Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1687

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{اَفَرَاَیْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًا} کی تفسیر

1 hadith in this chapter

8677

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8677

Sahih

۔ (۸۶۷۷)۔ عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ: قَالَ خَبَّابُ بْنُ الْأَ رَتِّ: کُنْتُ قَیْنًا بِمَکَّۃَ فَکُنْتُ أَ عْمَلُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، فَاجْتَمَعَتْ لِیْ عَلَیْہِ دَرَاھِمُ، فَجِئْتُ اَتَقَاضَاہُ، فَقَالَ: لَا أَقْضِیَنَّکَ حَتّٰی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَ کْفُرُ بِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَمُوْتَ ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: فَاِذَا بُعِثْتُ کَانَ لِیْ مَالٌ وَوَلَدٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِنِّی اِذَا مِتُّ ثُمَّّ بُعِثْتُ وَ لِیَ ثَمَّ مَالٌ وَ وَلَدٌ فَأُعْطِیْکَ) قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی {أَ فَرَأَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِآیَاتِنَا وَقَالَ لَأُوْتَیَنَّ مَالًا وَ وَلَدًا} حَتّٰی بَلَغَ {فَرْدًا} [مریم: ۷۷۔ ۸۰] (مسند احمد: ۲۱۳۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مسروق سے مروی ہے کہ سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں مکہ میں لوہار تھا، میں نے عا ص بن وائل کا کام کیا اور میرے کچھ درہم اس پر جمع ہوگئے، ایک دن میں ان کا تقاضا کرنے کے لیے اس کے پاس آیا، لیکن اس نے کہا: میں تجھے اس وقت تک یہ درہم نہیں دوں گا، جب تک تو محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے ساتھ کفر نہیں کرے گا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کفر نہیں کروں گا، یہاں تک کہ ایسا نہیں ہو جاتاکہ تو مر جائے اور پھر تجھے اٹھا دیا جائے، اس نے آگے سے کہا:جب مجھے دوبارہ اٹھایا جائے گا تو میرے لیے مال اور اولاد ہو گی، ایک روایت میں ہے: اس نے کہا: پس بیشک جب میں مر جاؤں گا اور پھر مجھے اٹھایا جائے گا تو وہاں میرا مال ہو گا اور میری اولاد ہوگی، اُس وقت میں تجھے یہ قرض چکا دوں گا، سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب میں نے اس کی یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {اَفَرَئَ یْتَ الَّذِیْ کَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا۔ اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًا۔ کَلَّا سَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَنَمُدُّ لَہ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا۔ وَّنَرِثُہ مَا یَقُوْلُ وَیاْتِیْنَا فَرْدًا۔} (سورۂ مریم: ۷۷ تا ۸۰) کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی، کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟ ہر گز نہیں،یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے، یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے، اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا۔