنے کمر کو کھڑا کر لیتے،یہاں تک کہ اس چیز کی نوبت آ جاتی کہ لوگ اپنی کمر کو سیدھا رکھنے کے لیے پتھر اٹھا کر اپنے بھوکے پیٹ پر رکھ کر اس کو کپڑے سے کس دیتے تھے، ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمارے مابین کھجوریں تقسیم کیں، ہر انسان کو سات سات کھجوریں ملیں، ان میں خشک اور ردّی کھجوریں بھی تھیں، اور مجھے یہ بات خوش نہیں لگتی تھی کہ اس ردّی کھجور کی بجائے مجھے عمدہ کھجور ملتی، میں نے کہا: وہ کیوں؟ انھوں نے کہا: اس کو سختی سے چبانا پڑتا تھا۔

9284

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9284

Zaeef

۔ (۹۲۸۴)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَقَدْ رَاَیْتُنِی مَعَ رَسُوْلِ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِنِّی لَاَرْبُطُ الْحَجَرَ عَلَی بَطْنِی مِنَ الْجُوْعٍ، وَاِنَّ صَدَقَتِي الْیَوْمَ لَاَرْبَعُوْنَ اَلْفًا (وَفِی رَوَایَۃٍ: وَاِنَّ صَدَقَۃَ مَالِیْ لَتَبْلُغُ اَرْبَعِیْنَ اَلْفَ دِیْنَارٍ)۔ (مسند احمد: ۱۳۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس حالت میں دیکھا تھا کہ بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا، لیکن آج میرے مال کی زکوۃ کی مقدار چالیس ہزار ہے۔

9285

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9285

Sahih

۔ (۹۲۸۵)۔ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اِنَّمَا کَانَ طَعَامَنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْاَسْوَدَانِ: اَلتَّمْرُ وَالْمَائُ، وَاللّٰہِ! مَا کُنَّا نَرٰی سَمْرَائَ کُمْ ھٰذِہِ وَلَا نَدْرِیْ مَاھِیَ، وَاِنَّمَا کَانَ لِبَاسُنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ النِّمَارَیَعْنِی بُرُوْدَ الْاَعْرَابِ۔ (مسند احمد: ۸۶۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہمارا کھانا دو سیاہ چیزیں کھجور اور پانی ہوتی تھیں، اللہ کی قسم! ہم نے نہ تو تمہاری اس گندم کو دیکھا تھا اور نہ جانتے تھے کہ یہ کیا ہوتی ہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہمارا لباس بدوؤں والی چھوٹی چھوٹی چادریں ہوا کرتی تھیں۔

