Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 148 · Chapter 1525

نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب

ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں

11 hadiths in this chapter

8453

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8453

Zaeef

۔ (۸۴۵۳)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: کَمْ تَقْرَئُ وْنَ سُورَۃَ الْأَ حْزَابِ؟ قَالَ: بِضْعًا وَسَبْعِینَ آیَۃً، قَالَ: لَقَدْ قَرَأْتُہَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَ الْبَقَرَۃِ أَ وْ أَ کْثَرَ مِنْہَا، وَإِنَّ فِیہَا آیَۃَ الرَّجْمِ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے پوچھا: تم لوگ سورۂ احزاب کی کتنی آیات شمار کرتے ہو؟ میں (زِرّ بن حبیش) نے کہا: کوئی چھہتر ستتر آیات، انھوں نے کہا: میں نے اس سورت کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پڑھا تھا، یہ سورۂ بقرہ جتنی تھییا اس سے بھی لمبی تھی اور اس میں رجم والی آیت بھی تھی۔

8453

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8453

Sahih

۔ (۸۴۵۳م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ زِرٍّ قَالَ: قَالَ لِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: کَأَ یِّنْ تَقْرَأُ سُورَۃَ الْأَ حْزَابِ أَ وْ کَأَ یِّنْ تَعُدُّہَا؟ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: ثَلَاثًا وَسَبْعِینَ آیَۃً، فَقَالَ: قَطُّ لَقَدْ رَأَ یْتُہَا وَإِنَّہَا لَتُعَادِلُ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ وَلَقَدْ قَرَأْنَا فِیہَا ((اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) زر کہتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے پوچھا: تم سورۂ احزاب کی کتنی آیات پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: تہتر آیتیں،انھوں نے کہا: بس، میں نے اس سورت کو دیکھا تھا کہ یہ سورۂ بقرہ کے برابر تھی، ہم نے اس میں یہ آیت بھی پڑھی تھی: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ … جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت (یعنی شادی شدہ مرد اور عورت) زنا کریں تو انہیں رجم کر دو، یہ قطعی حکم ہے اور اللہ کی طرف سے سزا ہے، اللہ تعالیٰ جاننے والے حکمت والا ہے۔)

8454

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8454

Sahih

۔ (۸۴۵۴)۔ عَنْ کَثِیرِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ: کَانَ ابْنُ الْعَاصِ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ یَکْتُبَانِ الْمَصَاحِفَ فَمَرُّوا عَلٰی ہٰذِہِ الْآیَۃِ، فَقَالَ زَیْدٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: {الشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ} فَقَالَ عُمَرُ: لَمَّا أُنْزِلَتْ ہٰذِہِ أَ تَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ: أَ کْتِبْنِیہَا، قَالَ شُعْبَۃُ: فَکَأَ نَّہُ کَرِہَ ذٰلِکَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَ لَا تَرٰی أَ نَّ الشَّیْخَ إِذَا لَمْ یُحْصَنْ جُلِدَ، وَأَ نَّ الشَّابَّ إِذَا زَنٰی وَقَدْ أُحْصِنَ رُجِمَ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ کثیر بن صلت کہتے ہیں: سیدنا ابن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اورسیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مصحف لکھتے تھے، جب وہ اس آیت پر پہنچے تو سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ آیت بھی پڑھتے تھے: اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ إِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوہُمَا الْبَتَّۃَ۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ آیت مجھے لکھوا دیجئے، لیکن یوں محسوس ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز کو ناپسند کیا۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جب بوڑھا آدمی شادی شدہ نہ ہو تو اس کو زنا کی وجہ سے کوڑے مارے جاتے ہیں اور جب کوئی شادی شدہ نوجوان زنا کر لے تو اس کو رجم کیا جاتا ہے۔

8455

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8455

Zaeef

۔ (۸۴۵۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَقَدْ أُنْزِلَتْ آیَۃُ الرَّجْمِ، وَرَضَعَاتُ الْکَبِیرِ عَشْرًا، فَکَانَتْ فِی وَرَقَۃٍ تَحْتَ سَرِیرٍ فِی بَیْتِی، فَلَمَّا اشْتَکٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَشَاغَلْنَا بِأَمْرِہِ، وَدَخَلَتْ دُوَیْبَّۃٌ لَنَا فَأَکَلَتْہَا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں رجم کی آیت اور بڑے آدمی کے لئے دس دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت کرنے والی آیت،یہ آیات میرے گھر میں چارپائی کے نیچے ایک کاغذ میں پڑی تھیں، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمارہوئے اور ہم آپ کے ساتھ مشغول ہوگئے تو ہمارا ایک جانور اندر داخل ہوا اور وہ ورقہ کھا گیا۔

