Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 142 · Chapter 1485

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

ہاتھ اور پیشانی کابوسہ لینے کا بیان

3 hadiths in this chapter

8314

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8314

Sahih

(۸۳۱۴)۔قَالَ حَدَّثَنَا یُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمٰنِ قَالَ أَبِی وَقَالَ غَیْرُ یُونُسَ بْنِ رَزِینٍ أَنَّہُ نَزَلَ الرَّبَذَۃَ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ یُرِیدُونَ الْحَجَّ قِیلَ لَہُمْ ہَاہُنَا سَلَمَۃُ بْنُ الْأَکْوَعِ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَأَتَیْنَاہُ فَسَلَّمْنَا عَلَیْہِ ثُمَّ سَأَلْنَاہُ فَقَالَ بَایَعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم بِیَدِی ہٰذِہِ وَأَخْرَجَ لَنَا کَفَّہُ کَفًّا ضَخْمَۃً، قَالَ فَقُمْنَا إِلَیْہِ فَقَبَّلْنَا کَفَّیْہِ جَمِیعًا۔ (مسند احمد: ۱۶۶۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبدالرحمن کہتے ہیں:میرے باپ اور ان کے ساتھی ربذہ مقام میں اترے،وہ حج کے ارادے سے جا رہے تھے، انہیں بتلایا گیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی یہاں ہیں، پس ہم ان کے پاس آئے ہم نے انہیں سلام کہا، پھر ان سے کچھ سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے ہاتھ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، پھر انھوں نے اپنی پر گوشت ہتھیلی ہماے سامنے ظاہر کی، پس ہم ان کی طرف اٹھے اور ان کی دونوں ہتھیلیوں کا بوسہ لیا۔

8315

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8315

Zaeef

(۸۳۱۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: کُنْتُ فِی سَرِیَّۃٍ مِنْ سَرَایَا رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَحَاصَ النَّاسُ حَیْصَۃً، وَکُنْتُ فِیمَنْ حَاصَ، فَقُلْنَا: کَیْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنْ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ دَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ فَبِتْنَا ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم، فَإِنْ کَانَتْ لَہُ تَوْبَۃٌ وَإِلَّا ذَہَبْنَا، فَأَتَیْنَاہُ قَبْلَ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَخَرَجَ فَقَالَ: ((مَنِ الْقَوْمُ؟)) قَالَ: فَقُلْنَا نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، قَالَ: ((لَا بَلْ أَنْتُمْ الْعَکَّارُونَ، أَنَا فِئَتُکُمْ، وَأَنَا فِئَۃُ الْمُسْلِمِینَ۔)) قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ حَتّٰی قَبَّلْنَا یَدَہُ۔ (مسند أحمد: ۵۳۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا میں سے ایک سریّہ کی بات ہے، میں خود بھی اس میں تھا، لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا اور میں بھی فرار اختیار کرنے والوں میں سے تھا، پھر ہم نے کہا: اب ہم کیا کریں، ہم تو لڑائی سے بھاگے ہیں اور غضب ِ الہی کے ساتھ لوٹے ہیں، پھر ہم نے کہا: اب ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں اور اندر جا کر رات گزاریں، لیکن پھر ہمارے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کرتے ہیں، اگر توبہ کا حق ہوا تو ٹھیک، وگرنہ ہم چلے جائیں گے، پس ہم نمازِ فجر سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے تو پوچھا: کون لوگ ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہم ہیں، لڑائی سے بھاگ کر آ جانے والے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ تم تو قتال کی طرف پلٹ جانے والے ہو اور میں تمہارا مدد گار ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی پناہ گاہ اور ان کا مددگار ہوں۔ پس ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بوسہ لیا۔

8316

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8316

Zaeef

(۸۳۱۶)۔عَنْ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ رضي الله عنه اَنَّہٗ رَاٰی فِیْ مَنَامِہٖ اَنَّہٗ یُقَبِّلُ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم، فَاَتَی النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم فَاَخْبَرَہٗ بِذٰلِکَ، فَنَاوَلَہُ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَبَّلَ جَبْہَتَہٗ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بوسہ دے رہا ہوں، میں نے حاضر ہو کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود کو ان پر پیش کیا اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا۔