Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 142 · Chapter 1486

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان

4 hadiths in this chapter

8317

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8317

Sahih

۔

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ کے یہودی سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فیصلہ پر متفق ہو گئے،(یعنی وہ جو فیصلہ کریں گے، ان کو منظور ہو گا)، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجا، پس وہ گدھے پر سوار ہو کر آ گئے اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ نے فرمایا: اے سعد! یہ بنو قریظہ کے یہودی تمہارے فیصلہ پر راضی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں (اور بیویوں) کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد تم نے تو وہ فیصلہ کیا ہے، جو اللہ بادشاہ کا فیصلہ ہے۔

8317

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8317

Sahih

۔

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نمودار ہوئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جائو اور انہیں نیچے اتارو۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمارا سید اور سردار تو اللہ تعالیٰ ہے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں اتارو۔ پس انھوں نے ان کو اتارا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سعد! ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔ …۔

8318

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8318

Sahih

(۸۳۱۸)۔عَنْ اَنَسٍ قَالَ: مَا کَانَ شَخْصٌ اَحَبَّ اِلَیْہِمْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم، وَکَانُوْا اِذَا رَاَوْہٗ لَمْ یَقُوْمُوْا لِمَا یَعْلَمُوْنَ مِنْ کَرَاھِیَتِہٖ لِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بڑھ کر صحابۂ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کوئی شخص زیادہ پیارا نہ تھا، لیکن جب وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتے تھے تو وہ کھڑے نہ ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس چیز کو پسند نہیں کرتے۔

8319

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8319

Sahih

(۸۳۱۹)۔عَنْ اَبِیْ مِجْلَزٍ اَنَّ مُعَاوِیَۃَ دَخَلَ بَیْتًا فِیْہِ ابْنُ عَامِرٍ وَابْنُ الزُّبَیْرِ، فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَجَلَسَ ابْنُ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ لَہٗ مُعَاوِیَۃُ: اجْلَسْ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَمْثُلَ لَہُ الْعِبَادُ قِیَامًا فَلْیَتَبَوَّأْ بَیْتًا فِی النَّارِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((فَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک گھر میں داخل ہوئے، اس میں ابن عامر اور ابن زبیر بھی موجود تھے، ابن عامر تو کھڑے ہو گئے، لیکن ابن زبیر بیٹھے رہے، ان سے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم بھی بیٹھ جاؤ، کیونکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس کی یہ خواہش ہو کہ بندے اس کے لئے کھڑے ہوں تو وہ اپنا گھر دوزخ میں تیار کر لے۔