9286

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9286

Zaeef

۔ (۹۲۸۶)۔ عَنْ اَبِی حِسْبَۃَ مُسْلِمِ بْنِ اُکَیْسٍ مَوْلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ اَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَاحِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ذَکَرَ مَنْ دَخَلَ عَلَیْہِ، فَوَجَدَہُ یَبْکِی، فَقَالَ: مَا یُبْکِیْکَیَا اَبَا عُبَیْدَۃَ؟ فَقَالَ: نَبْکِی اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ یَوْمًا مَا یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ وَیُفِيْئُ عَلَیْھِمْ حَتّٰی ذَکَرَ الشَّامَ، فقَالَ: ((اِنْ یُنْسَاْ فِی اَجَلِکَ یَا اَبَا عُبَیْدَۃَ فَحَسْبُکَ مِنَ الْخَدَمِ ثَلَاثَۃٌ: خَادِمٌ یَخْدُمُکَ، وَخَادِمٌ یُسَافِرُ مَعَکَ، وَخَادِمٌ یَخْدُمُ اَھْلَکَ وَیَرِدُ عَلَیْھِمْ، وَحَسْبُکُ مِنَ الدَّوَابِ ثَلَاثَۃٌ، دَابَّۃٌ لِرَحْلِکَ، وَدَابَّۃٌ لِثَقَلِکَ، وَدَابَّۃٌ لِغُلامِکَ۔)) ثُمَّ ھَا اَنَا اَنْظُرُ اِلَی بَیْتِی قَدِ امْتَلَائَ رَقِیْقًا وَاَنْظُرُ اِلَی مَرْبَطِی قَدِ امْتَلَا دَوَابَّ وَخَیْلًا، فَکَیْفَ اَلْقٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ھٰذَا! وَقَدْ اَوْصَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَحَبَّکُمْ اِلَیَّ وَاَقْرَبَکُمْ مِنِّی مَنْ لَقِیَنِی عَلٰی مِثْلِ الْحَالِ الَّذِیْ فَارَقَنِی عَلَیْھَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، ایک آدمی ان کے پاس گیا اور ان کو روتا ہوا پایا، اس نے کہا: اے ابو عبیدہ! تم کیوں رو رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن ان چیزوں کا ذکر کیا، جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتوحات اور غنیمتوں کی صورت میں عطا کرے گا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شام کا ذکر بھی کیا اور مزید فرمایا: ابو عبیدہ! اگر تیری زندگی لمبی ہو جائے تو تین خادم تجھے کفایت کرنے چاہئیں، ایک خادم تیری خدمت کے لیے، ایک تیرے ساتھ سفر کرے کے لیے اور ایک خادم تیرے اہل خانہ کی خدمت کرنے کے لیے، جو ان کے پاس آتا جاتا رہے، اور تجھے تین سواریاں کافی ہو جانی چاہئیں، ایک تیری سواری کے لیے، ایک تیرے سامان کے لیے اور ایک سواری تیرے غلام کے لیے۔ اب توجہ کر، میں اپنے گھر کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ غلاموں سے بھرا ہوا ہے اور اصطبل جانوروں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا، ان چیزوں کے ہوتے ہوئے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کس منہ سے ملوں گا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہے، جو مجھے اسی حالت میں ملے، جس پر میں اس کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔

9287

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9287

Zaeef

۔ (۹۲۸۷)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِیَۃُ عَلٰی خَالِہِ اَبِی ھَاشِمِ بْنِ عُتْبَۃَیَعُوْدُہُ، قَالَ: فَبَکٰی، قَالَ: فَقَالَ لَہُ مَعَاوِیَۃُ: مَایُبْکِیْکَیَا خَالُ اَوَجَعًا یُشْئِزُکَ اَمْ حِرْصًا عَلَی الدُّنْیَا؟ قَالَ: فَقَالَ: فَکُلًّا لَا، وَلٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَھِدَ اِلَیْنَا فَقَالَ: ((یَا اَبَا ھَاشِمٍ! اِنَّھَا عَلَّکَ تُدْرِکَ اَمْوَالاً یُؤْتَاھَا اَقْوَامٌ، وَاِنَّمَا یَکْفِیْکَ فِی جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْکَبٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) وَاِنِّی اُرَانِی قَدْ جَمَعْتُ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ شقیق کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے ماموں سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تیماری داری کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ماموں جان! کیوں رو رہے ہو، کوئی تکلیف پریشان کر رہی ہے یا دنیوی حرص رونے کا سبب بن رہی ہے؟ انھوں نے کہا: ان میں سے کوئی وجہ بھی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں یہ وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: اے ابو ہاشم! ممکن ہے کہ تم ایسے اموال پا لو، جو لوگوں کے مابین تقسیم ہونا ہوں گے، بس صرف تیرے لیے مال میں سے ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے لیے ایک سواری کافی ہو گی۔ لیکن اب میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں نے مال جمع کیا ہے۔

9288

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9288

Zaeef

۔ (۹۲۸۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ عَنْ اَبِی وَائِلٍ قاَلَ: دَخَلَ مُعَاوِیَۃُ عَلٰی اَبِی ھَاشِمِ بْنِ عُتْبَۃَ وَھُوَ مَرِیْضٌیَبْکِیْ۔ فَذَکَرَ مَعَناَہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، جبکہ وہ بیمار تھے اور رو رہے تھے۔

