Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 142 · Chapter 1481

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

8296

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8296

Sahih

(۸۲۹۶)۔أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَہُ أَنَّ کَلَدَۃَ بْنَ الْحَنْبَلِ أَخْبَرَہُ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ بَعَثَہُ فِی الْفَتْحِ بِلَبَنٍ وَجَدَایَۃٍ وَضَغَابِیسَ، وَالنَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم بِأَعْلَی الْوَادِی قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ وَلَمْ أُسَلِّمْ وَلَمْ َٔسْتَأْذِنْ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِرْجِعْ فَقُلْ السَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَدْخُلُ۔)) بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِی ہٰذَا الْخَبَرَ أُمَیَّۃُ بْنُ صَفْوَانَ وَلَمْ یَقُلْ سَمِعْتُہُ مِنْ کَلَدَۃَ قَالَ الضَّحَّاکُ وَابْنُ الْحَارِثِ وَذٰلِکَ بَعْدَمَا أَسْلَمَ وَقَالَ الضَّحَّاکُ وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْحَارِثِ بِلَبَنٍ وَجَدَایَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ کلدہ بن حنبل کہتے ہیں: سیدنا صفوان بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مکہ فتح کے وقت دودھ، ہرنی کے بچے کا گوشت اور چھوٹی ککڑیاں دے کر مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھیجا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ کی بلند وادی کی جانب تھے،میں سلام کہے اور اجازت لیے بغیر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس داخل ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، السلام علیکم کہو اور پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں۔ عمرو نے بتایا کہ یہ واقعہ مجھے امیہ بن صفوان نے بتایا تھا، میں نے کلدہ سے نہیں سنا تھا، ضحاک اور ابن حارث نے کہا: یہ صفوان کے اسلام لانے کے بعد کی بات ہے، ضحاک اور عبداللہ بن حارث نے دودھ اور ہرنی کے گوشت بھیجنے کا کہا ہے، ککڑی کا ذکرنہیں۔

8297

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8297

Sahih

(۸۲۹۷)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ قَالَ: أَرْسَلَنِی أَبِی إِلَی ابْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ: أَأَدْخُلُ، فَعَرَفَ صَوْتِی فَقَالَ: أَیْ بُنَیَّ إِذَا أَتَیْتَ إِلٰی قَوْمٍ فَقُلْ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ فَإِنْ رَدُّوا عَلَیْکَ، فَقُلْ: أَأَدْخُلُ قَالَ ثُمَّ رَأٰی ابْنَہُ وَاقِدًا یَجُرُّ إِزَارَہُ، فَقَالَ: ارْفَعْ إِزَارَکَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُولُ: ((مَنْ جَرَّ ثَوْبَہُ مِنْ الْخُیَلَاء ِ لَمْ یَنْظُرِ اللّٰہُ إِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۴۸۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس بھیجا، میں نے ان سے کہا: کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہا: اے بیٹے! جب کسی قوم کے پاس آؤ تو پہلے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہو، اگر وہ جواب دیں تو پوچھو کہ کیا میں داخل ہو سکتا ہوں، پھر انھوں نے اپنے بیٹے واقد کو دیکھا کہ وہ تہبند گھسیٹ رہا تھا، پس انھوں نے کہا: اپنا تہبند اوپر اٹھا لے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی تکبر سے اپنا لباس گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔

8298

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8298

Sahih

(۸۲۹۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَائَ عُمَرُ رضي الله عنه اِلَی النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم وَھُوَ فِیْ مَشْرُبَۃٍ، فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ، اَ یَدْخُلُ عُمَرُ؟ (مسند احمد: ۲۷۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے،جبکہ آپ ایک بالا خانے میں تشریف فرما تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ،اے اللہ کے رسول! اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ،کیا عمر اندر آ سکتا ہے؟

8299

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8299

Sahih

(۸۲۹۹)۔عَنْ یَزِیدَ بْنِ خُمَیْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی مُوسٰی قَالَ أَرْسَلَنِی مُدْرِکٌ أَوْ ابْنُ مُدْرِکٍ إِلٰی عَائِشَۃَ أَسْأَلُہَا عَنْ أَشْیَائَ قَالَ فَأَتَیْتُہَا فَإِذَا ہِیَ تُصَلِّی الضُّحٰی فَقُلْتُ أَقْعُدُ حَتّٰی تَفْرُغَ فَقَالُوا ہَیْہَاتَ فَقُلْتُ لِآذِنِہَا کَیْفَ أَسْتَأْذِنُ عَلَیْہَا فَقَالَ قُلْ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِینَ السَّلَامُ عَلَی أُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ أَوْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم، السَّلَامُ عَلَیْکُمْ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَیْہَا فَسَأَلْتُہَا، اَلْحَدِیْثُ سَیَاْتِیْ بِتَمَامِہٖ فِیْ فَتَاوٰی عَائِشَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن موسیٰ کہتے ہیں: مجھے مدرک نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس بھیجا، تاکہ میں کچھ اشیاء کے بارے میں ان سے پوچھوں، جب میں ان کے پاس آیا تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں بیٹھ گیا تا کہ وہ نماز سے فارغ ہو جائیں، انہوں نے کہا: بہت دیر کر دی ہے،پس میں نے اجازت دینے والے سے کہا: میں ان سے کس طرح اجازت طلب کروں، اس نے کہا: تم اس طرح کہو:اے نبی آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور برکت ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر،سلامتی ہو امہات المؤمنین یا ازواجِ رسول پر، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ، پھر میں سیدہ کے پاس چلا گیا۔ مکمل حدیث فتاوی عائشہ میں آ رہی ہے۔