Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 142 · Chapter 1482

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے

5 hadiths in this chapter

8300

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8300

Sahih

(۸۳۰۰)۔عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ کُنْتُ فِی حَلْقَۃٍ مِنْ حِلَقِ الْأَنْصَارِ فَجَائَنَا أَبُو مُوسٰی کَأَنَّہُ مَذْعُورٌ فَقَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَمَرَنِی أَنْ آتِیَہُ فَأَتَیْتُہُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ یُؤْذَنْ لِی فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ ذٰلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَنِ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہُ فَلْیَرْجِعْ۔)) فَقَالَ لَتَجِیئَنَّ بِبَیِّنَۃٍ عَلَی الَّذِی تَقُولُ وَإِلَّا أَوْجَعْتُکَ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ فَأَتَانَا أَبُو مُوسٰی مَذْعُورًا أَوْ قَالَ فَزِعًا فَقَالَ: أَسْتَشْہِدُکُمْ، فَقَالَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: لَا یَقُومُ مَعَکَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ وَکُنْتُ اَصْغَرَھُمْ فَقُمْتُ مَعَہٗ وَشَہِدْتُّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((مَنِ اسْتَاْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہٗ فَلْیَرْجِعْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں انصار کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہواتھا کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آئے اور وہ کچھ ڈرے ڈرے سے لگ رہے تھے، دراصل سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو اپنے پاس بلایا تھا، پس میں ان کے پاس آیا اور تین بار اجازت طلب کی، لیکن جب مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس پلٹ گیا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ کسی سے اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔ جب میں نے یہ حدیث سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتلائی تو انھوں نے کہا: اس بات کی دلیل لاؤ، وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، پس میں گواہی طلب کرنے کے لیے آیا ہوں، سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس پر ہم میں جو سب سے چھوٹا ہے، وہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا، سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ہی سب سے چھوٹا تھا، پس میں کھڑا ہوا اور یہ گواہی دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔

8301

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8301

Sahih

(۸۳۰۱)۔عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ أَنَّ أَبَا مُوسٰی اسْتَأْذَنَ عَلٰی عُمَرَ رضي الله عنه ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہُ فَرَجَعَ فَقَالَ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ آنِفًا؟ قَالُوا: بَلٰی، قَالَ فَاطْلُبُوہُ قَالَ فَطَلَبُوہُ فَدُعِیَ فَقَالَ: مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ یُؤْذَنْ لِی فَرَجَعْتُ کُنَّا نُؤْمَرُ بِہٰذَا فَقَالَ لَتَأْتِیَنَّ عَلَیْہِ بِالْبَیِّنَۃِ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ قَالَ فَأَتٰی مَسْجِدًا أَوْ مَجْلِسًا لِلْأَنْصَارِ فَقَالُوا: لَا یَشْہَدُ لَکَ إِلَّا أَصْغَرُنَا، فَقَامَ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ فَشَہِدَ لَہُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ خَفِیَ ہٰذَا عَلَیَّ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم أَلْہَانِی عَنْہُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبید بن عمبیر بیان کرتے ہیں سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر جا کر تین مرتبہ اندر جانے کی اجازت طلب کی، لیکن جب اجازت نہ ملی تو وہ واپس ہو لئے، سیدنا عمر نے کہا: کیا میں ابھی ابو موسی عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سن رہا تھا، گھر والوں نے کہا: کیوں نہیں، یہ وہی تھے، انھوں نے کہا: اسے بلاؤ، پس بلایا گیا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے پوچھا:جو کچھ تم نے کیا ہے، کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ سے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت طلب کی ہے، مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں واپس جا رہا تھا، ہمیں یہی حکم ملا ہے، سیدنا عمر نے کہا: اس پر دلیل لاؤ وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، سیدنا ابو موسیٰ مسجد میں آئے یا انصار کی مجلس میں گئے اور گواہ کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا: ہمارا سب سے چھوٹا بندہ ہی تیرے حق میں گواہی دے گا، پس سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھے اور ان کے حق میں گواہی دی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہ سنت مجھ سے مخفی رہ گئی ہے، بازاروں کی تجارت نے ہمیں غافل کر دیا۔

8302

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8302

Sahih

(۸۳۰۲)۔عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسٍ أَوْ غَیْرِہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم اسْتَأْذَنَ عَلٰی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ فَقَالَ: ((اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔)) فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَلَمْ یُسْمِعِ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم حَتّٰی سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَیْہِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ یُسْمِعْہُ فَرَجَعَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم وَاتَّبَعَہُ سَعْدٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی! مَا سَلَّمْتَ تَسْلِیمَۃً إِلَّا ہِیَ بِأُذُنِی وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَیْکَ وَلَمْ أُسْمِعْکَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَکْثِرَ مِنْ سَلَامِکَ وَمِنَ الْبَرَکَۃِ ثُمَّ أَدْخَلَہُ الْبَیْتَ فَقَرَّبَ لَہُ زَبِیبًا فَأَکَلَ نَبِیُّ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((أَکَلَ طَعَامَکُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَأَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اور فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ ، انھوں نے جوابا وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ تو کہا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں سنایا، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ سلام کہا اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی تین بار ہی جواب دیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہیں سنایا،بالآخر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹ آئے اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیچھے ہو لئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب بھی آپ نے سلام کہا، میں نے جواب دیا، مگر آپ کو سنایا نہیں تھا، دراصل میں زیادہ سے زیادہ آپ کا سلام اور برکت حاصل کرنا چاہتا تھا، پھر وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گھر میں لے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے منقّی پیش کیا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھایا اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: أَکَلَ طَعَامَکُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَأَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُونَ (نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، فرشتے تمہارے حق میں رحمت کی دعا کریں اور روزے دار تمہارے ہاں افطاری کریں)۔

8303

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8303

Sahih

(۸۳۰۳)۔عَنْ أَبِی سَعِیدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((إِذَا أَتٰی أَحَدُکُمْ حَائِطًا فَأَرَادَ أَنْ یَأْکُلَ فَلْیُنَادِ یَا صَاحِبَ الْحَائِطِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَہُ وَإِلَّا فَلْیَأْکُلْ وَإِذَا مَرَّ أَحَدُکُمْ بِإِبِلٍ فَأَرَادَ أَنْ یَشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِہَا فَلْیُنَادِ یَا صَاحِبَ الْإِبِلِ أَوْ یَا رَاعِیَ الْإِبِلِ فَإِنْ أَجَابَہُ وَإِلَّا فَلْیَشْرَبْ وَالضِّیَافَۃُ ثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ فَمَا زَادَ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی کے باغ میں جائے اور وہ وہاں سے سے کھانا چاہے تو یوں آواز دے: اے باغ کے مالک! تین مرتبہ آواز دے، اگر وہ جواب دے تو ٹھیک ہے، وگرنہ وہ باغ سے کھا لے اور جب تم میں سے کوئی اونٹوں کے قریب سے گزرے اور ان اونٹنیوں کا دودھ پینا چاہے تو آواز دے: اے اونٹوں کے مالک! یا اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ جواب دے تو درست ہے، وگرنہ وہ دودھ (دوہ کر) پی لے، مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے،اس سے زیادہ مہمان پر صدقہ ہو گا۔

8304

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8304

Sahih

(۸۳۰۴)۔عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم کَانَ اِذَا تَکَلَّمَ بِکَلِمَۃٍ رَدَّدَھَا ثَلَاثًا وَاِذَا اَتٰی قَوْمًا فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۱۳۲۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کلام کرتے تو اس کلام کو تین بار دوہراتے، اسی طرح جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو سلام کہتے تو ان کو تین دفعہ سلام کہتے۔