9289

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9289

Sahih

۔ (۹۲۸۹)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی خَبَّابٍ وَقَدِ اکْتَوٰی سَبْعًا فَقَالَ: مَا اَعْلَمُ اَحْدًا لَقِیَ مِنَ الْبلَائِ مَالَقِیْتُ لَوْ لَا اَنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَتَمَنّٰی اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ)) لَتَمَنَّیْتُہُ۔ وَلَقَدْ رَاَیْتُنِی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا اَمْلِکُ دِرْھَمًا، وَاِنَّ فِی جَانِبِ بَیِْتِی الْآنَ الْاَرْبَعِیْنَ اَلْفَ دِرْھَمٍ، قَالَ: ثُمَّ اُتِیَ بِکَفَنِہِ فَلَمَّا رَآہُ بَکٰی، وقَالَ: لٰکِنَّ حَمْزَۃَ لَمْ یُوْجَدْ لَہُ کَفَنٌ اِلاَّ بُرْدَۃٌ مَلْحَائُ، اِذَا جُعِلَتْ عَلٰی رَاْسِہِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَیْہِ، وَاِذَا جُعِلَتْ عَلٰی قَدَمَیْہِ قَلَصَتْ عَنْ رَاْسِہِ، حَتّٰی مُدَّتْ عَلٰی رَاْسِہِ، وَجُعِلَ عَلٰی قَدَمَیْہِ الْاِذْخِرُ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حارثہ بن مضرب کہتے ہیں: میں سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، جبکہ ان کو جسم کے سات مقامات پر داغا گیا تھا، انھوں نے کہا: میرے علم کے مطابق جو تکلیف مجھے ہے، وہ کسی اور کو نہیں ہے، اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے میں موت کی تمنا کرتا۔ جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، تو میرے پاس ایک درہم بھی نہیں تھا اور اب تو میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہوئے ہیں، پھر ان کا کفن لایا گیا اور انھوں نے اس کو دیکھ کر رونا شروع کر دیا اور کہا: لیکن سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے کفن نہیں تھا، ما سوائے سفید و سیاہ رنگ کی ایک چادر کے، جب وہ ان کے سر پر رکھی جاتی تو پاؤں سے سکڑ جاتی اور جب پاؤں پر رکھی جاتی تو سر سے ہٹ جاتی، پھر اس کو ان کے سر پر ڈالا گیا اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دی گئی۔

9290

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9290

Sahih

۔ (۹۲۹۰)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، عَنْ خَبَّابٍ اَیْضًا، قَالَ: ھَاجَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ یَاْکُلْ مِنْ اَجْرِہِ شَیْئًا، مِنْھُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ لَمْ یَتْرُکْ اِلاَّ نَمِرَۃً، اِذَا غَطُّوْا بِھَا رَاْسَہُ بَدَتْ رِجْلَاہْ، وَاِذَا غَطَّیْنَا رِجْلَیْہِ بَدَا رَاْسُہُ، فَقَالَ لَنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَطُّوْا رَاْسَہُ۔)) وَجَعَلْنَا عَلَی رِجْلَیْہِ اِذْخِرًا۔ قَالَ: وَمِنَّا مَنْ اَیْنَعَ الثِّمَارَ فَھُوَ یَھْدِبُھَا۔ (مسند احمد: ۲۱۳۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہجرت کی، ہم میں بعض ایسے افراد تھے کہ وہ دنیا میں اپنے اجر کی کوئی چیز کھائے بغیر فوت ہو گئے، ان میں سے ایک سیدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے کہ جنھوں نے صرف اپنے ترکہ میں ایک دھاری دارچادر چھوڑی تھی، جب لوگ اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو ان کی ٹانگیں ننگی ہو جاتیں اور جب ٹانگوں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا تھا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: اس کے سر کو ڈھانپ دو۔ اور ہم نے ان پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دی تھی، لیکن بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کا پھل پکا اور وہ اسے چن رہے ہیں۔

