Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 150 · Chapter 1686

تفسیر و اسباب نزول کا بیان

{وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} کی تفسیر

3 hadiths in this chapter

8674

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8674

Sahih

۔ (۸۶۷۴)۔ عَنْ اُّمِّ مُبَشِّرٍ أَ نَّہا سَمِعَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَ حَفْصَۃَیَقُولُ: ((لَا یَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَائَ اللّٰہُ مِنْ أَ صْحَابِ الشَّجَرَۃِ أَ حَدٌ الَّذِینَ بَایَعُوْا تَحْتَہَا۔)) فَقَالَتْ: بَلٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَانْتَہَرَہَا، فَقَالَتْ حَفْصَۃُ: {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْ قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا} [مریم: ۷۲]۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام مبشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پردرخت کے نیچے میری بیعت کی تھی، ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہو گا۔ سیدنا حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ڈانٹا تو انھوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا}… اوربے شک تم میں سے ہر ایک دوزخ میں وارد ہونے والا ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایاہے: {ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا}… پھر ہم ان لوگوں کو جو پرہیز گار ہوئے، دوزخ سے نجات دیں گے اور ظالموں کو ہم اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے۔

8675

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8675

Zaeef

۔ (۸۶۷۵)۔ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زِیَادٍ البُرْسَانِیِّ، عَنْ أَ بِی سُمَیَّۃَ، قَالَ: اخْتَلَفْنَا ہَاہُنَا فِی الْوُرُودِ، فَقَالَ بَعْضُنَا: لَا یَدْخُلُہَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُنَا: یَدْخُلُونَہَا جَمِیعًا، ثُمَّ یُنَجِّیاللّٰہُ الَّذِینَ اتَّقَوْا، فَلَقِیتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ فَقُلْتُ لَہُ: إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِی ذٰلِکَ الْوُرُودِ، فَقَالَ بَعْضُنَا: لَا یَدْخُلُہَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُنَا: یَدْخُلُونَہَا جَمِیعًا، فَأَ ہْوٰی بِإِصْبَعَیْہِ إِلٰی أُذُنَیْہِ وَقَالَ: صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَ کُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((الْوُرُودُ الدُّخُولُ لَا یَبْقَی بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَہَا، فَتَکُونُ عَلَی الْمُؤْمِنِ بَرْدًا وَسَلَامًا کَمَا کَانَتْ عَلٰی إِبْرَاہِیمَ حَتّٰی إِنَّ لِلنَّارِ أَ وْ قَالَ لِجَہَنَّمَ ضَجِیجًا مِنْ بَرْدِہِمْ، ثُمَّ یُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِینَ اتَّقَوْا وَیَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو سمیہ کہتے ہیں:ہم نے دوزخ میں وارد ہونے کے بارے میں اختلاف کیا، بعض نے کہا: اس میں مومن داخل نہ ہو گا، لیکن بعض نے کہا: سب داخل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کو نجات دیں گے۔ میں سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے ملا اور میں نے کہا: ہم نے دوزخ میں وارد ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، بعض کہتے ہیں کہ مومن اس میں داخل نہیں ہوں گے، لیکن بعض نے کہا کہ سب داخل ہوں گے، انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں کو لگائیں اور کہا: یہ بہرے ہو جائیں، اگر میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو: وارد ہونے سے مراد داخل ہونا ہے، ہر نیکو کار اور اور بدکار اس جہنم میں داخل ہو گا، لیکن وہ آگ ایمان والوں کے لیے اسی طرح ٹھنڈک اور سلامتی والی ہوگی، جیسے ابراہیم علیہ السلام پر تھی،یہاں تک کہ ٹھنڈک کی وجہ سے ان کی دوزخ میں آواز آئے گی، پھر یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑیں گے۔

8676

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8676

Sahih

۔ (۸۶۷۶)۔ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ:{ وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} [مریم: ۷۱] قَالَ: یَدْخُلُونَہَا أَ وْ یَلِجُونَہَا، ثُمَّ یَصْدُرُونَ مِنْہَا بِأَ عْمَالِہِمْ، قُلْتُ لَہُ: إِسْرَائِیلُ حَدَّثَہُ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ، ہُوَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ وْ کَلَامًا ہٰذَا مَعْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۴۱۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: تمام لوگ اس میں داخل ہوں گے، پھر اپنے اعمال کے بل بوتے پر باہر آئیں گے، عبد الرحمن بن مہدی نے امام شعبہ سے کہا: اسرائیل تو اس کو مرفوع بیان کرتے ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہے، یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کلام کے ہم معنی ہے۔