Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 148 · Chapter 1523

نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

8448

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8448

Sahih

۔ (۸۴۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْرِضُ الْکِتَابَ عَلَی جِبْرِیلَ علیہ السلام فِی کُلِّ رَمَضَانَ، فَإِذَا أَ صْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اللَّیْلَۃِ الَّتِییَعْرِضُ فِیہَا مَا یَعْرِضُ، أَصْبَحَ وَہُوَ أَ جْوَدُ مِنْ الرِّیحِ الْمُرْسَلَۃِ، لَا یُسْأَ لُ عَنْ شَیْئٍ إِلَّا أَعْطَاہُ، فَلَمَّا کَانَ فِی الشَّہْرِ الَّذِی ہَلَکَ بَعْدَہُ عَرَضَ عَلَیْہِ عَرْضَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہر ماہِ رمضان میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام پر پیش کرتے تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس رات کے بعد صبح کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے، آپ سے جس چیز کا سوال کیا جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عطا کر دیتے، جب رمضان کا وہ مہینہ آ گیا، جس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے تھے، اس مہینے میں دو بار قرآن مجید پیش کیا تھا۔

8449

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8449

Sahih

۔ (۸۴۴۹)۔ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ: أَ یُّ الْقِرَائَتَیْنِ کَانَتْ أَ خِیرًا قِرَائَۃُ عَبْدِاللّٰہِ أَوْ قِرَائَۃُ زَیْدٍ؟ قَالَ: قُلْنَا قِرَائَۃُ زَیْدٍ، قَالَ: لَا إِلَّا1 أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَی جَبْرَائِیلَ کُلَّ عَامٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ فِی الْعَامِ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ عَرَضَہُ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ، وَکَانَتْ آخِرَ الْقِرَائَ ۃِ قِرَائَ ۃُ عَبْدِ اللّٰہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: دو قراء توں میں سے آخری قراء ت کونسی تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییا سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی؟ مجاہد کہتے ہیں: ہم نے کہا: سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والی آخری ہے، انہوں ! بعض نسخوں میں اِلَّا نہیں ہے اور ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا ہے۔ نے کہا: نہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام پر ہر سال قرآن مجید پیش کرتے تھے، لیکن جس سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان پر قرآن مجید دو بار پیش کیا اور آخری قرات سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تھی۔

8449

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8449

Sahih

۔ (۸۴۴۹م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٖ) عَنْأَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَ یُّ الْقِرَائَتَیْنِ تَعُدُّونَ أَ وَّلَ؟ قَالُوْا: قِرَائَۃُ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: لَا بَلْ ہِیَ الْآخِرَۃُ کَانَ یُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُلِّ عَامٍ مَرَّۃً، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الَّذِی قُبِضَ فِیہِ عُرِضَ عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ، فَشَہِدَہُ عَبْدُ اللّٰہِ فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْہُ وَمَا بُدِّلَ۔ (مسند احمد: ۳۴۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: تم دو قراء توں میں سے کونسی قرات پہلی شمار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والی قراء ت؟ انھوں نے کہا: بلکہ یہ آخری ہے، ہر سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایک بار قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا۔ جس سال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی، اس سال دو بار پیش کیا گیا، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس پیشی کے وقت حاضر تھے، سو انھوں نے جان لیا کہ قرآن مجید کا کونسا حصہ منسوخ ہوا اور کونسا تبدیل ہوا ہے۔