Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8259
(۸۲۵۹)۔عَنْ أَبِی تَمِیمَۃَ الْہُجَیْمِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ قَالَ لَقِیتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ وَعَلَیْہِ إِزَارٌ مِنْ قُطْنٍ مُنْتَثِرُ الْحَاشِیَۃِ فَقُلْتُ: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((إِنَّ عَلَیْکَ السَّلَامَ تَحِیَّۃُ الْمَوْتٰی، إِنَّ عَلَیْکَ السَّلَامُ تَحِیَّۃُ الْمَوْتٰی، إِنَّ عَلَیْکَ السَّلَامُ تَحِیَّۃُ الْمَوْتٰی، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ۔)) مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا ہٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۱۶۰۵۱)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا ابو تمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں،وہ کہتا ہے: میں مدینہ کے ایک راستہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا، آپ پر کاٹن کا تہبند تھا، جس کا کنارہ پھیلا ہوا تھا، میں نے کہا: عَلَیْکَ السَّلَامُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! (آپ پر سلام ہو، اے اللہ کے رسول!) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، بیشک عَلَیْکَ السَّلَامُ تو مردوں کا سلام ہے، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ کہا کرو، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ۔ یہ الفاظ بھی دو تین بار دوہرائے۔