Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 142 · Chapter 1478

سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل

اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے

11 hadiths in this chapter

8278

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8278

Sahih

(۸۲۷۸)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((إِذَا سَلَّمَ عَلَیْکَ الْیَہُودِیُّ فَإِنَّمَا یَقُولُ: السَّامُ عَلَیْکَ، فَقُلْ: وَعَلَیْکَ)) وَقَالَ مَرَّۃً: ((إِذَا سَلَّمَ عَلَیْکُمُ الْیَہُودُ، فَقُولُوْا: وَعَلَیْکُمْ، فَإِنَّہُمْ یَقُولُونَ: السَّامُ عَلَیْکُمْ)) (مسند احمد: ۴۵۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب یہودی لوگ تم پر سلام کرتے ہیں تو وہ (اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے) اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کہتے ہیں، اس لیے تم بھی جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا کرو۔

8279

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8279

Sahih

(۸۲۷۹)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِذَا سَلَّمَ عَلَیْکُمُ اَھْلُ الْکِتَابِ فَقُوْلُوْا: وَعَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو سلام کہیں تو تم جواب میں وَعَلَیْکُمْ کہا کرو۔

8280

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8280

Sahih

(۸۲۸۰)۔(وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ یَہُوْدِیًّا اَتَی النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم وَھُوَ مَعَ اَصْحَابِہٖ فَقَالَ: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، فَرَدَّ عَلَیْہِ الْقَوْمُ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((قُلْتَ کَذَا وَکَذَا؟۔)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اِذَا سَلَّمَ عَلَیْکُمْ اَحَدٌ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ فَقُوْلُوْا عَلَیْکَ۔)) اَیْ: عَلَیْکَ مَا قُلْتَ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے اور اس نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ۔ لوگوں نے اس کا جواب دیا، لیکن اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے ایسے ایسے کہا ہیں نا؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب میں سے کوئی تم پر سلام کہے تو تم صرف عَلَیْکَ کہا کرو۔ یعنی جو کچھ تونے کہا، تجھ پر بھی وہی کچھ ہو۔

8281

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8281

Sahih

(۸۲۸۱)۔عَنْ ھِشَامِ بْنِ زَیْدِ بْنِ اَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ اَنَسًا یَقُوْلُ: جَائَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَا اَضْرِبُ عُنُقَہٗ؟ قَالَ: ((لا، اِذَا سَلَّمُوْا عَلَیْکُمْ، فَقُوْلُوْا: وَعَلَیْکُمْ)) (مسند احمد: ۱۳۲۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل کتاب میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں سلام کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بس جب یہ لوگ تم کو سلام کہیں تو تم یہ کہہ کر ان کا جواب دیا کرو: وَعَلَیْکُمْ۔

8282

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8282

Sahih

(۸۲۸۲)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ الْیَہُودَ دَخَلُوا عَلَی النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالُوا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم ((اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ یَا إِخْوَانَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیرِ وَلَعْنَۃُ اللّٰہِ وَغَضَبُہُ، فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَہْ۔)) فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوْا؟ قَالَ: ((أَوَ مَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَیْہِمْ یَا عَائِشَۃُ! لَمْ یَدْخُلِ الرِّفْقُ فِی شَیْئٍ إِلَّا زَانَہُ وَلَمْ یُنْزَعْ مِنْ شَیْئٍ إِلَّا شَانَہُ۔))، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ((اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الرِّفْقَ فِی الْاَمْرِ کُلِّہٖ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی جواباً یہی الفاظ دوہراتے ہوئے فرمایا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم پر موت اور ہلاکت واقع ہو، اور تم پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور غضب برسے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! رک جاؤ۔ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ انہوں نے کہا ہے، کیا وہ آپ نے سنا نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں نے ان کو جو جواب دیا ہے، کیا تم نے وہ نہیں سنا، نرمی جس چیز میں بھی پیدا ہو، وہ اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی کو نکال دیا جائے، تو یہ (نرمی کا نہ ہونا) اسے عیب دار بنا دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔

8283

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8283

Sahih

(۸۲۸۳)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ دَخَلَ نَاسٌ مِنَ الْیَہُودِ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالُوا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ، فَقَالَ: ((عَلَیْکُمْ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: عَلَیْکُمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَلَعْنَۃُ اللَّاعِنِینَ، قَالُوا: مَا کَانَ أَبُوکِ فَحَّاشًا، فَلَمَّا خَرَجُوْا قَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہ صلى الله عليه وآله وسلم: ((مَاحَمَلَکِ عَلٰی مَا صَنَعْتِ؟)) قَالَتْ: اَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوْا؟ قَالَ: ((فَمَا رَاَیْتِیْنِیْ قُلْتُ: عَلَیْکُمْ، اِنَّہُمْ یُصِیْبُھُمْ مَا اَقُوْلُ لَھُمْ، وَلَا یُصِیْبُنِیْ مَا قَالُوْا لِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ (تم پر بھی ہو)۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تم پر ہو اللہ کی لعنت، بلکہ سب لعنت کرنے والوں کی لعنت تم پر ہو۔ انہوں نے کہا: اے عائشہ! تمہارے باپ تو اتنے سخت گو نہ تھے، جب وہ چلے گئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا: جو تو نے سخت الفاظ کہے ہیں، تجھے کس چیز نے ان پر آمادہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے سنا نہیں کہ ان یہودیوں نے کیا کہا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے دیکھا نہیں کہ میں نے بھی جوابا عَلَیْکُمْ کہا تھا، میں ان پر جو بد دعا کروں گا، وہ ان تک پہنچے گی، لیکن مجھ پر جو وہ بد دعا کریں گے، وہ مجھ تک نہیں پہنچے گی۔

