Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 148 · Chapter 1524

نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب

قرآن مجید کے نسخ کا بیان

3 hadiths in this chapter

8450

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8450

Sahih

۔ (۸۴۵۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: کَانَ یَعْرِضُ (یَعْنِیْ: جِبْرِیْلُ) عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الَّذِیْ قُبِضَ فِیْہِ عَرَضَ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۱۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ہر سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن مجید پیش کیا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی، اس سال انھوں نے دو بار پیش کیا تھا۔

8451

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8451

Sahih

۔ (۸۴۵۱)۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: عَلِیٌّ أَ قْضَانَا، وَأُبَیٌّ أَ قْرَؤُنَا، وَإِنَّا لَنَدَعُ کَثِیرًا مِنْ لَحْنِ أُبَیٍّ، وَأُبَیٌّیَقُولُ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اَخَذْتُ مِنْ فَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَلَا أَ دَعُہُ لِشَیْئٍ، وَاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَییَقُولُ: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا}۔ (مسند احمد: ۲۱۴۰۰) (۸۴۵۱م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ رضی اللہ عنہ عَلٰی مِنْبَرِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: عَلِیٌّ رضی اللہ عنہ أَ قْضَانَا، وَأُبَیٌّ رضی اللہ عنہ أَقْرَؤُنَا، وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ قَوْلِ أُبَیٍّ شَیْئًا، وَإِنَّ أُبَیًّا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَشْیَائَ، وَأُبَیٌّ یَقُولُ: لَا أَ دَعُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَدْ نَزَلَ بَعْدَ أُبَیٍّ کِتَابٌ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قضا و عدالت کے ماہر ہیں اور سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم ان کی قراء ت کی کئی آیات اس لیے چھوڑ دیتے ہیں (کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں)، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ آیات سنی ہیں، سو میں ان کو کسی چیز کی بنا پر نہیں چھوڑوں گا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مَا نَنْسَخْ مِنْ آیَۃٍ أَ وْ نُنْسِہَا نَأْتِ بِخَیْرٍ مِنْہَا أَ وْ مِثْلِہَا} … جو آیت ہم منسوخ کریں یا ترک کر دیں تو ہم اس سے بہتر لے آتے ہیں یا اس کی مثل لے آتے ہیں۔ ۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہم سے خطاب کیا، جبکہ وہ منبر نبوی پر تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سب سے زیادہ قضا و عدل کے ماہرہیں اور سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہم میں سے سب سے زیادہ قراء ت کے ماہر ہیں، لیکن ہم سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تلاوت کردہ بعض آیات کو چھوڑ دیتے ہیں، بیشک سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ آیات سنی ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جو کچھ سنا ہے، وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے، حالانکہ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعد بھی قرآن مجید کا بعض حصہ نازل ہوتا رہا (جس سے پہلے والا نازل شدہ بعض حصہ منسوخ ہوتا رہا)۔

8452

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8452

Sahih

۔ (۸۴۵۲)۔ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ: صَلَّی بِنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْفَجْرَ وَتَرَکَ آیَۃً، فَجَائَ أُبَیٌّ وَقَدْ فَاتَہُ بَعْضُ الصَّلَاۃِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نُسِخَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ أَ وْ أُنْسِیتَہَا؟ قَالَ: ((لَا بَلْ أُنْسِیتُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی اور قراء ت کرتے کرتے ایک آیت چھوڑ دی، جب میں آیا تو نماز کا کچھ مجھ سے چھوٹ گیا تھا، بہرحال جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں بھول گیاہوں۔