Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 148 · Chapter 1522

نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب

اس کا بیان کہ قرآن کی سو رتوں اور آیات میں سے کون سا حصہ آخر میں نازل ہوا

3 hadiths in this chapter

8445

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8445

Sahih

۔ (۸۴۴۵)۔ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ: آخِرُ سُورَۃٍ نَزَلَتْ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَامِلَۃً بَرَائَۃٌ، وَآخِرُ آیَۃٍ نَزَلَتْ خَاتِمَۃُ سُورَۃِ النِّسَائِ {یَسْتَفْتُونَکَ} إِلٰی آخِرِہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۸۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کامل سورت جو آخر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نازل ہوئی وہ سورۂ براء ت ہے اور سب سے آخرمیں نازل ہونے والی آیت سورۂ نساء کی آخری آیت{یَسْتَفْتُونَکَ…} ہے۔

8446

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8446

Sahih

۔ (۸۴۴۶)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقَالَتْ: ہَلْ تَقْرَأُ سُورَۃَ الْمَائِدَۃِ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ فَإِنَّہَا آخِرُ سُورَۃٍ نَزَلَتْ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِیہَا مِنْ حَلَالٍ فَاسْتَحِلُّوہُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِیہَا مِنْ حَرَامٍ، فَحَرِّمُوہُ وَسَأَ لْتُہَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: الْقُرْآنُ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گیا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم سورۂ مائدہ پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: یہ نازل ہونے والی آخری سورت ہے،لہٰذا اس میں جو حلال پاؤ، اسے حلال سمجھو اورجس چیز کو اس میں حرام پاؤ، اسے حرام سمجھو۔ پھر میں نے ان سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، انھوں نے کہا: آپ کا اخلاق قرآن مجید تھا۔

8447

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8447

Sahih

۔ (۸۴۴۷)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَ مِنْ الْقُرْآنِ آیَۃُ الرِّبَا، وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُبِضَ وَلَمْ یُفَسِّرْہَا، فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّیبَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: قرآن مجید کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت سود والی ہے، لیکن ہوا یوں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابھی تک اس کی تفسیر نہیں کی تھی، پس سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں سود کا شبہ ہو، اس کوبھی چھوڑ دو۔