Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8463
۔ (۸۴۶۳)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ یَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((إِنَّمَا أَ خَافُ عَلٰی أُمَّتِی الْکِتَابَ وَاللَّبَنَ۔)) قَالَ: قِیلَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا بَالُ الْکِتَابِ؟ قَالَ: ((یَتَعَلَّمُہُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ یُجَادِلُونَ بِہِ الَّذِینَ آمَنُوا۔)) فَقِیلَ: وَمَا بَالُ اللَّبَنِ؟ قَالَ: ((أُنَاسٌ یُحِبُّونَ اللَّبَنَ، فَیَخْرُجُونَ مِنْ الْجَمَاعَاتِ، وَیَتْرُکُونَ الْجُمُعَاتِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۵۱)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر کتاب اور دودھ کے بارے میں ڈر ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کتاب کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے منافق بھی سیکھتے ہیں، پھر اس کے ذریعے ایمانداروں سے جھگڑتے ہیں۔ پھر کسی نے کہا: دودھ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ دودھ پینے کے لئے باہر وادیوں میں چلے جائیں گے اور جماعت سے خارج ہو جائیں گے اور جمعہ چھوڑ دیں گے۔