Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 142 · Chapter 1480

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان

4 hadiths in this chapter

8292

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8292

Sahih

(۸۲۹۲)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنْتُ اَخْدُمُ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم فَکُنْتُ اَدْخُلُ عَلَیْہِ بِغَیْرِ اِذْنٍ، فَجِئْتُ ذَاتَ یَوْمٍ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((یَا بُنَیَّ! اِنَّہٗ قَدْ حَدَثَ اَمْرٌ، فَلَا تَدْخُلْ عَلَیَّ اِلَّا بِاِذْنٍ)) (مسند احمد: ۱۳۲۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت پر مامور تھا، سو میں آپ کے پاس اجازت کے بغیر آ جاتا تھا، میں ایک دن (روٹین کے مطابق) داخل ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیارے بیٹے! ایک نیا حکم نافذ ہو گیا ہے، پس تو اجازت کے بغیرمیرے پاس نہ آنا۔

8293

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8293

Zaeef

(۸۲۹۳)۔عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((الدَّارُ حَرَمٌ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَیْکَ حَرَمَکَ فَاقْتُلْہٗ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا گھر تیرے لیے حرم کی حیثیت رکھتا ہے،اس لیے جو آدمی تیرے حرم میں (بغیر اجازت کے) داخل ہو جائے، اس کو قتل کر دے۔

8294

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8294

Sahih

(۸۲۹۴)۔عَنْ مَوْلًی لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَرْسَلَہُ إِلٰی عَلِیٍّ یَسْتَأْذِنُہُ عَلَی امْرَأَتِہِ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ فَأَذِنَ لَہُ فَتَکَلَّمَا فِی حَاجَۃٍ فَلَمَّا خَرَجَ الْمَوْلٰی سَأَلَہُ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ عَمْرٌو نَہَانَا رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم أَنْ نَسْتَأْذِنَ عَلَی النِّسَاء ِ إِلَّا بِإِذْنِ َٔزْوَاجِہِنَّ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے غلام کو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی جانب بھیجا تاکہ یہ ان کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی عمرو کے لئے اجازت طلب کرے، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے ضرورت کے مطابق بات کی، جب وہ باہر نکلے تو غلام نے اس کی وجہ پوچھی کہ عمرو بغیر اجازت کے سیدہ اسماء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس داخل کیوں نہیں ہوئے، سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہاکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کی بیوی سے بات کرنے کے لیے اس سے اجازت لینے سے منع فرمایا، الا یہ کہ پہلے ان کے خاوندوں سے اجازت لی جائے۔

8295

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8295

Sahih

(۸۲۹۵)۔عَنْ أَبِی صَالِحٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلَی فَاطِمَۃَ فَأَذِنَتْ لَہُ، قَالَ: ثَمَّ عَلِیٌّ؟ قَالُوا: لَا قَالَ فَرَجَعَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَیْہَا مَرَّۃً أُخْرٰی فَقَالَ: ثَمَّ عَلِیٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ فَدَخَلَ عَلَیْہَا فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ: مَا مَنَعَکَ أَنْ تَدْخُلَ حِینَ لَمْ تَجِدْنِی ہَاہُنَا؟ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَی الْمُغِیبَاتِ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت تو دے دی، لیکن سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اِدھر علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی وہ نہیں ہیں،پس سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ واپس چلے گئے، اور پھر دوبارہ اجازت طلب کی اور پوچھا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود ہیں؟ کسی نے کہا: جی ہیں، پھر وہ آئے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے پوچھا: جب میں نہیں تھا تو آپ کیوں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان عورتوں کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے، جن کے خاوند گھر پر نہ ہوں۔