Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 148 · Chapter 1526

نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب

قرآن مجید کے ساتھ جھگڑا کرنے یا اس کی تاویل کرنے یا بغیر علم کے اپنی رائے کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے والے کی وعید کا بیان

6 hadiths in this chapter

8463

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8463

Sahih

۔ (۸۴۶۳)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا أَ خَافُ عَلٰی أُمَّتِی الْکِتَابَ وَاللَّبَنَ۔)) قَالَ: قِیلَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا بَالُ الْکِتَابِ؟ قَالَ: ((یَتَعَلَّمُہُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ یُجَادِلُونَ بِہِ الَّذِینَ آمَنُوا۔)) فَقِیلَ: وَمَا بَالُ اللَّبَنِ؟ قَالَ: ((أُنَاسٌ یُحِبُّونَ اللَّبَنَ، فَیَخْرُجُونَ مِنْ الْجَمَاعَاتِ، وَیَتْرُکُونَ الْجُمُعَاتِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر کتاب اور دودھ کے بارے میں ڈر ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتاب کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے منافق بھی سیکھتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ایمانداروں سے جھگڑتے ہیں۔ پھر کسی نے کہا: دودھ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ دودھ پینے کے لئے باہر وادیوں میں چلے جائیں گے اور جماعت سے خارج ہو جائیں گے اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔

8464

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8464

Sahih

۔ (۸۴۶۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((ہَلَاکُ أُمَّتِی فِی الْکِتَابِ وَاللَّبَنِ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَا الْکِتَابُ وَاللَّبَنُ؟ قَالَ: ((یَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَیَتَأَ وَّلُونَہُ عَلٰی غَیْرِ مَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَیُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَیَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَیَبْدُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میری امت کی ہلاکت کا باعث کتاب اور دودھ ہے لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! کتاب اور دودھ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: لوگ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کریں گے اور جس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسے اتارا ہے اس کے علاوہ غلط تاویلیں کریں گے اورجانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو کر دیہاتوں میں چلے جائیں گے اورجماعت اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔

8465

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8465

Sahih

۔ (۸۴۶۵)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنِّی أَ خَافُ عَلٰی أُمَّتِی اثْنَتَیْنِ الْقُرْآنَ وَاللَّبَنَ، أَ مَّا اللَّبَنُ فَیَبْتَغُونَ الرِّیفَ وَیَتَّبِعُونَ الشَّہَوَاتِ وَیَتْرُکُونَ الصَّلَوَاتِ، وَأَ مَّا الْقُرْآنُ فَیَتَعَلَّمُہُ الْمُنَافِقُونَ فَیُجَادِلُونَ بِہِ الْمُؤْمِنِینَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میں اپنی امت پر دو چیزوں کے بارے میں فکر مند ہوں۔ قرآن مجید اوردودھ، لوگ ہریالی، سبزہ تلاش کریں گے خواہشات کی پیروی کریں گے نمازیں چھوڑ دیں گے اورقرآن مجید منافق قسم کے لوگ سیکھیں گے اور اس کو ذریعہ بنا کر ایمانداروں سے جھگڑیں گے۔

8466

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8466

Sahih

۔ (۸۴۶۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّیَقُولُ: کُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَخَرَجَ عَلَیْنَا مِنْ بَعْضِ بُیُوتِ نِسَائِہِ، قَالَ: فَقُمْنَا مَعَہُ فَانْقَطَعَتْ نَعْلُہُ فَتَخَلَّفَ عَلَیْہَا عَلِیٌّیَخْصِفُہَا، فَمَضٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَضَیْنَا مَعَہُ، ثُمَّ قَامَ یَنْتَظِرُہُ وَقُمْنَا مَعَہُ، فَقَالَ: ((إِنَّ مِنْکُمْ مَنْ یُقَاتِلُ عَلٰی تَأْوِیلِ ہٰذَا الْقُرْآنِ کَمَا قَاتَلْتُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَمَا قَاتَلَ) عَلٰی تَنْزِیلِہِ))، فَاسْتَشْرَفْنَا وَفِینَا أَ بُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ: ((لَا وَلٰکِنَّہُ خَاصِفُ النَّعْلِ۔)) قَالَ: فَجِئْنَا نُبَشِّرُہُ، قَالَ: وَکَأَ نَّہُ قَدْ سَمِعَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کررہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک بیوی کے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ کا جوتا ٹوٹ گیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کی مرمت کے لئے پیچھے رک گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے رہے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلتے رہے، پھر آپ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے انتظار میں کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ اس قرآن مجید کی تاویل و تفسیر کے مطابق لڑیں گے، جیسے میں لڑا ہوں۔ ہم نے گردنیں اٹھا کر دیکھا کیونکہ ہمارے اندر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ آدمی تو جوتا مرمت کرنے والا ہے۔ پس ہم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خوشخبری سنانے کے لیے ان کے پاس گئے، تو گویا اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے الفاظ پہلے ہی سنے ہوئے تھے (اس لیے خوشی کا اظہار نہیں کیا)۔

8467

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8467

Sahih

۔ (۸۴۶۷)۔ عَنْ أَ بِی أُمَامَۃَ الْبَاھِلِّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ (وَفِی رِوَایَۃٍ إِذَا دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ مِنَ اللَّیْلِ) کَبَّرَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیّدناابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور نماز میںداخل ہوتے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ لاا لہ الا اللّٰہ او رتین مرتبہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ پھر یہ پڑھتے: أَ عُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔

8468

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8468

Sahih

۔

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کررہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ایک بیوی کے گھر سے نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ کا جوتا ٹوٹ گیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کی مرمت کے لئے پیچھے رک گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے رہے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چلتے رہے، پھر آپ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے انتظار میں کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ اس قرآن مجید کی تاویل و تفسیر کے مطابق لڑیں، جیسے میں لڑا ہوں۔ ہم نے گردنیں اٹھا کر دیکھا کیونکہ ہمارے اندر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ آدمی تو جوتا مرمت کرنے والا ہے۔ پس ہم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خوشخبری سنانے کے لیے ان کے پاس گئے، تو گویا اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے الفاظ پہلے ہی سنے ہوئے تھے (اس لیے خوشی کا اظہار نہیں کیا)۔