9291

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9291

Sahih

۔ (۹۲۹۱)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَیْرٍ، قَالَ: خَطَبَ عُتْبَۃُ بْنُ غَزْوَانَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ الدُّنْیَا قَدْ آذَنَتْ بِصُرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّائَ وَلَمْ یَبْقَ مِنْھَا اِلَّا صُبَابَۃٌ کَصُبَابَۃِ الْاِنَائِیَتَصَابُّھَا صَاحِبُھَا، وَاِنَّکُمْ مُنْتَقِلُوْنَ مِنْھَا اِلَی دَارٍ لَا زَوَالَ لَھَا، فَانْتَقِلُوْا بِخَیْرِ مَا بِحَضْرَتِکُمْ، فَاِنَّہُ قَدْ ذُکِرَ لَنَا اَنَّ الْحَجَرَ یُلْقٰی مِنْ شَفِیْرِ جَھَنَّمَ فَیَھْوِیْ فِیْھَا سَبْعِیْنَ عَامًا مَایُدْرِکَ لَھَا قَعْرًا، وَاللّٰہِ! لَتُمْلَؤَنَّہْ اَفَعَجِبْتُمْ؟ وَاللّٰہِ! لَقَدْ ذُکِرَ لَنَا اَنَّ مَا بَیْنَ مِصْرَاعَیْ الْجَنَّۃِ مَسِیْرَۃَ اَرْبَعِیْنَ عَامًا وَلَیَاْتِیَنَّ عَلَیْہِیَوْمٌ کَظِیْظُ الزِّحَامِ، وَلَقَدْ رَاَیْتُنِیْ سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَالَنَا طَعَامٌ اِلَّا وَرَقَ الشَّجَرِ حَتّٰی قَرِحَتْ اَشْدَاقُنَا، وَاِنِّی الْتَقَطْتُ بُرْدَۃً فَشَقَّقْتُھَا بَیْنِی وَبَیْنَ سَعْدٍ، فَاْتَّزَرَ بِنِصْفِھَا، فَمَا اَصْبَحَ مِنَّا اَحَدٌ الْیَوْمَ اِلاَّ اَصْبَحَ اَمِیْرَ مِصْرٍ مِّنَ الْاَمْصَارِ، اِنِّی اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ فِی نَفْسِی عَظِیْمًا وَعِنْدَا للّٰہِ صَغِیْرًا، وَاِنَّھَا لَمْ تَکُنْ نَبُوَّۃٌ قَطُّ اِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتّٰییَکُونَ عَاقِبَتُھَا مُلْکًا، وَسَتَبْلُوْنَ، اَوْ سَتَخْبُرُوْنَ الْاُمَرَائَ بَعْدَنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۷۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ خالد بن عمیر کہتے ہیں: سیدنا عتبہ بن غزوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر کہا: اَمَّا بَعْدُ! پس دنیا نے اپنے ختم ہونے کی خبر دے دی ہے اور یہ جلدی پھرنے والی ہے، اب یہ اتنی ہی باقی رہ گئی، جتنا کہ برتن میں تھوڑا سا پانی باقی رہ جاتا ہے، جس کو اس کا مالک پی لیتا ہے، اور تم لوگ ختم نہ ہونے والے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو، پس اپنے پاس موجود بھلائی کے ساتھ منتقل ہو جاؤ، ہمیں یہ بات بتلائی گئی کہ ایک پتھر کو جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکا جاتا ہے اور وہ ستر سال گرتے رہنے کے باوجود اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتا، اللہ کی قسم! اتنی وسیع جہنم کو بھر دیا جائے گا، کیا تم لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے؟ اللہ کی قسم! ہمیں بتلایا گیا کہ جنت کے ایک دروازے کے دو پٹوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، لیکن اس پر بھی ایک ایسا دن آئے گا کہ یہ ہجوم سے بھرا ہوا ہو گا، میں نے خود دیکھا کہ ہم سات افراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا کھانا صرف درخت کے پتے تھے،جس کہ وجہ سے گوشۂ دہن پر زخم ظاہر ہونے لگتے تھے اور میں نے ایک چادر اٹھائی اور اس کو اپنے اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا، نصف سے انھوں نے ازار باندھ لیا، لیکن اب ہم میں سے ہر کوئی ایک ایک شہر کا امیر بن بیٹھا ہے، میں اس چیز سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو اپنے نفس میں تو عظیم سمجھوں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں کم قدرہوں، نبوت جب بھی ختم ہوتی تھی تو اس کا انجام بادشاہت کی صورت میں نکلتا تھا، اور ہمارے بعد عنقریب تم بھی بادشاہوں کا تجربہ کرو گے۔

