Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 142 · Chapter 1483

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان مصافحہ اور معانقہ کا بیان

5 hadiths in this chapter

8305

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8305

Sahih

(۸۳۰۵)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَحَدُنَا یَلْقٰی صَدِیْقَہٗ اَ یَنْحَنِیْ لَہٗ؟ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لَا۔))قَالَ: فَیَلْتَزِمُہٗ وَیُقَبِّلُہٗ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: فَیُصَافِحُہٗ؟ قَالَ: ((نَعَمْ اِنْ شَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۰۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب کوئی آدمی اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا اسے اس کے لیے جھکنا چاہئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے پھر پوچھا: کیا اس سے معانقہ کرے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا اس سے مصافحہ کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر چاہے تو۔

8306

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8306

Zaeef

(۸۳۰۶)۔عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَکْوَانَ حَدَّثَنِی أَیُّوبُ بْنُ بُشَیْرٍ عَنْ فُلَانٍ الْعَنَزِیِّ وَلَمْ یَقُلْ الْغُبَرِیِّ (وَفِیْ لَفْظٍ: عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَ) أَنَّہُ أَقْبَلَ مَعَ أَبِی ذَرٍّ فَلَمَّا رَجَعَ تَقَطَّعَ النَّاسُ عَنْہُ فَقُلْتُ: یَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّی سَائِلُکَ عَنْ بَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِنْ کَانَ سِرًّا مِنْ سِرِّ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمْ أُحَدِّثْکَ، قُلْتُ لَیْسَ بِسِرٍّ وَلٰکِنْ کَانَ إِذَا لَقِیَ الرَّجُلَ یَأْخُذُ بِیَدِہِ یُصَافِحُہُ قَالَ: عَلَی الْخَبِیرِ سَقَطْتَ، لَمْ یَلْقَنِی قَطُّ إِلَّا أَخَذَ بِیَدِی (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَا لَقِیْتُہٗ قَطُّ اِلَّا صَافَحَنِیْ) غَیْرَ مَرَّۃٍ وَاحِدَۃٍ، وَکَانَتْ تِلْکَ آخِرَہُنَّ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَأَتَیْتُہُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَھُوَ عَلٰی سَرِیْرٍ لَہٗ) فِی مَرَضِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ، فَوَجَدْتُہُ مُضْطَجِعًا فَأَکْبَبْتُ عَلَیْہِ فَرَفَعَ یَدَہُ فَالْتَزَمَنِی صلى الله عليه وآله وسلم (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فَکَانَتْ اَجْوَدَ وَاَجْوَدَ)۔ (مسند احمد: ۲۱۷۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ بنو عنز قبیلے کا ایک آدمی بیان کرتا ہے، میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ آیا، جب وہ واپس ہوئے تو لوگ ان سے علیحدہ ہوئے اور میں نے کہا: اے ابوذر! میں آپ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض امور کے بارے میں سوال کرتا ہوں۔انہوں نے کہا: لیکن اگر وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا راز ہوا تو میں تمہیں نہیں بتاؤں گا، میں نے کہا: رازدارانہ معاملہ نہیں ہے،بات یہ ہے جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملتا ہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے، کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: تو نے واقعی باخبر آدمی سے سوال کیا ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی مجھے ملے ہیں، ہمیشہ میرا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کیا ہے، البتہ ایک بار مصافحہ نہیں کیا تھا، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی کے آخری لمحات میں ہوا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی چارپائی پر تھے، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے، میں نے آپ کو لیٹا ہوا پایا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھکا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور مجھے ساتھ لگا لیا، یہ انداز تو مصافحہ سے کس قدر بہتر اور عمدہ تھا۔

8307

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8307

Sahih

(۸۳۰۷)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ الْتَقَیَا فَأَخَذَ أَحَدُہُمَا بِیَدِ صَاحِبِہِ إِلَّا کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یَحْضُرَ دُعَائَہُمَا وَلَا یُفَرِّقَ بَیْنَ أَیْدِیہِمَا حَتَّی یَغْفِرَ لَہُمَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو مسلمان جب آپس میں ملتے ہیں اور ایک ان میں سے دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ ان کی دعا میں شریک ہو (یعنی قبول کرے) اور ان کے ہاتھوں کو اس وقت تک جدا نہ کرے،، جب تک ان کو بخش نہ دے۔

8308

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8308

Zaeef

(۸۳۰۸)۔عَنْ أَبِی دَاوُدَ قَالَ: لَقِیتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ فَسَلَّمَ عَلَیَّ وَأَخَذَ بِیَدِی وَضَحِکَ فِی وَجْہِی قَالَ: تَدْرِی لِمَ فَعَلْتُ ہٰذَا بِکَ؟ قَالَ: قُلْتُ لَا أَدْرِی وَلٰکِنْ لَا أَرَاکَ فَعَلْتَہُ إِلَّا لِخَیْرٍ قَالَ إِنَّہُ لَقِیَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ بِی مِثْلَ الَّذِی فَعَلْتُ بِکَ فَسَأَلَنِی فَقُلْتُ مِثْلَ الَّذِی قُلْتَ لِی فَقَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَلْتَقِیَانِ فَیُسَلِّمُ أَحَدُہُمَا عَلٰی صَاحِبِہِ وَیَأْخُذُ بِیَدِہِ لَا یَأْخُذُہُ إِلَّا لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَتَفَرَّقَانِ حَتّٰی یُغْفَرَ لَہُمَاَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو داؤد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملا، انہوں نے مجھے سلام کہا، میرا ہاتھ پکڑا،مسکرائے اور کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: معلوم تو نہیں ہے! لیکن میرا یقین ہے تم نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس میں خیر ہی ہو گی، پھر انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے ملے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا، جس طرح میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھ سے اسی طرح پوچھا تھا، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی پر سلام کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے، لیکن یہ عمل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، تو وہ ابھی تک جدا نہیں ہوتے، کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیا جاتا ہے۔

8309

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8309

Sahih

(۸۳۰۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُولُ: بَلَغَنِی حَدِیثٌ عَنْ رَجُلٍ سَمِعَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَاشْتَرَیْتُ بَعِیرًا ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَیْہِ رَحْلِی فَسِرْتُ إِلَیْہِ شَہْرًا حَتَّی قَدِمْتُ عَلَیْہِ الشَّامَ، فَإِذَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُنَیْسٍ فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ: قُلْ لَہُ جَابِرٌ عَلَی الْبَابِ، فَقَالَ: ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَخَرَجَ یَطَأُ ثَوْبَہٗ، فَاعْتَنَقَنِیْ وَاعْتَنَقْتُہٗ، قُلْتُ: حَدِیْثٌ بَلَغَنِیْ عَنْکَ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہمابیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک حدیث اس آدمی سے پہنچی، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی،پس میں نے سواری خریدی، پھر میں نے اس پر کجا وہ باندھ کر ایک ماہ کا سفر کیا، یہاں تک کہ میں اس کے پاس شام پہنچ گیا، وہ سیدنا عبداللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے دربان سے کہا: عبداللہ سے کہو کہ جابر ملاقات کے لئے دروازے پر حاضر ہے، انھوں نے پوچھا: عبداللہ کا بیٹا جابر،میں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنا کپڑا روندتے ہوئے باہر آئے اور وہ مجھ سے بغلگیر ہو گئے اور میں ان سے بغلگیر ہو گیا، پھر میں نے کہا: جی مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی ہے (وہ براہِ راست سننے کے لیے آیا ہوں)، پھر ایک طویل حدیث ذکر کی۔