8456

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8456

Sahih

۔ (۸۴۵۶)۔ عَنْ زِرٍّ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَ مَرَنِی أَ نْ أَ قْرَأَ عَلَیْکَ۔))، قَالَ: فَقَرَأَ عَلَیَّ {لَمْ یَکُنْ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ رَسُولٌ مِنْ اللّٰہِ یَتْلُو صُحُفًا مُطَہَّرَۃً۔ فِیہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْہُم الْبَیِّنَۃُ۔ إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ} قَالَ شُعْبَۃُ: ثُمَّ قَرَأَ آیَاتٍ بَعْدَہَا، ثُمَّ قَرَأَ {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ} قَالَ: ثُمَّ خَتَمَہَا بِمَا بَقِیَ مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۲۲) (۸۴۵۶م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِV قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَ مَرَنِی أَ نْ أَ قْرَأَ عَلَیْکَ الْقُرْآنَ۔))، قَالَ: فَقَرَأَ {لَمْ یَکُنْ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ} قَالَ: فَقَرَأَ فِیہَا: {وَلَوْ أَ نَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذٰلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَاللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ} قَالَ شُعْبَۃُ: ثُمَّ قَرَأَ آیَاتٍ بَعْدَہَا ثُمَّ قَرَأَ : {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔}، قَالَ: ثُمَّ خَتَمَہَا بِمَا بَقِیَ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۵۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ پرسورۂ بینہ کی تلاوت کی: {لَمْ یَکُنْ الَّذِینَ کَفَرُوْا مِنْ أَ ہْلِ الْکِتَابِ وَالْمُشْرِکِینَ مُنْفَکِّینَ حَتّٰی تَأْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ رَسُولٌ مِنْ اللّٰہِ یَتْلُو صُحُفًا مُطَـہَّرَۃً۔ فِیہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ۔ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ۔ وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْ یُکْفَرَہُ} شعبہ راوی نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بعد مزید آیات پڑھیں، پھر اس آیت کی تلاوت کی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ} پھر سورت کے باقی حصے کے ذریعے اس کی تکمیل کی۔ ۔ (دوسری سند) سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورۂ بینہ کی تلاوت کی اور اس میں یہ آیات بھی پڑھیں: {وَلَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَ لَ وَادِیًا مِنْ مَالٍ فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَانِیًا فَأُعْطِیَہُ لَسَأَ لَ ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ، وَإِنَّ ذَلِکَ الدِّینَ الْقَیِّمَ، عِنْدَ اللّٰہِ الْحَنِیفِیَّۃُ غَیْرُ الْمُشْرِکَۃِ وَلَا الْیَہُودِیَّۃِ وَلَا النَّصْرَانِیَّۃِ، وَمَنْ یَفْعَلْ خَیْرًا فَلَنْیُکْفَرَہُ} شعبہ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید آیات کی تلاوت کی اور پھر یہ آیت پڑھی: {لَوْ أَ نَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَیْنِ مِنْ مَالٍ لَسَأَ لَ وَادِیًا ثَالِثًا، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔} پھر آگے سورت مکمل کر دی۔

8457

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8457

Zaeef

۔ (۸۴۵۷)۔ عَنْ أَ بِی وَاقِدٍ اللَّیْثِیِّ قَالَ: کُنَّا نَأْتِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أُنْزِلَ عَلَیْہِ فَیُحَدِّثُنَا، فَقَالَ لَنَا ذَاتَ یَوْمٍ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: إِنَّا أَ نْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ، وَلَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِ ثَانٍ، وَلَوْ کَانَ لَہُ وَادِیَانِ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِمَا ثَالِثٌ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوواقد لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کوئی حکم نازل ہوتا توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہم کو بیان کرتے، ایک روز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: إِنَّا أَ نْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیتَائِ الزَّکَاۃِ، وَلَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِ ثَانٍ، وَلَوْ کَانَ لَہُ وَادِیَانِ لَأَ حَبَّ أَ نْ یَکُونَ إِلَیْہِمَا ثَالِثٌ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ …بیشک ہم نے نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کے لیے مال اتاراہے، اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی ہو تو یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس دوسری وادی ہو، اگر اس کے لئے دو وادیاں ہوں، تو وہ پسند کرتا ہے کہ تیسری بھی ہو جائے، دراصل آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف توبہ کرتا ہے۔