9292

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9292

Sahih

۔ (۹۲۹۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَۃَ بْنَ غَزْوَانَ یَقُوْلُ: (وَفِی لَفْظٍ: خَطَبَنَا عُتْبَۃُ بْنُ غَزْوَانَ عَلَی الْمِنْبَرِ) لَقَدْ رَاَیْتُنِی سَابِعَ سَبْعَۃٍ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا لَنَا طَعَامٌ اِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَۃِ، حَتّٰی قَرَحَتْ اَشْدَ اقُنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۷۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عتبہ بن غزوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم سات افراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارا کھانا صرف اور صرف لوبیے جیسی ترکاری کے پتے تھے، اس سے ہمارے گوشۂ دہن زخمی ہونے لگتے تھے۔

9293

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9293

Sahih

۔ (۹۲۹۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسٰی، قاَلَ: سَمِعْتُ اَبِییَقُوْلُ: کُنْتُ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِالْاِسْکَنْدَرِیَّۃِ، فَذَکَرُوْا مَاھُمْ فِیْہِ مِنَ الْعَیْشِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِّنَ الصَّحَابَۃِ لَقَدْ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَا شَبِعَ اَھْلُہُ مِنَ الْخُبْزِ الْغَلِیْثِ۔ قَالَ: مُوْسٰی: یَعْنِی الشَّعِیْرَ وَالسَّلْتَ اِذَا خُلِطَا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ موسیٰ کے باپ علی بن رباح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اسکندریہ میں سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس تھا، لوگوں نے اپنی خوشحالی کا ذکر کیا، اس موقع پر ایک صحابی نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس حال میں فوت ہوئے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل و عیال نے جَو اور سَلْت کی مکس روٹی نہیں کھائی۔

9294

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9294

Sahih

۔ (۹۲۹۴)۔ عَنْ اَبِی حَرْبٍ اَنَّ طَلْحَۃَ حَدَّثَہُ وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ وَلَیْسَ لِی بِھَا مَعْرِفَۃٌ، فَنَزَلْتُ فِی الصُّفَّۃِ مَعَ رَجُلٍ، فَکَانَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ کُلَّ یَوْمٍ مُدٌّ مِّنْ تَمْرٍ، فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ مِّنْ اَصْحَابِ الصُّفَّۃِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ، فَصَعِدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَطَبَ ثُمَّ قَالَ: ((وَاللّٰہِ لَوْ وَجَدْتُ خُبْزًا، اَوْ لَحْمًا لَاَطْعَمْتُکُمُوْہُ، اَمَا اِنَّکُمْ تُوْشِکُوْنَ اَنْ تُدْرِکُوْا، وَمَنْ اَدْرَکَ ذَلِکَ مِنْکُمْ اَنْ یُّرَاحَ عَلَیْکُمْ بِالْجِفَانِ، وَتَلْبَسُوْنَ مِثْلَ اَسْتَارِالْکَعْبَۃِ۔)) قَالَ: فَمَکَثْتُ اَنَا وَصَاحِبِی ثَمَانِیَۃَعَشَرََیَوْمًا وَلَیْلَۃً مَالَنَا طَعَامٌ اِلَّا الْبَرِیْرَ، حَتّٰی جِئْنَا اِلَی اِخْوَانِنَا مِنَ الْاَنْصَارِ فَوَاسَوْنَا، وَکَانَ خَیْرَ مَا اَصَبْنَا ھٰذَا التَّمْرُ ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے ہیں، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا، جبکہ میری کسی سے معرفت نہیں تھی، میں صفہ میں ایک آدمی کے ساتھ ٹھہرا، مجھے اور اس کو روزانہ ایک مُدّ کھجوروں کا ملتا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو اصحاب ِ صفہ میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کھجور نے ہمارے پیٹ جلا دیئے ہیں اور گھٹیا روئی کے سخت کپڑے ہمارے جسم کو کھا گئے ہیں،یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میرے پاس روٹی یا گوشت ہوتا تو میں تم کو ضرور کھلاتا، خبردار! قریب ہے کہ تم ان نعمتوں کو پا لو، تم میں سے جس نے اس چیز کو پا لیا کہ تم پر بڑی بڑی دیگیں لائی جائیں، (تو پھر تو اس کو کفایت کرے گا) اور تم کعبہ کے پردوں کی طرح کپڑے پہنو گے۔ پھر اٹھارہ دنوں تک میرے اور میرے ساتھی کا کھانا پیلو کے درخت کا کالا پھل رہا، پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس گئے، پس انھوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا، بہرحال ہم کو وہاں سے بھی کھجور ہی ملی، البتہ وہ بہترین قسم کی تھی۔