8284

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8284

Sahih

(۸۲۸۴)۔عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ دَخَلَ یَھُوْدِیٌّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: السَّامُ عَلَیْکَ یاَ مُحَمَّدُ! فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((وَعَلَیْکَ)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: فَھَمَمْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ، فَعَلِمْتُ کَرَاھِیَۃَ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم لِذٰلِکَ،فَسَکَتُّ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَالَ: السَّامُ عَلَیْکَ، فَقَالَ: ((عَلَیْکَ)) فَھَمَمْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ، فَعَلِمْتُ کَرَاھِیَۃَ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم لِذٰلِکَ، ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ فَقَالَ: السَّامُ عَلَیْکَ: فَلَمْ أَصْبِرْ حَتّٰی قُلْتُ: وَعَلَیْکَ السَّامُ وَغَضَبُ اللّٰہِ وَلَعْنَتُہُ إِخْوَانَ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیْرِ! أَتُحَیُّوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ بِمَا لَمْ یُحَیِّہِ اللّٰہُ؟ فَقاَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: (( إِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ، قَالُوْا قَوْلاً فَرَدَدْنَا عَلَیْھِمْ، إِنَّ الْیَھُوْدَ قَوْمٌ حُسُدٌ، وَإِنَّھُمْ لَا یَحْسُدُوْنَنَا عَلٰی شَیْئٍ کَمَا یَحْسُدُوْنَنَا عَلَی السَّلَامِ، وَعَلٰی آمین۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور (السلام علیکم کی بجائے) کہا:اے محمد! اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ (یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم (آپ پر موت اور ہلاکت پڑے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ناپسندکرنے کی وجہ سے (خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جس انداز میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام نہیں کہا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (یہودیوں) نے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہا اور ہم نے بھی (بد گوئی سے بچتے ہوئے صرف وَعَلَیْکَ کہہ کر) جواب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔

8285

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8285

Sahih

(۸۲۸۵)۔(عَنْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْیَہُودِ عَلَی النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالُوا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ ((وَعَلَیْکُمْ۔)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا وَغَضِبَتْ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: ((بَلٰی قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُہَا عَلَیْہِمْ إِنَّا نُجَابُ عَلَیْہِمْ وَلَا یُجَابُونَ عَلَیْنَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودی لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہنے کے بہانے کہا: اے ابو القاسم ! اَلسَّامُ عَلَیْکَ،آپ نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکُمْ۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا، جبکہ وہ غصے میں تھیں: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے سنا ہے کہ انھوں نے کیا کہا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، میں نے سنا ہے اور میں نے ان کا جواب بھی دے دیا ہے، بات یہ ہے کہ ان کے خلاف ہماری بددعائیں تو قبول ہو جاتی ہیں، لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعائیں قبول نہیں ہوتیں۔

8286

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8286

Sahih

(۸۲۸۶)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِیِّ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: اِذَا اَتٰی بَیْتَ قَوْمٍ اَتَاہُ مِمَّا یَلِیْ جِدَارَہٗ، وَلَا یَاْتِیْہٖ مُسْتَقْبِلًا بَابَہٗ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب لوگوں کے گھر آتے تو اس کی دیوار کے نزدیک کھڑے ہوتے اور اس کے دروازے کے سامنے نہ آتے تھے۔

8287

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8287

Sahih

(۸۲۸۷)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم اِذَا جَائَ الْبَابَ یَسْتَاْذِنُ لَمْ یَسْتَقْبِلْہٗ، یَقُوْلُ: یَمْشِیْ مَعَ الْحَائِطِ حَتّٰی یَسْتَاْذِنَ فَیُوْذَنَ لَہٗ اَوْ یَنْصَرِفَ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اجازت طلب کرنے کے لیے کسی کے گھر کے دروازے پر آتے تو سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیوار کے ساتھ چلتے، یہاں تک کہ اجازت طلب کر لیتے یا پھر واپس چلے جاتے۔

8288

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8288

Sahih

(۸۲۸۸)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ رضي الله عنه قَالَ: اِسْتَاْذَنْتُ عَلَی النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم فقَالَ: ((مَنْ ذَا؟)) فَقُلْتُ: اَنَا، فَقَالَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اَنَا اَنَا۔)) قَالَ مُحَمَّدٌ: کَاَنَّہٗ کَرِہَ قَوْلَہٗ: اَنَا۔ (مسند احمد: ۱۴۲۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں ہوں، میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں، میں … یہ کیا ہوتا ہے۔ محمد راوی کہتے ہیں: گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لفظ میں کو ناپسند کیا۔