8458

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8458

Sahih

۔ (۸۴۵۸)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَ رْقَمَ قَالَ: لَقَدْ کُنَّا نَقْرَأُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی إِلَیْہِمَا آخَرَ۔ وَلَا یَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ}۔ (مسند احمد: ۱۹۴۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں یہ آیات پڑھا کرتے تھے: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ لَابْتَغٰی إِلَیْہِمَا آخَرَ۔ وَلَا یَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ۔ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} اگرآدم کے بیٹے کے پاس سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، آدم کے بیٹے کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔

8459

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8459

Sahih

۔ (۸۴۵۹)۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی عُمَرَ یَسْأَ لُہُ، فَجَعَلَ یَنْظُرُ إِلٰی رَأْسِہِ مَرَّۃً وَإِلٰی رِجْلَیْہِ أُخْرٰی، ہَلْ یَرٰی عَلَیْہِ مِنَ الْبُؤْسِ شَیْئًا؟ ثُمَّ قَالَ لَہُ عُمَرُ: کَمْ مَالُکَ؟ قَالَ: أَ رْبَعُونَ مِنْ الْإِبِلِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُلْتُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ لَابْتَغَی الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَ} فَقَالَ عُمَرُ: مَا ہٰذَا؟ فَقُلْتُ: ہٰکَذَا أَ قْرَأَ نِیہَا أُبَیٌّ، قَالَ: فَمَرَّ بِنَا إِلَیْہِ، قَالَ: فَجَائَ إِلٰی أُبَیٍّ، فَقَالَ: مَا یَقُولُ ہٰذَا؟ قَالَ أُبَیٌّ: ہٰکَذَا أَ قْرَأَ نِیہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: أَ فَأُثْبِتُہَا فَأَ ثْبَتَہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۴۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، آپ ؓکبھی تو اس کے سر کی جانب دیکھتے اور کبھی اس کے پاؤں کی طرف دیکھتے کہ اس پر تنگدستی کی کوئی علامت بھی ہے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تیرا کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: چالیس اونٹ ہیں، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: {لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ ذَہَبٍ لَابْتَغٰی الثَّالِثَ، وَلَا یَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ} … اگر آدم کے بیٹے کی سونے کی دو وادیاں ہوں، تو یہ تیسری تلاش کرتا ہے، آدم کے بیٹے کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اسی طرح پڑھایا ہے۔ پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس سے گزرے اور سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچ گئے اور ان سے کہا: یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایسے ہییہ آیات پڑھائیں تھیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو پھر کیا میں ان کو برقرار رکھوں، پس پھر انھوں نے ان کو برقرار رکھا۔

8460

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8460

Sahih

۔ (۸۴۶۰)۔ عَنْ أَ نَسٍ قَالَ: مَا وَجَدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی سَرِیَّۃٍ مَا وَجَدَ عَلَیْہِمْ، کَانُوا یُسَمَّوْنَ الْقُرَّائَ، قَالَ سُفْیَانُ: نَزَلَ فِیہِمْ {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} قِیلَ لِسُفْیَانَ: فِیمَنْنَزَلَتْ؟ قَالَ: فِی أَہْلِ بِئْرِ مَعُونَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۱۱) (۸۴۶۰م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَنَسٍ اَیْضًا إِنَّا قَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} ثُمَّ رُفِعَ ذٰلِکَ بَعْدُ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: ثُمَّ نُسِخَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنے غمگین کبھی نہیں ہوئے جتنے غمگین آپ قراء کے لشکر پر ہوئے تھے، ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: {بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَ نَّا قَدْ رَضِینَا وَرَضِیَ عَنَّا} … ہماری قوم کو یہ پیغام دے دو کہ ہم اللہ پر راضی ہوگئے اور وہ ہم سے راضی ہو گیا، کسی نے سفیان سے کہا: یہ آیت کن کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا: بئرمعونہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔

8461

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8461

Zaeef

۔ (۸۴۶۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ فِی الْقُرْآنِ بِغَیْرِ عِلْمٍ فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہٗمِنَالنَّارِ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر علم کے قرآن مجید کے بارے میں بات کی، وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔

8462

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8462

Sahih

۔ (۸۴۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ، مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ، وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ، فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ، فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاء َ تَأْوِیلِہِ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلَّا اللّٰہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ، یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَ لْبَابِ} [آل عمران: ۷] فَإِذَا رَأَیْتُمُ الَّذِینَیُجَادِلُونَ فِیہِ، فَہُمُ الَّذِینَ عَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی وہ فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے بچو۔