9295

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9295

Sahih

۔ (۹۲۹۵)۔ عَنْ شَقِیْقٍ، عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عُمَرَ وَاَبِی مَسْعُودٍ (یَعْنِی اَبَا مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَاْمُرُ بِالصَّدَقَۃِ، فَیَنْطَلِقُ اَحَدُنَا فَیُحَامِلُ فَیَجِیْئُ بِالْمُدِّ، وَاِنَّ لِبَعْضِھِمِ الْیَوْمَ مَائْۃَ اَلْفٍ۔ قَالَ شَقِیْقٌ: فَرَاَیْتُ اَنَّہُ یُعَرِّضُ بِنَفْسِہِ ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عتبہ بن عمر اور سیدنا ابو مسعود بدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صدقے کا حکم دیتے تھے، پس ہم میں سے ایک آدمی جاتا اور بوجھ اٹھانے کا کام کر کے ایک مد لے کر آتا، جبکہ آج بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم موجود ہے۔ شقیق کہتے ہیں: میرا خیال ہے وہ ایک لاکھ والے سے اپنے آپ کو مراد لیتے تھے۔

9296

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9296

Sahih

۔ (۹۲۹۶)۔ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لَمَّا احْتُضِرَ سَلْمَانُ بَکٰی، وَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَھِدَ اِلَیْنَا عَھْدًا، فَتَرَکْنَا مَا عَھِدَ اِلَیْنَا، اَنْ یَّکُوْنَ بُلْغَۃُ اَحَدِنَا مِنَ الدُّنْیَا کَزَادِ الرَّاکِبِ، قَالَ: ثُمَّ نَظَرْنَا فِیْمَا تَرَکَ فَاِذَا قِیْمَۃُ مَاتَرَکَ بِضْعَۃٌ وَّعِشْرُوْنَ دِرْھَمًا، اَوْ بِضْعَۃٌ وَّثَلَاثُوْنَ دِرْھَمًا۔ (مسند احمد: ۲۴۱۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حسن بصری کہتے ہیں: جب سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کاوقت قریب ہوا تو وہ رونے لگ گئے اور انھوں نے کہا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک نصیحت کی تھی، لیکن ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وصیت کو چھوڑ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نصیحت یہ تھی کہ سوار کے زادِ راہ کی طرح ہماری روزی بقدر ضرورت ہونی چاہیے۔ پھر سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جو ترکہ چھوڑ کر فوت ہوئے، جب ہم نے اس کو دیکھا تو وہ پچیس چھبیس یا پینتیس چھتیس درہموں کی قیمت کا تھا۔

9297

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9297

Sahih

۔ (۹۲۹۷)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیَکْفِ اَحَدَکُمْ مِنَ الدُّنْیَا خَادِمٌ وَمَرْکَبٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کو دنیا سے ایک خادم اور ایک سواری کافی ہونی چاہیے۔

9298

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #9298

Sahih

۔ (۹۲۹۸)۔ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ اَبُوْذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اِنِّی لَاَقْرَبُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اَقَرَبَکُمْ مِنِّییَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْیَا کَھَیْئَتِہِیَوْمَ تَرَکْتُہُ عَلَیْہِ، وَاِنَّہُ وَاللّٰہِ مَامِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْھَا بِشَیْئٍ غَیْرِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک میں روزِ قیامت سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک قیامت کے دن وہ شخص سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا، جو دنیا سے اسی حالت پر جائے گا، جس حالت میں میں اس کو چھوڑ رہا ہوں۔ اور اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ہر آدمی کسی نہ کسی طرح دنیا میں ملوث ہوا ہے، ما سوائے میرے۔